پلان اے سے ڈی… سب ناکام

09 ستمبر 2014

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ سے شروع ہو نے والی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ابھی بھی جاری ہے۔ اب تو شہر کے اندر شہر آباد ہونے جارہے ہیں۔ علامہ طاہر القادری نے یہ اعلان کرکے لوگوں کو عجیب و غریب صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے کہ اب ڈی چوک میں بچوں کے لیے پلے گرائونڈ بنیں گے اور انقلاب سکول بھی بنائے جائیں گے۔
طاہر القادری نے 10 اگست کو ماڈل ٹائون میں جب انقلاب مارچ کی نوید سنائی تو ساتھ ہی اپنے بھائی کے بارے میں بتادیا کہ دونوں بھائی ساتھ ساتھ ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ جو بھی انقلاب کے بغیر واپس آئے، اسے مار ڈالو۔ اس کا مطلب تو یہ ہی تھا کہ واپسی ناممکن ہے۔
آج اگر آپ دیکھیں تو ابھی تک ’’پلان اے‘‘ سے لے کر ’’ڈی‘‘ تک فیل ہونے کے باوجو د بھی انقلاب مارچ اور آزادی مارچ والے اپنی اعصابی قوت دکھانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی سیاسی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر اس میں ناکامی ہوئی تو یہ ایک ایسا دھبہ ہوگا جو کبھی دھل نہیں سکے گا۔ دونوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ تمام تر صلاحیتیں اور وسائل جھونکنے کے باوجود اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ جہاں تک علامہ طاہر القادری کی بات ہے، وہ کوئی سیاسی پلان نہیں رکھتے، بلکہ انہیں ایک پریشر گروپ کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ مگر خان صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے اور انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ ان کے لیے سیاسی حوالے سے ایک مشکل صورتِ حال پیدا کرے گی۔دراصل اس ساری صورتِ حال میں خان صاحب کو گمراہ کیا جاتا رہا۔ انہیں یہ باور کرایا گیا تھا کہ لاہور سے نکلتے ہی وہ سب کچھ ہوجائے گا جس کی خان صاحب کو توقع تھی۔ یعنی پلان اے کے مطابق دس لاکھ لوگ اسلام آباد لانے تھے، جس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح پلان اے بہت حد تک فیل ہوگیا۔ پلان بی میں ریڈزون میں دھرنا تھا جو حکومت کے صبروتحمل اور اپوزیشن کے ساتھ نے فیل کردیا۔ پلان سی کے مطابق حکومت کی رٹ کو کمزور شو کرنا اور وزیراعظم ہائوس پر حملہ اور ڈانڈا برادر مظاہرین کا دھاوا بولنا تھا۔ اس میں عین ممکن تھا کہ ماڈل ٹائون کا واقعہ دُہرایا جاتا۔ مسلم لیگ کے ایم این اے شیخ روحیل اصغر نے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ اگر اسلام آباد میں ایس ایس پی کے تبادلے اس لیے کیے گئے کہ وہ افسران لاشیں گرانا چاہتے تھے، اس لیے بروقت اقدام کرکے حکومت نے روکا۔ پلان ڈی جو کہ چوہدری نثار کے گرد گھومتا ہے، وہ بھی اعتزاز احسن اور وزیراعظم نے فیل کردیا۔ اعتزاز احسن نے جوائنٹ سیشن کے فلور پر چوہدری نثار کو ’’آستین کا سانپ‘‘ قراد دیا اور کہا کہ چوہدری نثار کی وفاداری نواز کے بجائے مقتدر قوتوں کے ساتھ ہے۔ دھرنوں کو اسلام آباد میں لانے والے چوہدری نثار ہی تھے۔ انہوں نے ماضی کے بھی کئی حوالے دیے۔ ان کی گفتگو سے یہ بھی تاثر ملا کہ چوہدری نثار کا جھکائو اپنی پارٹی کے بجائے جی ایچ کی طرف رہا ہے۔ 1999ء میں جب نواز شریف کو گرفتار کیا گیا تو نثار خود ہی نظر بند ہوگئے اور گرفتاری کی خبریں دیتے رہے۔ بہت سے لوگوں نے گرفتاری کے باوجود نثار کو باہر گھومتے دیکھا۔ اب بھی یہ افواہیں عام ہیں کہ چوہدری نثار، عمران خان سے ملے ہو ئے ہیں۔ اگر عمران خان کے وزیراعظم کو ہٹائے جانے والے مطالبے پر عمل کیا جاتا ہے تو چوہدری نثار جو کہ سنیئر ترین وزیر ہیں، وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں، مگر اب عمران خان کا مطالبہ اور چوہدری نثار کی وزارتِ عظمی پر نظر بھی ناکام ہو گئی ہے۔ یہ ہماری سیاست میں ایک نیا موڑ ہے جسے خوش کن قرار دیا جاسکتا ہے۔ چوہدری اعتزاز احسن کے ان الزامات پر توقع کی جارہی تھی کہ اب بہت کچھ ہونے جارہا ہے، لیکن چوہدری نثار نے درگزر کرلی ہے، جس سے بہت سوں کی توقعات اور اُمیدیں ماند پڑگئی ہیں۔ مگر عمران خان اب بھی ’’امپائر‘‘ کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ کہیں سے کوئی بندوبست کرلیں گے۔ شاید اب امپائر کے انگلی نہ اٹھا نے پر عمران خان اس بات پر قائل ہوگئے ہیں کہ مذاکرات کو ایک اور موقع دیا ہے۔ اگر کو ئی اور پلان سکرپٹ کا حصہ نہیں تو عمران خان اعصابی جنگ جیت جائیں گے اور براہِ راست تو نہیں مگر بہتر برتری کے لیے سراج الحق صاحب کے اپوزیشن کے فارمولے کو تسلیم کرلیں گے۔ لیکن پکچر ابھی باقی ہے۔ اگر اب کی بار دھرنا ختم بھی کردیا گیا، پھر بھی دی اینڈ نہیں ہوگا۔ نواز شریف یہ نہ سمجھیں کہ ابھی تک بال ان کے کورٹ میں جارہی ہے تو وہ اس کو فائنل آوٹ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اگر انہیں پانچ سال کی مدت مکمل مل بھی جاتی ہے یہ تو کانٹوں کی سیج سے کم نہیں ہوگی۔ کسی بھی وقت، کسی بھی لمحے انہیں یہ احساس دلایا جاتا رہے گا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کبھی بھی ہوسکتا ہے۔