بحران کا ذمہ دار کون؟

09 ستمبر 2014

ہمارے قریبی ہمسائے اور دیرینہ دوست چین کے صدر کے دورہ کا ملتوی ہونے پر عمران خان اور طاہرالقادری صاحب مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کے فنانسر اور سکرپٹ رائٹر کی سوچ کے مطابق پاکستان تباہی کی طرف چل نکلا۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ حقیقت لکھنا پڑ رہی ہے کہ امریکہ کے ایک اخبار نیویارک ٹائم میں موجودہ بحران کے اوپر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان خود اپنا دشمن ہے اور اس کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ اس نے لکھ دیا وہ دہرانے کو دل نہیں کرتا لیکن صرف اپنے ان دانشور لیڈران کو آئینہ دکھانے کے لئے۔ حالیہ سیاسی بحران کے تناظر میں نیویارک ٹائم کا ایک اقتباس نقل کرنا چاہتا ہوں کہ شائد انہیں اپنا چہرہ دیکھ کر کچھ شرمندگی محسوس ہو۔ وہ لکھتا ہے کہ پاکستان ایک خارش زدہ کتا ہے جسے اپنا ہی جسم نوچنے میں لذت محسوس ہوتی ہے آج سے چند سال قبل امریکہ کے ایک ایمبسڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی قوم وہ قوم ہے جو چند پیسوں کے عوض اپنی ماں بیچ دیتے ہیں۔ بڑے دکھ سے کہوں گا کہ اغیار سے ایسے طعنے اور ایسی بے ہودہ باتیں ہمیں اپنے لیڈران کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سننا پڑ رہی ہیں۔ ہماری قومی سوچ ایک ہونی چاہیے اور مقابلہ تقریروں اور جتھوں کا ہو رہا ہے کہ کون بڑا جتھہ لگا سکتا ہے اور مقابلہ جتھوں کا کرنا ہے تو پھر الطاف حسین صاحب ان دونوں پارٹیوں سے بڑا اجتماع کر سکتے ہیں اور اگر طالبان کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو وہ سب کو مات دے سکتے ہیں۔
 موجودہ بحران کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے کہ انہیں بر موقع شکایات کا ازالہ کیوں نہیں کیا۔ عمران خان صاحب کے مطالبات بہت حد تک جائز تھے جن کے اوپر برموقع حکومتی ردعمل ہونا چاہئے تھا۔ لیکن افسوس کہ کسی کو پرواہ نہ تھی۔ طاہرالقادری صاحب کی باتیں تو درست ہیں لیکن طریقہ کار سراسر غلط ہے۔ طاہرالقادری صاحب جو انصاف، تعلیم، محبت اور وڈیروں کی زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ باتیں تو حجام کی دکان میں بیٹھے اکثر محب الوطن کرتے رہتے ہیں۔ ان کی باتوں میں نہ تو یہ نئی بات ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات ہے جس کا کوئی مخالف ہو صرف ان کا انداز بیان پرکشش ہے اور لوگ ان کے ساتھ قرآن وسنت کی تبلیغ کی وجہ سے محبت کرتے ہیں۔ اپنی بات منوانے کا یہ طریقہ نہ تو اسلام میں جائز ہے اور نہ ہی جمہوری روایات اسکی اجازت دیتی ہیں۔ پرویز مشرف دور میں عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب اس کی انتخابی مہم کا حصہ رہے اور کون نہیں جانتا کہ انتخابات میں شرمناک حد تک بدترین دھاندلی کی گئی۔ میں بھی 2002 کے انہی انتخابات میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا۔ علامہ طاہرالقادری اور عمران خان صاحب بھی 2002 بھی انہی انتخابات میں پہلی دفعہ صرف ایک ایک سیٹ لینے میں کامیاب ہوئے اور ان کی اس ایک ایک سیٹ کی کامیابی میں بھی آمر وقت پرویز مشرف کی ناجائز تائید اور حمایت حاصل تھی۔ اس وقت نہ تو عمران خان صاحب کو دھاندلی نظر آئی اور نہ ہی پرویز مشرف صاحب کے غیر اسلامی طرز عمل پر کوئی فتوی صادر کرنے کا خیال آیا۔ بلکہ اس کی غیر اسلامی غیر شرعی اور غیر اخلاقی حکومت کے دوام کے لئے دن رات دعائیں مانگتے رہے۔ اور لوگوں کے سامنے یونہی فون اٹھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے کہ پرویز مشرف صاحب کا فون آ گیا تھا اور مجھ سے کچھ مشورہ مانگ رہے تھے۔ حالانکہ نہ کبھی اس نے انہیں بلایا تھا اور نہ ہی کبھی فون کیا تھا۔ قادری صاحب خود ہی جعلی ریفرنڈم کے دوران اس کے جلسوں میں جھنڈے لے کر پہنچ جاتے تھے۔ اور پھر پرویز مشرف کے پورے دور میں نہ تو اس نے کبھی ان کو لفٹ کرائی نہ کبھی کوئی مشورہ مانگا اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کے خلاف کوئی بات کی مگر افسوس کہ 14اگست کے دن سے جو انہوں نے تماشا لگا رکھا ہے۔ اس سے ملک کا اربوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہر بندہ ٹینشن میں ہے ہر بندہ صبح اٹھتے کام کرنے کی بجائے ان کے چہروں کی طرف مایوسی اور حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے یہ کب ہماری جان چھوڑیںگے۔ آج پھر میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ آج دونوں پارٹیاں مل کر بھی اپنی سوچوں کے مطابق لوگ اکٹھے نہیں کر سکے۔ لوگ ان کے جھانسے میں نہیں آئے اور ہمارا سیاسی ڈھانچہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ لیکن اس ساری صورت حال میں جو بے پناہ حکومت اور انفرادی نقصان ہو چکا ہے اور ہر آدمی کے روزگار کو جو انفرادی طور پر پر نقصان پہنچا ہے اس کی ذمے داری کس پر عائد ہو گی۔ حکومت وقت کا بھی احتساب ہونا چاہئے کہ اس سارے بحران کو انہوں نے کیسے پیدا ہونے دیا اور قبل از وقت اس کا سدباب کیوں نہ کر سکے۔ جبکہ مجھ جیسا سیاسی طالب علم چھ ماہ پہلے یہ سارے منظر دیکھ رہا تھا اور فکرمند تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو میں نے اپنے ایک دو خطوط میں اس آندھی کی طرف توجہ دلائی۔ خدارا! ہمیں وہ قیادت عطا کر جو اسلامی شعائر کا علمبردار ہو اور حب الوطنی سے سرشار ہو اور جس کی اپنی انا اور غرض وطن کے وقار اور مفاد کے سامنے ریچ ہو۔

ذمہ دار کون

  موبائل فون پر واٹس ایپ میں لاتعداد ایپس آجاتی ہیں جنہیں میں ڈیلیٹ کر کر ...