اسرائیل… ایک ناسُور

09 ستمبر 2014

جولائی اور اگست 2014ء میں اسرائیل نے غزہ میں حشر بپا کئے رکھا۔ سینکڑوں بچوں اور عورتوں کو وحشیانہ بمباری کے دوران لقمۂ اجل بنا دیا گیا۔ لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں، امریکہ، برطانیہ سمیت اقوام متحدہ نے اس بربریت کو رکوانے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی۔ روایتی اقدامات کے تحت بیان بازی ہوئی جس کو اسرائیل نے درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ غزہ وہی علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ اس جنگ میں اسرائیل نے جزیرہ نما سینائی پر قبضہ کر لیا تھا۔ نہر سویز عبور کر کے مصر کے اندر لکسور تک پیش قدمی کر کے مصری فوج کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اس نے مشرقی یروشلم، گولان کی پہاڑیاں، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ بھی اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ ان علاقوں سے انخلاء کے لئے اقوام متحدہ کی قرار داد 292کو اسرائیل نے اہمیت نہ دی۔ اسرائیل نے چوتھے جنیوا کنونشن کو بھی نظرانداز کر دیا جو جنگ میں فاتحین کو قبضہ میں آنے والے علاقوں میں نوآبادیاں قائم کرنے سے منع کرتا ہے۔ اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں میں بستیاں تعمیر کرنا شروع کر دیں۔
14مئی1948ء کو اسرائیل نے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے مسلسل جارحانہ اور استبدادی رویہ اپنا رکھا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی مقدس سرزمین میں اسرائیل کا ناسور پیدا کرنے والے امریکہ اور برطانیہ تھے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسیویں صدی کے اوائل میں دنیا بھر سے یہودی امریکہ کا رخ کر رہے تھے۔ 1920ء میں امریکہ نے یو ایس کوٹا ایکٹ نافذ کیا۔ جس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں یہودی تارکین وطن کا سیلاب پانچ گنا کم کر دیا۔ یوں یہودیوں پر امریکی دروازے تقریباً بند ہونے پر فلسطین کا راستہ ہی کھلا رہ گیا۔ مشرقی اور وسطی یورپ کے یہودی سمجھتے تھے کہ ایک بامعنی زندگی فلسطین میں ہی گذاری جا سکتی ہے جسے وہ اسرائیل کہتے تھے۔ برطانیہ نے بالفور اعلان (1917ئ) میں یہودی قومی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کو 1948ء میں پورا کر دیا گیا۔ اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی اکثریت لانے کی کوششیں تیز تر ہو گئیں۔ ان فلسطینی عربوں کو بتدریج بے دخل کیا جانے لگا جن کے عرب اجداد نے ایک ہزار سال میں زمینوں کو قابل کاشت بنایا تھا۔ اسرائیل کے اندر شام، اردن، لبنان اور مصر تھے۔ فروری 1949ء میں اسرائیل نے مصر کو ایک عمومی جنگ بندی پر مجبور کیا۔ بعد ازاں اردن اور شام کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا پڑا۔ مئی 1967ء میں مصر نے اسرائیلی جہازوں پر خلیج عقبہ بند کر دی۔ اسرائیلی بندرگاہ ایلات کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ خود کو بہت بڑے خطرے میں محسوس کرتے ہوئے اسرائیل نے مصر، شام، عراق اور اردن پر حملہ کر دیا۔ چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے جزیرہ نما سینائی پر قبضہ کر لیا۔ 1973ء میں امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں شام کو شکست سے دوچار کیا۔ اس مرحلہ پر عرب دنیا نے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کر دیا۔ تیل کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی۔ 1974ء میں شام اور اسرائیل نے جنیوا میں ایک سمجھوتہ پر دستخط کئے جس نے لڑائی ختم کر دی۔6جون 1982کو دہشت گردوں کے ایک حملہ کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا۔اسرائیل نے شام کے گولان کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ وہاں یہودی بستیاں تعمیر کر دی گئیں۔ تنظیم آزادی فلسطین کو لبنان سے باہر دھکیل دیا گیا۔ ان جنگوں کے نتیجہ میں اسرائیلی سرحدیں پھیل گئیں اور دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی عرب بے گھر ہو کر مہاجرین بن گئے۔ یہ مہاجر اردن، مغربی کنارے، غزہ، شام اور لبنان میں منتشر ہیں۔
 عرب اسرائیل مخمصہ عالمگیر اثرات رکھتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اسلامی عسکریت پسندی کو فروغ مل رہا ہے اور اسی کے نتیجہ میں عالم اسلام میں امریکہ مخالف جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ فلسطینی اپنے گھرمیں بے گھر ہونے پر مضطرب ہیں۔ بہت سے فلسطینیوں کے لیے خودکش بم دھماکوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو فوجی طاقت کے ساتھ محدود رکھنا انتہائی غلط ہے۔ اسرائیل مسلسل یہی کچھ کر رہا ہے۔ تشدد سے کوئی حل برآمد نہیں ہو گا۔ اسرائیل ایک کے بعد دوسری لڑائی میں کامیاب رہا ہے لیکن اسے امن نصیب نہیں ہوا۔ فلسطینیوں کو ان کا حق دئیے بغیر پائیدار امن ناممکن ہے۔
یہودی اس علاقے پر اپنی تاریخی اور مذہبی وابستگی کی بنیاد پر اپنا دعویٰ رکھتے ہیں۔ وہ فلسطین کو واپسی اپنے مذہبی گھر کو واپسی قرار دیتے ہیں لیکن آثار قدیمہ کے تحقیقی نتائج اور بائبل کے مندرجات یہودیوں کے دعویٰ کو باطل ثابت کرتے ہیں۔ قرآن اور تورات کی روشنی میں یہود کی تاریخ اور آسمانی صحیفوں کے حوالے سے اسرائیل کے یہودی دعویٰ کو بھی غلط ثابت کیا۔