انصاف کا تقاضہ

09 ستمبر 2014

عبدالرحمن سوم اندلس کا حکمران تقویٰ اور عدل و انصاف کا شیدائی تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ عبداللہ اورالحکم۔ عبداللہ میں قدرے خود سری پائی جاتی تھی۔ اس لیے عبدالرحمن سوم نے چھوٹے بیٹے الحکم کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔حکومت میں عبدالدار نام کا ایک قانون دان اپنے دل میں آس لگائے بیٹھا تھا کہ اسے قاضی مقرر کیا جائے۔ عبدالرحمن سوئم نے جب بڑے بیٹے عبداللہ کو نظر انداز کر کے چھوٹے بیٹے الحکم کو جانشین بنایا تو عبدالدار نے عبداللہ کو اکسایااوربغاوت کر دی۔ بغاوت ابھی شروع ہوئی تھی کہ مخبری ہوگئی اور فوج نے باغیوں پر قابو پا لیا۔ باغیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ عبداللہ اورعبدالداردونوں پکڑے گئے۔عبدالرحمن سوئم نے دونوں کو قید خانے میں الگ الگ کمروں میں بند کرنے اور ان کے جرم کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ عبدالدار نے قید خانے میں پہلی رات ہی خود سوزی کر لی۔ عبداللہ کے خلاف بغاوت اور فوج کے کئی افراد کے قتل کا جرم ثابت ہو گیا۔ قاضی نے اس کے لئے سزائے موت پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ عبداللہ کے چھوٹے بھائی نے اپنے بادشاہ سے التجا کی وہ آخر آپ کا بیٹا اور میرا بھائی ہے، اسے بخش دیا جائے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنے نوجوان بیٹے کو جلادکے حوالے کرکے خوش ہوں؟ عبدالرحمن سوئم نے کہا کہ کل جب جلاد کی تلوار اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دے گی تو میرا جگر کٹ جائے گا۔ مگر میں نے اس کو زندہ رہنے دیا تو یہ سلطنت کٹ کر ختم ہو جائے گی۔ عبداللہ کے مرنے پر صرف میں رو¶ں گا تم رو¶ گے تمہاری ماں اور بہنیں روئیں گی مگر وہ زندہ رہا تو اسلام کی تاریخ روئے گی۔ میں ملک و قوم اور انصاف کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کرتا ہوں۔
پیارے ساتھیو! اسی کو انصاف کہتے ہیں آپ بھی یہ دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو بھی اس طرح انصاف کی توفیق عطا فرمائے۔ (حرا سجادلاہور)