منگل‘13 ذوالقعدہ 1435 ھ ‘ 9 ؍ستمبر2014ء

09 ستمبر 2014

ماں مان گئی، استعفیٰ عمران خان کے حوالے کر دیا : جمشید دستی! 
اب یہ عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصدیق کرا لیں کہ یہ استعفیٰ بھی کہیں دستی کی ڈگری کی طرح بوگس نہ ہو جس کے باعث ان پر کیس ہوا۔ رہی بات اماں کے ماننے کی تو یقیناً دستی نے کافی پاپڑ بیلے ہوں گے کیونکہ عمر رسیدہ افراد کو منانا خاصہ مشکل کام ہے اور پھر اماں جی کو کیا معلوم اسمبلی کی خرافات کیا ہیں اور برکات کیا ہیں۔ ویسے بھی اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ اسمبلی لاجز میں شراب کی بوتلیں پڑی ملتی ہیں، گانے اور مجرے ہوتے ہیں تو وہ ایک اچھی ماں کی حیثیت سے کبھی اپنے سعادت مند بیٹے کو برائیوں کی آماجگاہ میںجانے کی اجازت ہی نہیں دیتی کیونکہ جہاں شراب، کباب اور شباب ہو وہاں شریف آدمیوں کا کیا کام؟ یہ تو ان لوگوں کی جگہ ہے جنہیں جمشید دستی کے نئے قائد چور، اوباش اور کرپٹ کہتے ہیں اور اسکے ممبر بھی ہیں۔
جمشید دستی نے بھی اس بدنام پارلیمنٹ کا الیکشن لڑا اور جیت کر اسی کا حصہ بھی بنے مگر اب لگتا ہے کفارہ ادا کرنے کیلئے عمران کے ہاتھ میں دوسری بار اپنا استعفیٰ دیدیا ہے۔ اگر واقعی وہ استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو جاوید ہاشمی کی طرح دیتے جنہوں نے اسمبلی جا کر سپیکر کو استعفیٰ دیا اور گھر چلے گئے۔ تماشہ دکھانے کیلئے عمران کو استعفے دینے چہ معنی دارد۔ ابھی تک تو خود عمران بھی مستعفی نہیں ہوئے وہ کونسا استعفیٰ قبول کرنے یا انکارکرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
سیاسی لڑائی میں پاک فوج کو ملوث کرنا افسوسناک ہے : پرویز مشرف!
یہی بات گذشتہ 60 برسوں سے جمہوریت پسند حلقے اور آمریت کے ہاتھوں بار بار ڈسے جانے والے عوام دہراتے چلے آ رہے ہیں مگر طالع آزما جرنیل کبھی ایوب، کبھی ضیاء اور کبھی مشرف کی شکل میں نظریہ ضرورت اور ملک کو بچانے کی آڑ میں سالہا سال عوام کی گردنوں پر پیرِ تسمہ پا بن کر سوار رہتے ہیں اور کوئی انہونی ہی ان سے نجات دلاتی ہے ورنہ عوام تو بس … کوڑے کھاتے، جیلیں بھرتے اور  ہائے ہائے کے نعرے لگاتے رہ جاتے ہیں۔
آج ایک ایسے جرنیل کے منہ سے یہ بیان سُن کر حیرت ہوتی ہے جو خود سیاسی حکومت کا بولو رام کر کے اسلام آباد پر قابض ہوا، فوج کو ایک بار پھر زبردستی سیاست میں گھسیٹ لایا۔
بے شک سیاستدانوں کو کوئی حق نہیں کہ اپنے جمہوری اور سیاسی اختلافات کی دھینگا مشتی میں فوج کو دہائی دیتے پھریں تو پھر فوج کو بھی چاہئے کہ وہ ’’جس کا کام اس کو ساجے‘‘ کے مطابق سیاستدانوں کو اپنا کام کرنے دے اور خود اپنے کام پر توجہ رکھے تو کبھی جمہوری نظام ڈسٹرب نہیں ہو گا۔ آج بھی یارانِ نکتہ یہ اسلام آباد کا ڈرامہ لکھنے والے مصنف اور ڈائریکٹروں میں چند ایک ایڈونچر پسند وردی والوں کو بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ ڈرامے کے اداکار بھی کبھی تیسری قوت، کبھی تھرڈ امپائر جیسے الفاظ استعمال کر کے ان پردہ داروں کو خود ہی شریک طعام ہونے کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ مشرف اپنے پیٹی بھائیوں کو مشورہ دیں کہ  وہ کسی سیاسی جنگ میں ملوث نہ ہوں اور سیاسی جنگ سیاستدانوں کو ہی لڑنے دیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
عمران جان دیدیں گے، وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیر نہیں جائیں گے : شیخ رشید !
اب ایسی بھی کیا جلدی ہے شیخ جی کو کہ وہ عمران خان کی جان کے درپے ہو گئے ہیں۔ اگر وہ عمران کے بعد اسلام آباد میں تحریک انصاف کے نیا پاکستان کی بارات کا دولہا بننے کی سوچ رہے ہیں تو ان کی بہت بڑی بھول ہے، بے شک وہ بارات میں شامل باجا ضرور ہیں مگر عمران خان کے ارد گرد نظر آنے والے چہرے بھی کوئی اناڑی نہیں۔
سب کے سب شیخ جی کی طرح پرانے کھلاڑی ہیں وہ کسی بیرونی حملہ آور کی آمد سے قبل ہی پایہ تخت تک قبضہ کرنے کے فن سے آشنا ہیں۔ اس لئے شیخ جی خواب میں بھی عمران کی جگہ لینے کی نہ سوچیں۔ یہ تو جب تک خان زندہ ہے تو تحریک انصاف کے کنٹینر پر شیخ کی بطور باراتی آئو بھگت ہے ورنہ باقی عہدیداران تو ان کو شاید لفٹ بھی نہ کرائیں اس لئے انہیں دعا کرنی چاہئے کہ عمران خان کا دھرنا جاری رہے اور ان کا شُغل میلہ بھی چلتا ہے۔
 شیخ جی کو ویسے بھی بولنے کی عادت ہے وہ تو لگتا ہے رات کو سوتے میں بھی بولتے یا بڑبڑاتے ہوں گے جبھی تو ہر روز شام کو دھرنے میں آئی خواتین کی طرح بن سنور کر، کپڑے بدل کر دھرنے میں پہنچ جاتے ہیں اور عمران کے پاس کھڑے ہو کر دل پشوری کرتے ہیں تاہم عوام کو یقین ہے کہ نواز شریف رہیں نہ رہیں، عمران اور قادری آئیں یا نہ آئیں سارا پنڈ مر کھپ جائے شیخ نے پھر بھی چودھری نہیں بننا۔
 وزارتِ عالیہ اور صدارتِ غالیہ کا تاج اب ان کے سر نہیں سجنا، اس لئے بہتر ہے کہ وہ عمران کے انکار کے بعد مِیرا کا ہاتھ تھامنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سر پر سہرا سجانے کا اعلان کریں تو اس بہانے چلو چند روز دھرنے کی رونق دوبالا ہو جائے گی اور عوام الناس جوق در جوق اس نایاب جوڑے کو دیکھنے کیلئے دھرنا شو پر ٹوٹ پڑیں گے اور عمران خان بھی خوش ہو جائیں گے کہ دھرنے میں رش بڑھنے لگا ہے اور شیخ جی کا بھی فائدہ ہے کہ قاضی یعنی مولانا قادری بھی موجود ہیں عمران خان و شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک جیسے گواہ بھی دستیاب ہیں۔ ولیمہ بھی شرکاء خود ہی دیں گے اور یوں مفت میں شیخ کا گھر بھی بس جائے گا۔
٭۔٭۔٭