درگزر ہی کی ضرورت ہے

09 ستمبر 2014

چودھری نثار علی خان اور چودھری اعتزاز احسن کے درمیان اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران چوتھے روز جو ہوا، اب یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ تیلی کس نے لگائی تھی۔ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا، اس میں جس نے بھی کردار ادا کیا انکی ستائش، چودھری نثار نے اپنی انا کی قربانی دی اور اعتزاز احسن نے بھی معاملہ مزید آگے بڑھانے سے گریز کیا، ان دونوں لیڈروں کی تحسین کی جانی چاہئے۔ چودھری نثار علی خان نے آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے الزامات کا جواب نہ دیکر جہاں پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پائی جانیوالی مفاہمت کو ختم نہیں ہونے دیا وہاں انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کا مان بھی رکھ لیا۔ آج جب پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر عمران خان اور طاہرالقادری کے لوگوں کے حکومت کیخلاف جذبات عروج پر ہیں۔ ان دھرنوں سے حکومت شدید مشکلات میں تھی۔ وزراءپریشان حال اور انکے چہرے اُترے ہوئے تھے۔ ایسے میں جائنٹ سیشن ہوا ،پوری پارلیمنٹ جمہوریت بچانے کے نام پر میاں نواز شریف کے شانہ بشانہ ہوگئی۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ممبرحکومتی ارکان کیساتھ قدم سے قدم ملا کر جس طرح یکجا بلکہ یکتا ہوئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جائنٹ سیشن کے ابتدائی دنوں میں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے خبردار کیا تھا کہ میاں نواز شریف کے وزراءرعونت میں مشہور ہیں۔ آج انکے چہروں پر ہَوائیاں اُڑ رہی ہیں، کل بحران سے نکل انکے رویوں سے پھر تکبر ٹپکنے لگے گا۔ اپوزیشن کے رہنماﺅں کی پیشگوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ دینے سے حکومت ابھی وقتی طور پر ہی سنبھلتی نظر آئی تھی کہ وزراءایک بار پھر تفاخر کے ساتویں آسمان پر نظر آئے۔ چودھری نثار کی اعتزاز اور خورشید شاہ سے مڈبھیڑ کا تذکرہ مقصود نہیں۔ احسن اقبال کو مسلم لیگ (ن) کا مدبر رہنما سمجھا جاتا ہے وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں عمران خان اور طاہرالقادری پر کڑی تنقید اور بے دلیل باتیں کرتے اور جگتیں لگاتے نظر آئے۔ صرف تین دن قبل خواجہ آصف گِھگی بندھی ہوئی تھی ، ایک ٹی وی پروگرام میں وہ طاہر القادری کو عظیم سکالر قرار دے رہے تھے، تھوڑا سا سیاسی بحران ٹل تو وہ بھی شیر بن گئے۔ خواجہ سعد رفیق تو مذاکرات کار تھے، کیا ان کا دھرنے والوں پر برسنا بلکہ پلٹ کر جھپٹنا مناسب ہے۔ حکومت اگر مشکلات میں پھنسی ہوئی تھی تو اس کا سبب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے ہیں ، اپوزشن کی پارلیمنٹ کے اندر مخالفت نہیں۔ اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دے کر حکومت کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی تک حکومت سیاسی بحران پر قابو نہیں پا سکی بلکہ کئی معاملات میں اسے مزید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ بارش سے تباہ کاریاں جاری ہیں۔ بھارت نے اس موقع پر پانی چھوڑ کر تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ چینی صدر کا دورہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ خود چینی وزیر خارجہ چینی چن گینگ نے کہا ہے ”چینی صدر ژی جن پنگ کا دورہ پاکستان ابھی حکومتی سطح پر طے نہیں ہُوا تھا، اگرچہ سرکاری سطح پر ہم نے صدر کے پاکستان کے دورے کا اعلان نہیں کیا تھا تاہم صدر کے رواں ماہ کے وسط میں سری لنکا، بھارت اور پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔“جب دورہ طے ہی نہیں ہوا تو پھر اسکے التوا کی افواہیں پھیلا کر اسکی ذمہ داری دھرنوں پر ڈالنا مخالفت برائے مخالفت اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش لگتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وزرا ءقبل از وقت جشن منانے لگے ہیں۔ سیاسی بحران دھرنوں کی وجہ سے پیدا ہوا یہ دھرنے ختم کرکے ہی ٹل سکتا ہے۔ سیاسی بحران کے خاتمے میں اپوزیشن کا کردار قابل تحسین ہے جبکہ حکومت اس میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔ وہ معاملہ مذاکرات سے نہیں، دھرنے والوں کو تھکا کر حل کرنا چاہتی ہے۔ چینی صدر کا دورہ ابھی طے ہوا نہ دھرنوں کی وجہ سے ملتوی ہوا البتہ یہ دورہ اس ماہ کے آخر میں ہونا ہے اگر دھرنے جاری رہے تو دورہ ملتوی ہو سکتا ہے۔ جس کے نقصانات اور مضمرات کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ کئی بحرانوں کو مشکلات میں گِھری حکومت کی مشکلات میں چودھری نثار کی پریس کانفرنس سے اضافہ ہو سکتا تھا۔ پریس کانفرنس کے حوالے سے پارٹی کارکنوں میں پائی جانے والی تشویش ختم ہو گئی۔ اس سے یقیناً مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کو مایوسی ہوئی ہے جو حکومت کے دھڑن تختے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ چودھری اعتزاز احسن نے تو برملا کہا تھا کہ وہ ابھی پارلیمنٹ ختم کر سکتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان پر پارٹی قیادت کی طرف سے شدید دباو¿ تھا لیکن انہوں نے پریس کانفرنس ملتوی کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے ہفتہ کی صبح وزیراعظم نوازشریف نے ذاتی پوزیشن کی وضاحت کے نکتہ پر اپنے آپ کو محدود رکھنے پر چودھری نثار علی خان کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دیدی۔ نثار علی خان نے نواز شریف کی حکومت کیلئے اپنی انا کی قربانی دے کر جہاں پارٹی کارکنوں کے دلوں میں عزت بڑھائی ہے وہاں انہوں نے نوازشریف حکومت کو اپوزیشن کے دباو¿ سے نجات دلا دی۔سینیٹر اعتزاز احسن نے اپنی تقریرپر وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب سے درگزر کئے جانے کو بہتری کی جانب ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”درگزر قبول کرتا ہوں۔“ اگر ہماری سیاست میں درگزر کی روایت جڑ پکڑ لے تو ہم کئی بحرانوں سے بچ سکتے ہیں۔