65ءکی جنگ اور وزیرستان میں دنیا کی مشکل ترین جنگ

09 ستمبر 2014

دنیا کی عسکری تاریخ میں 65 کی جنگ کا ذکر آج بھی سنہری لفظوں میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ ایک بھارتی جرنیل لیفٹیننٹ جنر ل ہربخش سنگھ اپنی کتاب Indo-Pak -Conflict, 1965 War Despatches نے بہت واضح الفاظ میں اپنی جنگی حکمت عملی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی جانبازوں بالخصوص میجر شفقت بلوچ اور انکے ساتھیوں نے بھارتی فوج کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا کے رکھ دیا۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میجر شفقت بلوچ ڈبل ستارہ جرا¿ت پاک فوج کے وہ بہادر افسر تھے جن کی قیادت میں 110 جوانوں نے پورے دس گھنٹے تک ہڈیارہ ڈرین کی جانب بھارتی فوج کے بریگیڈ حملے کو نہ صرف کامیابی سے روکے رکھا بلکہ اس قدر نقصان پہنچایا کہ دوبارہ حملہ آور ہونے کے لیے بھارتی فوج کو نیا بریگیڈ لاہور کے محاذ پر لانا پڑا ۔ا ن حالات میں تمام پاکستانی سیاست دان تعریف کے قابل ہیں جو حضرت فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خان کی دھاندلی والے الیکشن کے اختلافات کو بھولا کر نہ صرف ایک مُٹھ ہو گئے بلکہ پاکستانی قوم کا ہر چھوٹا بڑا فرد پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارتی فوج سے لڑنے کے لیے فرنٹ لائن تک پہنچ گیا۔ لیکن آج جب پاک فوج وزیرستان اور دیگر قبائلی ایجنسیوں میں دنیا کی مشکل ترین جنگ میں پوری شدت سے مصروف عمل ہے 10 لاکھ قبائلی مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوںاور کوہاٹ کے علاقوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی سیاستدانوں بطور خاص عمران خان جن کی حکومت خیبر پی کے میں ہے اور ان کا فرض بنتا ہے وہ سب کچھ چھوڑ کر اور تمام سیاسی اختلافات کو بھول کر پہلے مہاجرین کی شاندار طریقے سے دیکھ بھال کرے تاکہ انکے دلوں میں پاکستان کی محبت مزید بڑھے۔ لیکن عمران خان نے نہ صرف یوم آزادی کے دن کو متنازعہ بنا کے رکھ دیا ہے بلکہ 20 دن سے جاری ریڈ زون میں دھرنا دے کر پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوکر وزیراعظم ہاﺅس پر قبضہ کرنے کا جنون پیدا کرکے وہ کردار ادا کیا ہے جو کبھی دشمن بھی نہیں کرتے۔ طاہر القادری کی بات تو چھوڑ دیں۔ عدالتیں بھی انکے دماغی توازن خراب ہونے کے بارے میں رولنگ دے چکی ہیں پھر ان کو پاکستان اور پاکستان میں رہنے والوں اور وطن عزیز کا دفاع کرنے والوں سے کوئی غرض نہیں وہ تو کینیڈا کے شہری ہیں اور انہیں آج نہیں تو کل واپس کینیڈا لوٹ ہی جانا ہے۔ وہ کبھی جلد پاکستان نہ آتے اگر شیخ رشید اور چودھری برادران ان کو لندن جا کر یہ یقین نہ دلاتے کہ پاکستان میں شریف برادران کی تبدیلی کے لیے منصوبہ حتمی طور پر طے پا چکا ہے بس آپ پاکستان چلیں۔ جاوید ہاشمی کے بقول عمران خان نے بھی قادری سے لندن میں ملاقات کرکے خفیہ مدد کی یقین دہانی کروائی تھی۔ عاصمہ جہانگیر سے نظریاتی اختلاف کے باوجود مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ عمران خان طالبان کے جاسوس ہیں انہوںنے شریف برادران کے خلاف محاذ کھول کر اور میں نا مانوں کی رٹ لگا کر نہ صرف پاک فوج کی قربانیوں کو پس منظر میں ڈال دیا ہے بلکہ پاک فوج کے جو افسراور جوان زخمی ہوکر ہسپتالوںمیں پڑے ہیں ان کو لاوارث بنا دیا ہے۔ عمران اور قادری کی کامیابیوں کی خوشی ایک طرف لندن میں بیٹھے ہوئے ہزاروں افراد کے قاتل منارہے ہیں تو دوسری جانب ایک نجی ٹی وی پر دکھائی جانے والی ویڈیو میں فضل اللہ اور مسلح طالبان ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے مبارک بادیں دے رہے ہیں کہ عمران اور قادری کی قیادت میں 30 ہزار افراد نے حکومت کو مفلوج کر کے ہماری کامیابی کو آسان کر دیا ہے۔ یہ آزادی اور انقلابی مارچ فوجی آپریشن کے بعد بھی ہوسکتا تھا پھر جائز مطالبات منوانے کی بجائے پورے سسٹم کو ختم کرنے اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مسلسل مطالبہ کرنے پر عمران اور قادری پوری قوم کی نظر سے گر چکے ہیں۔ کاش ان دونوں اور خالی دماغ کارکنوں کو فوج کی قربانیوں اور مہاجرین کی تکلیفوں کا احساس ہوتا۔ پاک فو ج دنیا کی مشکل ترین جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے وقت بھی عمران اور قادری ہوتے تو شاید پاکستان کامیابی سے اپنا دفاع نہ کر سکتا کیونکہ ان کو اپنی ذاتی اناکے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔