تباہ کن برسات اور طوفانی الزامات

09 ستمبر 2014

 طوفانی بارشیں، تباہ کن سیلاب بن کر ہنستے بستے انسانوں پر موت بن کر ٹوٹ رہی ہیں۔ مکانوں کو مکینوں سمیت کاغذ کی کشتی کی طرح بہائے لئے جا رہی ہیں۔ لہلہاتی فصلوں کو ملیامیٹ کر رہی ہیں۔ ایسے میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنوں میں خطابات کا طوفان امڈتا ہے۔ طاہرالقادری اور عمران خان جوش خطابت میں جو کہتے ہیں وہ حاضرین اور ناظرین کو زبانی یاد ہو گیا ہے۔دھرنوں کے مقابلے میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی جاری ہے۔ اس میں بھی مقررین اپنی شعلہ بیانی سے طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ باہر والوں کا نواز شریف کے استعفے پر زور ہے تو اندر والے اس مطالبے کے سامنے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے ایک دھرنا اندر اور دو باہر لگے ہیں۔ باہر والے اندر والوں پر الزام لگاتے جبکہ اندر والے باہر والوں پر ادھار نہیں رکھتے۔ دھرناداری کہتے ہیں کہ اندر والوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں۔ پارلیمنٹیرین کہتے ہیں کہ چند ہزار لوگ پورے ملک کے نمائندہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ بلاشبہ پارلیمنٹیرینز کو کم از کم ان کو منتخب کرنے والوں کی حمایت تو حاصل ہے ہی۔ اس کے علاوہ دیگر حامیوں کی بھی کمی نہیں۔ اسی طرح دھرنے والوں کے حامی بھی شہروں میں ٹی وی چینلز سے چپکے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ٹی وی سے چپکنے والے حکومتی حامیوں کی بھی بہتات ہے۔ عوام کی اکثریت کس کے ساتھ ہے؟ دھرنے والوں کے، یا پارلیمنٹ کے ساتھ؟ بادی النظر میں پارلیمنٹ کا پلڑا بھاری ہے تاہم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ریفرنڈم سے ہو سکتا ہے مگر اس فضول کام کے لئے اتنی بڑی مشق کی ضرورت نہیں۔ الیکشن جب بھی ہوئے صورتحال واضح ہو جائے گی۔
جانبین کی طرف سے الزامات کی بوچھاڑ اور بھرمار ہے لیکن الزامات کا جواب فریقین کی طرف سے نہیں دیا جا رہا۔ صرف الزامات در الزامات ہیں۔عمران خان الزامات کی سیریز چلائے ہوئے ہیں۔ ان کا مناسب جواب نہیں آرہا۔ محض الزام برائے الزام کہہ کر نظرانداز کرنے سے مسلم لیگ ن کی قیادت اور پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گزشتہ روز عمران خان نے کہا ”عبدالمالک بلوچ اور ظفراللہ جمالی کو دھاندلی کے ذریعے جتوایا گیا۔ شریف برادران نے 6 ارب روپے بینکوں کو دینے ہیں جوکہ 15 سال میں بھی ادا نہیں کئے گئے جبکہ آصف زرداری نے سرے محل کے 500 کروڑ روپے اپنی جیب میں ڈال لئے۔ این آر او سے قبل تک وہ سرے محل کی ملکیت سے انکاری تھے ۔نوازشریف نے 8 سوکروڑروپے کے حوالے سے جھوٹ بولاکہ یہ رقم انہیں کسی عرب دوست نے تحفے میں دی بلکہ یہ رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے نوازشریف لوٹ کر لے گئے تھے۔ نواز شریف نے ججز اپنے رکھے ہوئے ہیں جواسکے حق میں فیصلے دیتے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام ڈاکو ایک ہو گئے ہیں، مولانا ڈیزل سے لیکر محمودخان اچکزئی ملنگ تک سب ایک ہیں ۔“اس پر مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ ساتھ ظفراللہ جمالی اور عبدالمالک بلوچ کو بھی جواب دینا چاہئے بلکہ جمالی اور عبدالمالک کے بجائے الیکشن کمیشن سامنے آئے تو بہتر ہے۔ ٹی وی چینلز پر عمران اور قادری کی ایک ہی بات سن کر حاضرین تو واہ واہ کرتے ہیں اکثر ناظرین کے کان پک گئے ہیں۔ اب عمران خان کے نئے رجحان سے ناظرین کی کسی اور ہی طرح سے ذہن سازی ہو رہی ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے مناسب جواب نہ آنے پر لوگ یکطرفہ موقف کو مبنی برحق سمجھ سکتے ہیں۔ عمران خان کے الزامات لغو اور بے بنیاد ہیں تو ان کیخلاف سوءیعنی ہتکِ عزت کا دعویٰ ہونا چاہئے۔
پارلیمنٹ کے اندر دھواں دار تقریریں دھرنے والوں کیخلاف ہوتی ہیں یا میاں نواز شریف کی حمایت میں ”موگیمبو خوش ہوا“ تیسرا موقف یہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ دھرنے والے جو زبان، جسے بدزبانی کہا جائے تو بہتر ہے حکمرانوں اور پارلیمنٹیرین کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، جواب میں بھی ایسی ہی زبان سننے کو ملتی ہے۔ پارلیمنٹیرین پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ وہ چودھری نثار کی صحافیوں سے گفتگو اور اس کا جائنٹ سیشن میں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے جواب دیکر خود ثابت کر دیئے ہیں۔چودھری نثار نے کہتے ہیں کہ ” اعتزاز نے الزام کی ابتدا کی“، عدالت میں سابق وزیرداخلہ نے موجودہ وزیر داخلہ کو نالائق کہا تھا۔ اسکے بعد چودھری نثار نے اعتزاز پر کرپشن کے الزام لگائے انہیں لینڈ مافیااور قبضہ گروپ کا ترجمان قرار دیا، ایل پی جی کوٹہ کی بات بھی کی۔
اسکے جواب میں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔خورشید شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا۔ ”لوگ ایوان سے اچھی خبر چاہتے تھے، لیکن میاں صاحب! آپکے سینئر وزیر نے اچھی خبر نہیں دی۔ آپ کی صفوں میں پورس کے ہاتھی ہیں، حکومت میں بیٹھ کر سازشیں کررہے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں، وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ چودھری نثار آئیں اور آکر اس ایوان سے معافی مانگیں۔یہ سارا ایوان ایک ہو کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑا تھا تو اسے تقسیم کرنے کی سازش شروع کر دی گئی۔ وزیراعظم آپ کے اعتماد کو جس طرح چودھری نثار نے چھرا مارا، اسکی مثال نہیں ملتی۔ ایسی باتیں کرنیوالا آپکی پارٹی کا نہیں ہو سکتا۔اللہ جانتا ہے یہ آپکے ساتھ نہیں ہے۔ ٹیپو سلطان جیسا عظیم اور نڈر سپہ سالار جس نے انگریزوں کو ناک رگڑنے پر مجبور کیا لیکن اس عظیم سپہ سالار کو بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے آستین کے سانپوں نے ختم کرا دیا، وزیراعظم صاحب! آج آپ کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ کون آپ کا محسن اور کون دشمن ہے۔“
 بیرسٹر اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ کے فلور پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو گھٹیا، بے بنیاد اور لغو قرار دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار نے مجھ پر الزامات لگا کر آسمان پر تھوکا ہے، اگر چاہوں تو ساری اپوزیشن کو لے کر ایوان سے باہر جا سکتا ہوں اور اس ایوان کو ختم کر سکتا ہوں۔ میرے کلائنٹس میں پراپرٹی ٹائیکون سمیت افتخار چوہدری اور وزیراعظم بھی رہے ہیں، کوئی پپو پٹواری، جہانگیر تحصیلدار اور شیخ اسلم نہیں۔ وزیراعظم کو جب گرفتار کر کے ہتھکڑی لگا کر باندھ کر پھرایا جا رہا تھا تو کئی لوگوں کیلئے جی ایچ کیو سے ناشتے آ رہے تھے۔“ اعتزاز نے سابق سیکرٹری دفاع افتخارعلی کا بھی ذکرکرتے ہوئے سوال کیا کہ انہوں نے جنرل ضیاءالدین کے آرمی چیف کا نوٹیفیکیشن کیوں جاری نہیںکیا۔اس پر نثار زیادہ رنجیدہ تھے کہ ان کے مرحوم بھائی کا اس طرح ذکر کیوں کیا گیا۔بہر حال چودھری نثار نے بوجوہ درگزر سے کام لیا۔ اس درگزر سے کیا اعتزاز کرپشن کے الزامات سے بری ہو گئے اور کیا خورشید شاہ نے چودھری نثار کے بارے میں جو کہا وہ واپس ہو گیا اور واقعی چودھری نثار اب خورشید شاہ کی نظر میں کسی اور کے بندے نہیں رہے؟ نواز شریف کے دل و جان سے وفادار اور جانثار بن گئے ہیں۔ویسے تو لوٹ مار میں ملوث کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے تاہم کم از کم پارلیمنٹیرین کے ایک دوسرے پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیق توضرور ہونی چاہیے۔چودھری نثار اور اعتزاز احسن کے بیانات کو ایک دوسرے کیخلاف ایف آئی آر سمجھ لیا جائے۔