پلیز بس کریں

09 ستمبر 2014

گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے غیرحاضر ہوں۔ چاہنے کے باوجودکالم نہیں لکھ پایا۔ وجہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ کشمیری النسل ہونے کے ناطے نہایت حساس اور غصیلی طبیعت ہے میری۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرکے کڑھنے لگتا ہوں اورکبھی کبھی تو کڑھنے کی بجائے وہ سب کچھ کر گزرتا ہوں جس کا نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان سے جنون کی حد تک پیار ہے۔ پاکستان کی غریب و سفید پوش عوام کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش یا حرکت کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے میرے اندر۔ اپنی ذات کے خلاف ہونے والی کسی بھی بُری بات کو تو نظرانداز کر دیتا ہوں مگر سچ جانیئے کہ پاکستان میں افراتفری پیدا کرکے یہاں شورش بپا کرنے کیلئے کسی بھی حرکت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ دو اڑھائی ماہ قبل لندن سے آنیوالی ہوائیں پاکستان میں افراتفری پیدا کرنے کی سازش کا پیغام لائی تھیں۔ پھر وقت گرزنے کیساتھ ساتھ مبینہ سازش کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ میری چھٹی حس کبھی غلط نہیں کہتی۔ انہیںاسی حس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک ڈیڑھ ماہ قبل ہی کالم لکھ دیا تھا کہ پاکستان کی چولیں ہلانے کی سازش ہونے لگی ہے جسکے نتیجے میں وہ سب کچھ ہونے کا خطرہ ہے جو پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور کر دیگا۔طاہرالقادری اور عمران خان نے اپنا حالیہ سفر الگ الگ شروع کیا تھا مگر اہل نظر نے پہلے دن ہی کہہ دیا تھاکہ دونوں ایک ہی سکرپٹ کے اداکار ہیں۔ انکی منزل ایک ہے اور دونوں پاکستان کی چولیں ہلانا چاہتے ہیں اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ حکمرانوںکی نادانیوں کے باعث دونوں جھتے اسلام آباد پر یلغار کرنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ کچھ ہو گیا یا ہو رہا ہے کہ پاکستان کا محب وطن اور پُرامن طبقہ اس سب کئے دھرے کی مذمت کرنے پر مجبور ہے۔ فوج اور حکومت کو لڑوانا بھی سکرپٹ کا حصہ تھا اور ہے۔ سسکرپٹ میں ایک اہم رول پاکستان کے بعض ٹی وی چینلوں کو بھی سونپا گیا ہے تاریخ لکھی جا رہی ہے عمران خان اور طاہرالقادری کیساتھ ساتھ چودھریوں اور شیخ رشید کے نام بھی سیاہ حروف میں لکھ دیئے گئے ہیں۔ وقت نے شریف برادران کو انکے سجن دشمنوں کے چہرے دکھا دیئے۔ اس سے پہلے کون جانتا تھا کہ نثار علی خان عمران خان کا جگری دوست تھا۔کسے پتہ تھا کہ جاوید ہاشمی بدل ہوچکا ہے۔ پی پی پی کی بکھری ہوئی سوچ کا پتہ چل گیا ہے اورکہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ ڈرامے کا ایک سکرپٹ رائٹر آصف علی زرداری بھی ہے کیونکہ آصف زرداری اپنے خلاف لگنے والے نعرے اور اعلانات بھولا نہیں۔معاملات کے بگاڑ میں (ن) لیگ کی حکومت بھی برابر کی ذمہ دار ہے‘ لیکن لگتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائن کی وجہ سے بلیک میل ہوکر حکومت کو پسائی دکھانی پڑی اور شاید یہی ایک وجہ ہے کہ عمران اورطاہرالقادری ریڈ زون بھی کراس کر گئے۔ یہ کون لوگ ہیں جو کم و بیش ایک مہینے گزرنے کے باوجود آج بھی عمران خان اور طاہرالقادری کی چھتریوں تلے کھڑے ہیں۔ جتنے منہ اتنی زبانیں اور اتنی ہی باتیں۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ان دو دھرنوں پر کتنا پیسہ بارش کی طرح خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ پیسہ کون اور کیوں خرچ کر رہا ہے۔ اس سوال کا جواب لینا مشکل نہیں‘ دوسری طرف ان دھرنوں نے پاکستان کی معیشت کو جو نقصان پہنا دیا ہے اس کی تلافی آئندہ پانچ سالوں میں بھی ممکن نہیں۔ ان نقصانات کا خمیازہ پاکستان کے غریب اور سفید پوش طبقے کو بھگتنا پڑیگا۔ مہنگائی پہلے ہی کنٹرول سے باہر ہے۔ آنیوالے دنوں میں کیا ہوگا تصور کرکے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر تباہ کن بارشوں نے پوری کر دی ہے۔ بارشوں نے نظام زندگی مفلوج کر کرکے رکھ دیا ہے۔ اب یہ ذمہ داری سپریم کورٹ اور پاک فوج کی ہے کہ میدان میں آئیں اور فریقین سے سختی کے ساتھ نمٹیں اسکے بغیر چارہ نہیں۔ یہی تقاضہ¿ وقت بھی ہے‘ نوازشریف اور شہبازشریف کے استعفوں کا مطالبہ کرنے والوں کو بالآخر اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹنا ہوگا ورنہ....!!