جمال عارفانہ حضرت بُلھّے شاہؒ

09 ستمبر 2014

مکرمی! تصوفانہ شاعری کی جو روایت فارسی سے پنجابی میں آئی حضرت بُلھّے شاہؒ نے اسے بام عروج تک پہنچایا۔ حضرت بُلھّے شاہؒ کی شاعری میں ان کا سوز دل باقاعدہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ حضرت بُلھّے شاہؒ کے کلام کی نمایاں خصوصیت عنایت اور ترنم ہے۔ اسی لئے ان کا کلام مغنیوں اور قوالوں میں ہمیشہ مقبول رہا ہے۔
عظیم صوفی شاعر میاں محمدبخشؒ فرماتے ہیں:
بلھے شاہؒ دی کافی سن کے ترڈا کفر اندر دا     وحدت دے دریا دے اندر اوہ بھی ویتا تردا
حضرت بُلھّے شاہؒ کو فارسی و عربی زبان پر مکمل دسترس تھی لیکن انہوں نے مادری زبان کو ہی اپنے دلی اظہار کے لئے اپنایا۔ مس لاجونتی راما کرشنا اپنی کتاب PUNJABI SUFI POET میں لکھی ہیں۔
”ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ حضرت بُلھّے شاہؒ پنجاب کا سب سے بڑا صوفی شاعر تھا شہرت اور ہر دلعزیزی میں کوئی اور صوفی شاعر اس کی برابری کا دعوی نہیں کر سکتا اس کی کافیاں بے نظیر اور ہردلعزیز ہیں سچ تو یہ ہے کہ حضرت بُلھّے شاہؒ دنیا کے عظیم ترین صوفیا میں سے ہیں اور تخیل میں وہ جلال الدین رومیؒ اور شمس تبریزؒ کے ہم پلہ ہیں“۔ (عباس علی موضع میروہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات)