سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے

09 ستمبر 2014

سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے
غنچۂ گُل کو دیا ذوقِ تبسم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں میں
جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں میں
(بانگِ درا)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...

سر پہ سبزے

سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نےغنچۂ گُل کو دیا ذوقِ تبسم میں نےفیض سے ...