’’ریڈیو کی خصوصی نشریات‘‘

09 ستمبر 2014

تحریر: اصغر ملک
شہنشاہِ غزل مہدی حسن کے گایا  ہوا گیت ’’اپنی جاں نذر کروں‘ اپنی وفا پیش کروں‘‘ اے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں‘‘  1965 کی جنگ کے دوران جب ریڈیو پاکستان سے نشر ہونا شروع ہوا تو  عسکری قیادت کی گاڑیاں جب شہروں سے گزرتیں تو عوام فوجی گاڑیوں پر پھولوں اور پتیوں کی بارش کرتے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے نہ تھکتے۔ ہماری عسکری قیادت دنیا کی بہادر‘ نڈر اور جان پر کھیل کر پاکستان کی حفاظت کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ریڈیو پاکستان آج بھی قوم کے ہم قدم ہے اور حالات کے مطابق پروگراموں کو ترتیب دیکر سب سے آگے جا رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان نہ تو کسی کی پگڑیاں اچھالتا ہے نہ چونچوں لڑانے اور سوتنوں جیسے طعنے دینے اور نہ ہی معزز اراکین کے کارٹون بنا کر ان کو بھانڈوں وغیرہ کے سپرد کرکے ان کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے۔ یہ قومی ادارہ محبت کی زبان میں ہر پروگرام کو نشر کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ قوم تو ہرسال ماہ اگست کو آزادی اور خوشحالی کے طورپر منایا کرتی تھی‘ لیکن اس سال خوشی تو درکنار‘ چاروں طرف مایوسی‘ پریشانی اور حیرانی کے سوا کچھ اور ہی طرح کی الیکٹرانک میڈیا سے خبریں سننے کو ملتی رہیں۔ اس کے باوجود ریڈیو پاکستان نے تہذیب و ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے امن‘ بھائی چارے‘ سلامتی کیلئے گیتوں‘ فیچر پروگراموں اور ’’سبز ہلالی پرچم کے تلے ہم ایک ہیں‘‘ جیسے پروگراموں کو اولیت دیئے رکھی۔  ریڈیو پاکستان نے ماہ اگست میں یکم سے لیکر 31 اگست تک جتنے پروگرام پیش کئے‘ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں پروڈیوسر سے لیکر پروگرام منیجر تک اور ڈپٹی کنٹرولر سے لیکر سٹیشن ڈائریکٹر تک اور کمپیئر سے لیکر انائونسروں تک سب نے ہی اپنی اپنی جگہ اپنے نشریاتی فرائض احسن و خوبی سے انجام دیئے۔ اس کی خاص وجہ ریڈیو پاکستان کی موجودہ ڈائریکٹر جنرل محترمہ ثمینہ پرویز کی کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور لاہور‘ ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹر سید رضا کاظمی کی ان تھک محنت ایسا رنگ لائی کہ پروگراموں نے ہر لحاظ سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ریڈیو پاکستان بھی دیگر اداروں کی طرح ایک قومی ادارہ ہے۔  میرے پاس تخلیق کاروں‘ شاعروں‘ گلوکاروں‘ سازکاروں‘ مقرروں‘ دانشوروں اور علماء کرام کی ایسی ایسی مثالیں اور نیازمندی کے قصے کہانیاں واقعے‘ داستانیں موجود اور یادیں‘ جو بعض لوگ ان کو پسند نہیں کرتے تھے‘ لیکن جب ریڈیو پر انہوں نے اپنے علم و فن کے موتی بکھیرے تو وہی منافقین ان کے شاگرد اور ماننے والے بن گئے اور دستور زمانہ شروع سے ہی چلا آرہا ہے۔ یہاں وفا ڈھونا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ وفا اور جفا کرنے والے ہر شعبہ زندگی میں ملیں گے۔ ریڈیو پاکستان کو سماجی بُرائیوں کو جنم دینے والوں کے خلاف فیچر پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ جیسے بُرائی کر بُرا ہوگا‘ بھلائی کر بھلا ہوگا‘ کوئی دیکھے نہ دیکھے خدا تو دیکھتا ہوگا۔