منزل سے چند قدم دور!

09 ستمبر 2014

بیس کروڑپاکستانیوں کی طرح اورسیز میں بسنے والے کروڑوں پاکستانی بھی اپنے وطن میں اندرونی سیاسی خلفشار سے پریشان ہیں۔ مادرِ وطن کی دھرتی پر ٹپکنے والا ہر انسانی خون کا قطرہ دیارِ غیر میں بسنے والوں کو بھی لہولہان کر جاتا ہے۔ میں ان دنوں بغرض علاج نارتھ امریکہ آیا ہوا ہوں اور آہستہ آہستہ دوستوں احباب کے ذریعے میرے جاننے والے اور اردو ادب سے شغف رکھنے والوں کو خبر ہو گئی ہے کہ میں یہاں موجود ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز بیسیوں دوست احباب اپنے جاب اور بزنس سے وقت نکال کر ملنے چلے آ جاتے ہیں۔ موضوع سخن پاکستان کی سیاست اور معیشت ہوتی ہے جس پر تمام احباب دل کھول کر رائے زنی کرتے ہیں۔ مجھے اکثر دوستوں کے فون بھی آتے ہیں جو پاکستان کے معروضی حالات سے پریشان ہیں اور آجکل تو ہر ایک پوچھتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ایک ایسے ملک میں جہاں آئین و قانون، روایات اور اصولوں کی کوئی قدر نہ ہو، جہاں سسکتی انسانیت کا سڑکوں پر خون بہایا جائے، جہاں انصاف تو دور کی بات وقوعہ کی ایف آئی آر تک نہ کاٹی جائے، جہاں14لوگوں کو دن دیہاڑے سڑکوں پر گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے، جہاں 100لوگوں کو سیدھے فائر مار کر شدید زخمی کر دیا جائے اور پھر ان مقتولین اور زخمیوں کو انصاف دلانے کیلئے ایک درجن لوگ اور جان کی بازی ہار جائیں۔ جہاں لاکھوں لوگ پچھلے ایک ماہ سے ملک کے سب سے مقدم ادارہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھے ہوں اور موسمی شدت اور حدت کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔ بارش اور شدید ژالہ باری بھی جن کے عزم کو مرزلزل نہ کر سکی ، پھر وہ لوگ بارشوں سے بھیگے کپڑے اتار کر دیوار پر لٹکا دیں سوکھنے کیلئے تو ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت ان بھوکے ننگے پریشان حال کیڑے مکوڑوں کیخلاف حکم جاری کر دیں کہ یہ اپنی بھیگی شلواریں ہماری شان و شوکت سے اور قیمتی پتھروں سے مزین دیواروں پر نہ لٹکائیں۔یہاں ایک لوئر مڈل کلاس کا ایک آدمی ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کا انچارج بن کر اربوں روپوں کے اثاثے بناتا ہے۔ ایک آرمی چیف جب ریٹائرڈ ہوتا ہے تو وہ اور اس کے بزنس میں بھائیوں کے اثاثے کھربوں روپوں تک پہنچے ہیں۔ انکے بیٹے بیٹیاں ”مونٹے کارلو“ کے ہوٹلوں اور جوئے خانوں میں ایک ہی دن میں کروڑوں کا جواءکھیلتے ہیں۔ انکے ایک غیرملکی سفر کے اخراجات ایک اوسطً پاکستانی کی 65 سالہ کمائی اور پنشن سے بھی تجاوز کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ملک کے تجارت پیشہ سیاست دانوں نے اپنے گرد موجود ان طبقات کے منہ کو کرپشن کا ”لہو“ لگا دیا ہے۔ ایسے لگتا ہے اب میرے وطن میں ہر شخص، ہر چیز قابل فروخت ہے ہر کسی کی ایک قیمت ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ اگر بغور دیکھیں تو 80ءکے بعد ہماری ثقافت، ہمارا کلچر، ہماری تہذیب ،ہماری روایات یکسر تبدیل کر دی گئیں ۔ جس ملک کا بانی حضرت قائداعظمؒ سرکاری خزانے سے چائے کی ایک پیالی پینے کو اپنے اوپر حرام گردانتے تھے اس ملک کے بعد میں آنیوالے حکمران آج اربوں ڈالرز کے کیش اور اثاثوں کے مالک ہیں۔ آپ 70ءکے بعد کسی ایک حکمران کا نام لیں اور ذرا سا ”گوگل“ کریں تو حیران رہ جائینگے کہ تعلیم، ترقی، علم، سائنس، ایجادات، میڈیکل، زراعت، ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں آخری نمبر پر آنے والی قوم کے سربراہان کے غیرملکی بنکوں میں کھربوں ڈالرز پڑے ہیں۔ موجودہ حکمران بھائیوں کے لندن میں موجود ایک رہائش گاہ کی قیمت لندن کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کیمطابق 8 ارب روپے سے زیادہ ہے جبکہ ملک کے سابق صدر جو کبھی سینما میں ٹکٹیںبلیک کرتے تھے اور جن کے والد محترم ٹھیکے پر زمین داری کرتے تھے۔ آج وہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 70ارب ڈالرز یعنی ”بل گیٹ“ کے ہم پلہ ہیں۔ اسی لئے تو پارلیمنٹ کے فلور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ ننگے ،بھکاری ،خانہ بدوش ان کی بستیاں پارلیمنٹ کے لان میں بسا کر ہم ایلیٹ کلب کا استحقاق مجروح کیا جارہا ہے۔ یہ قطعاً نہیں جانتے کہ ان خانہ بدوشوں میں 2300 پی ایچ ڈی خواتین شامل ہیں، قومی اور انٹرنیشنل اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ میں ذاتی طور پر درجنوں ایسے اصحاب کو جانتا ہوں جن کی یورپ، امریکہ، نارتھ امریکہ میں کروڑوں ڈالر جائیدادیںاور اثاثے ہیں، محل نما مکانات ہیں مگر وہ پورے کا پورا کنبہ لے کر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سب کچھ چھوڑ کر اپنے 20کروڑ بھائیوں کے اچھے مستقبل کی خاطر اس دھرنے اور مارچ کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دنیا کے 90ممالک میں منہاج القرآن سنٹرز موجود ہیں جن کے ساتھ سٹاف کی رہائش گاہیں، دفاتر اور کھیل کے میدان بھی موجود ہیں مگر ڈاکٹر صاحب ہفتوں غسل کے بغیر شاہراہ دستور پر بیٹ ہاتھ میں پکڑ کر انقلابی ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میں چونکہ شہید بی بی بے نظیر بھٹو کے لئے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں لیکچرز کے انتظامات کرتا اور آرگنائز کرتا تھا۔ امریکہ،کینیڈا، یورپ اور آسٹریلیا کی چند یونیورسٹیوں کی طرف سے مجھے آفر ملی کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو انٹرفیتھ کے موضوع پر قائل کروں کہ وہ ماہانہ کم از کم فی یونیورسٹی دو، دو لیکچرز دے سکیں؟میں نے ڈاکٹر طاہر القادری سے بات کی تو انہوں نے کمال شفقت سے عالمی یونیورسٹیوں کی آفرز کو یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ مطلوب وڑائچ میرے ملک کے بیس کروڑ عوام کو میری ضرورت ہے، مجھے ان بیس کروڑ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہے۔قارئین! جب میں ایسے مصمم ارادے اور ٹائی ٹانک عزم والے اس ادھیڑ عمر شخص کو دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ضرور اس بیس کروڑ عوام کے لیے مسیحا ثابت ہوگا۔