پولیٹیکل موومنٹ سے لیگل موومنٹ تک

09 ستمبر 2014

جہاں فرسٹریشن کے گہرے کالے بادل اوپر اور نیچے قانون کے بجائے نیوٹن کا تیسرا قانون چل رہا ہو تو وہاں جمہوریت یعنی انسانیت کو بھی خطرے کا سامنا ہوتا ہے!!! آج 26 دن سے زائد ہو گئے۔ حکومت آزادی مارچ اور انقلاب مارچ والوں کو تھکا رہی ہے۔ مارچ والے حکومت کو تھکانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد‘ اسلام آباد میں ڈی چوک سے ریڈ زون اور ریڈ زون سے وزیراعظم ہائوس یا ایوان صدر تک سفر کا شوق بھی پورا کر لیا گیا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریری مقابلہ بھی ہو گیا جس میں اعتزاز احسن‘ احسن اقبال‘ شاہ محمود قریشی‘ مشاہد حسین سید اور خورشید شاہ نے ’’پوزیشنیں‘‘ بھی لے لیں۔
 چودھری بمقابلہ چودھری کی قسط بھی چل چکی۔ معیشت بھی ہچکولے لینے کے درپے پہنچ گئی۔ مولانا فضل الرحمن‘ اسفند یار ولی‘ آفتاب شیرپائو‘ محمود خان اچکزئی‘ خورشید شاہ نے بھی خم ٹھونک کر حکومت کی مدد کر لی۔ الطاف حسین نے بھی روایتی یوٹرن سے او ٹرن تک کی مسافت کو بروئے کار لا کر دیکھ لیا۔ جاوید ہاشمی بھی ایک دفعہ پھر باغی ہو چکے حتیٰ کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے مقتولین کے کفن بھی میلے ہونے شروع ہو گئے۔ یہی نہیں‘ سابق صدر آصف علی زرداری اور امیر جماعت اسلامی نے بھی اپنا کردار ادا کر لیا مگر سیاسی ڈیڈلاک جوں کا توں ہے    ؎
سنتا ہوں بڑے غو سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے‘ کچھ اصل ہے‘ کچھ طرزِ ادا ہے
سبھی دانشور اور سارے سیاستدان یورپی جمہوریت اور ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں‘ لیکن خود ایک مثال بننے کی ہمت اور کوشش کوئی نہیں کرتا۔
سیاستدان خوش قسمت ہیں کہ پاکستانی عوام انہیں والہانہ محبت کرتے ہیں‘ لیکن عوام بدقسمت ہیں کہ میاں نوازشریف‘ آصف علی زرداری اور عمران خان ان سے سیاست کرتے ہیں‘ محبت نہیں۔ اس طرح ریاستیں ترقی نہیں کر سکتیں۔
جب تک عوام اور سیاستدانوں میں ربط نہیں بڑھتا‘ تب تک ترقی ممکن نہیں۔ ترقی محض میٹرو‘ دھرنوں اور لانگ مارچ کے تجربوں کا نام نہیں۔ ترقی کے چند موٹے موٹے اصول ہیں جن کو سمجھنے اور پرکھنے کیلئے کسی راکٹ‘ سائنس یا پیچیدہ پولیٹیکل سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
 1۔ قیادت سیاستدانوں کی پہلی صف اور پہلی صف دوسری صف اور دوسری صف عوام سے کتنا سچ بولتی ہے؟ قائدین‘ قیادت اور عوام کے مابین جتنا زیادہ سچ ہوگا‘ ترقی اور خوشحالی اتنی ہی براہ راست متناسب ہوگی۔
 2۔ جھوٹ تو بادشاہت کے نظام میں بھی نہیں چلتا‘ وہی بادشاہتیں قائم ہیں جہاں پر عوام کو بنیادی حقوق میسر ہیں اور قانون کی بالادستی ہے۔ کم از کم عرب ریاستوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جمہوریت کو اگر جھوٹ کا لیبل لگا کر مارکیٹ میں لائیں‘ ووٹ کی قدروقیمت ایک کھوٹے سکے کی ہوگی تو جمہوریت دوگام نہیں چل سکتی۔
 3۔ ریاست کو ماں جیسی کہنے والے اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ ریاست کے دل و دماغ کا نام حکومت ہے۔ گویا ریاست نہیں حکومت ماں ٹھہری۔ اگر ماں نے صرف حکومتی اراکین کیلئے ممتا رکھنی ہے اور اپوزیشن کیلئے کچھ نہیں تو پھر یہ ماں ہے ہی نہیں۔
 4۔ میٹرو دیں نہ دیں‘ تنخواہیں بڑھائیں نہ بڑھائیں‘ لیکن انصاف‘ صحت اور تعلیم کا ذمہ لینا حکومت کا فرض ہے۔ یہ تینوں کام سیاست سے نہیں اخلاص‘ ایمانداری اور خدمت ہی کے سلیقے اور طریقے سے ممکن ہیں۔ باقی سب افسانے ہیں اور افسانوں کا کیا‘ لیکن اس دفعہ    ؎
اسیران بلانے آہ کچھ اس دور سے کھینچی
نگہبان چیخ اٹھے‘ ہل گئی دیوار زنداں کی
وہ لوگ جو اپنے آپ کو زیرک‘ محب وطن‘ قیادت‘ صادق اور امین گردانتے ہیں‘ وہ خود اور ان کے ’’دانشور وکلائ‘‘ ہار اور جیت کے چکر سے نہیں نکل رہے۔
 ذاتی انائوں کی ہار اور جیت نے جمہوریت‘ جمہوری اطوار‘ انصاف اور انصاف کے عمل کو بھی بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔ ملکی سطح پر مرثیہ گوئی اورنوحہ گری کے ساتھ ماتم ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ حکومت‘ عمران اور قادری کے تپائے ہوئے تندور پر زرداری و فضل‘ ولی و شیرپائو‘ محمود و سراج اور الطاف و شجاعت و رشید اپنی اپنی گُلی (روٹی) سینکنے کے درپے ہیں۔ ان سب نے ریاست اور جمہوریت کو چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح ورنہ معاملہ 14 یا 15 اگست 2014ء کو نہ سہی‘ تاہم 16 یا 17 اگست کو ضرور ختم اور حل ہو گیا ہوتا۔
 ’’مارچ‘‘ کو شہر میں گھسیڑ دینے کا مطلب یہی ہے کہ جمہوریت پسندوں اور جمہوریت نوازوں نے اونٹ کو ڈبیا میں بند کردیا ہے۔
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں‘ افسوس کہ اعتزاز احسن‘ احسن اقبال اور نثار علی خان نے قومی اداروں کا فرض نبھانے کے بجائے اپنی اپنی فنکاری کو اسمبلی کے مشترکہ اجلاس ہی میں نہیں سربازار بھی رکھ دیا۔پچھلی دفعہ زرداری دور حکومت میں جب ڈاکٹر طاہرالقادری کنٹینر زدہ ہوئے تو اس وقت کے راجہ مہاراجہ قمر زمان کائرہ نے طاہرالقادری کی نقلیں اتاریں اور بعدازاں معذرت کرنا پڑی۔
 تاریخ سے سبق نہ سیکھا گیا اور اس دفعہ وہی تاریخ اسمبلی فلور پر جناب احسن اقبال نے دہرائی۔ احسن یہ کیوں بھول گئے کہ دن کو اگر یہ مذاق کر رہے ہیں تو رات کو مذاکرات کی ذمہ داری بھی انہی کی ہے۔ بہتر نہ ہوتا کہ اسمبلی کے سٹیج کی ذاتی فنکاری ترک کرکے مذاکرات کی قومی اداکاری کو بہ احسن انداز میں پرفارم کرتے۔ یہ اپنا اور قوم کا اقبال بھی بلند کرتے۔ سنجیدہ حلقے (ن) کے ہوں یا کسی (ق) اور پی پی کے‘ وہ سبھی اور میرے دل ناداں کے سنجیدہ گوشے میں بھی احسن اقبال کی بڑی قدر و قیمت ہے اور وہ گوشہ ان کی فنکاری اور نقل اتاری مہم سے ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے۔
ان متذکرہ تین بڑے ناموں میں کم از کم دو ’’احسن‘‘ ہیں اور تینوں ’’چودھری۔‘‘ صف اول کے‘ تینو ںرہنما اس بات سے آشنا ہیں کہ وہ ملک جس پر ہم ناز کرتے ہیں اور جس کی تاریخ سے ہمیں محبت ہے‘ یہ انہی انائوں‘ انہی احتجاجوں اور انہی عاقبت نااندیشیوں کے سبب ٹکڑے ٹکڑے ہوا تھا…ع
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو؟
ایک بات ذہن کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی پچھلے الیکشن تک تو کوئی سیاسی یا انتخابی جماعت نہ تھی۔ گمان غالب ہے کہ اس کے 18 شہداء میں سے جنہوں نے ووٹ ڈالا‘ ان میں سے اکثریت نے (ن) لیگ کو اور دیگر نے پی ٹی اے اور پی پی پی وغیرہ کو دیا ہوگا۔ ان شہداء کے لواحقین سے بھی انصاف ضروری ہے۔ میاں شہبازشریف کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا میں سب سے مشکل کام فراہمیٔ انصاف ہے۔ آپ گڈ گورننس کے راگ الاپتے ہیں اور یہی مدح سرائی اپنوں سے کرواتے بھی ہیں۔ تو کیجئے انصاف!!! پہلے ہی بہت دیر کر دی آپ نے! ڈاکٹر طاہرالقادری سے بھی التماس ہے کہ آپ کی باتیں تھیوری کے لحاظ سے درست ہیں‘ لیکن عملی انقلاب کے حوالے سے آپ کیلئے کچھ بھی نہیں۔ جایئے اور اپنی تیاری کیجئے!
عمران خان صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ ’’آپ نے اور ڈاکٹر قادری نے بلاشبہ اور بلامبالغہ اصلاحات کی منزل کی جانب جانے والی شاہراہ تعمیر کر دی۔ دھاندلی بھی ’’ثابت‘‘ کر دی۔ آپ کے پرستار بھی مخلص اور متحرک قرار پائے۔ فی الحال وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کو مؤخر کردیں۔ فی الحال اور باقی باتیں مان لیں اور منوا لیں۔ یہ جیت بھی بہت بڑی بلکہ توقع سے بڑی ہے۔ پولیٹیکل موومنٹ کو اب لیگل موومنٹ کا موڑ لینے کی ضرورت ہے!!!‘‘
مشیرانِ حکومت تنائو میں بہت بُرا کھیلے۔ اتنا بُرا کہ چینی صدر کے دورے کا شیڈول اور کینسل ہونا بھی خواص و عوام میں مشکوک ٹھہرا۔ حکومتیں عوام کو اموشنل بلیک میل کرنے سے استحکام نہیں پاتیں بلکہ سچ کی طاقت اور اصول کی ہمت سے مستحکم ہوتی ہیں۔ میں یہ دعوے سے کہتا ہوں ملک و قوم (جی! ملک و قوم) کیلئے میاں نوازشریف‘ آصف علی زرداری‘ عمران خان‘ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ایوان بالا و ایوان زیریں کے اپوزیشن لیڈر سرجوڑ کر بیٹھ جاتے تو مسئلہ کب کا حل ہو گیا ہوتا۔ وقت نے ثابت کیا کہ دیگر حکومتی اراکین کو وزارتی کام سکھائیں۔ مذاکرات کا کام خواجگان‘ چودھری حضرات‘ قریشی حضور‘ ترینوں میئوں اور سیاسی مسکینوں کے بس کا روگ نہیں۔ وہ سب تقریری مقابلہ‘ وزارتیں اور شرارتیں انجوائے کر سکتے ہیں… بس!!!