”آزادی و انقلاب مارچ اور ہمارا میڈیا“

09 ستمبر 2014

مکرمی! جب سے پاکستان میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا انقلاب آیا ہے، گویا ہر شخص کے منہ میں زبان آ گئی ہو۔ اس انقلاب نے اسے لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں سامعین اور ناظرین بھی مہیا کر دیئے ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ سیاست اور سیاسی بحث و مباحثہ کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے لہٰذا تمام چینلز ان کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسے پروگراموں کو عام طور پر ”کرنٹ افیئرز“ کا نام دیا جاتا ہے اوران میں ملکی و بین الاقوامی سیاسی، داخلی، خارجی اور فوجی امور پر کھل کر بلکہ کھل کھلا کر بحث کی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ بحث اس قدر گرما گرم ہو جاتی ہے کہ اینکر پرسنز کو پروگرام کے بیچ ہی بریک لے کر مشتعل فریقین کو اپنے اپنے اعصاب نارمل رکھنے کیلئے منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ براہ راست پروگراموں کے سٹیج پر برپا ہونے والی ان ”لڑائیوں“ کا کچھ حصہ عوام تک بھی”اَن کٹ“ پہنچ جاتا ہے۔ جس سے انہیں بھی اپنے نمائندوں کی فری سٹائل شعلہ بیانی کے کچھ مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں کہ کس ان کے لیڈر بچوں کی طرح ایک دوسرے کا گریبان چاک کر رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں اور مُکے لہرا لہرا کر دھونس اور دھمکی پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح ماحول پر سنجیدگی، متانت اور معاشرتی و سیاسی اقدارکی بجائے غنڈہ گردی، اشتعال انگیزی اور لغو زبان کا رنگ غالب آجاتا ہے جو معاشرے پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ خود میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ فریقین عموماً غیر ضروری باتوں میں اُلجھ کر ایک دوسرے کی ذاتیات تک جا پہنچتے ہیں اورلائیو کیچڑ اچھالنے میں بھی کوئی شرم یا عار محسوس نہیں کرتے۔ (محمد امجد چوہدری ۔ راولپنڈی )