کہنا کچھ اور کرنا کچھ

ڈاکٹرعارفہ صبح خان          
تجا ہلِ عا رفانہ        
ویسے تو آج مادرِ ملت فا طمہ جناح کی برسی ہے لیکن نئی نسل تو یہ بھی نہیں جانتی کہ مادرِ ملت کس شخصیت کو کہا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ نئی نسل کو یہ پتہ ہو گا کہ فاطمہ جناح قا ئد اعظم کی چھوٹی بہن تھیں لیکن نئی نسل کو اُنکی خدمات کے حوالے سے کچھ بھی علم نہیں ہے۔ مادرِ ملت کہلوانے کا شوق تو بہت عورتوں کو رہا ہے لیکن کسی میں مادرِ ملت جیسی زندگی گزارنے کا حو صلہ نہیں ہے۔ نہ قربانیاں دینے کا ظرف ہے اور نہ اُن جیسا بلند کردار ہے۔ افسوس ہمارے ہاں بہت تیزی سے مشا ہیر کو تا ریخ اور حقیقی زندگیوں سے خا رج کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے حکمران پڑھے لکھے با شعور اور علم رکھنے والے ہوتے تو جانتے کہ مشا ہیر نوجوان نسل کی زندگیوں کو کیسے بدل دیتے ہیں۔ آجکل ہارے ہوئے جواری کرکٹرز، ہالی ووڈ، بالی ووڈ کے ہیرو ہیروئن، پاکستان شو بز کے اداکار اور گلوکار ہی پاکستانیوں کے رُول ماڈلز ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کے لڑکوں کے کندھوں تک لمبے بال ہیں۔ کانوں میں بالیاں، انگلیوں میں انگوٹھیاں، کلائیوں میں بر یسلٹ اور کڑے، گردنوں میں لاکٹ، ستارے موتیوں والے کامدار کُرتے قمیضیں شیروانیاں، سلکی وا سکٹیں اور جب دیکھیں یہ لڑکے اپنی ویکس، فیشل، مساج اور میک اپ کرانے سیلون پر بیٹھے نظر آئیں گے۔ یہ مرد نہ ہوئے۔۔۔کچھ اور ہو گئے۔ کوئی مردانی شان نہیں، کو ئی مردانہ وقار نہیں، کو ئی مردانہ ذمہ داری نہیں۔ جو کماتے ہیں، اپنے اوپر لگا لیتے ہیں۔ تین ماہ سیلون نہ جائیں تو انکی شکلوں پر بارہ بجے ملیں گے اور اُجاڑ جنگل لگیں گے۔ حقیقت ہے کہ گزشتہ تیس سا لوں سے ماﺅں نے ہونہار بیٹے پیدا کرنے بند کر دیئے ہیں۔ پہلے مائیں حضرت عمر فاروقؓ، خا لد بن ولیدؓ، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی جیسے بہادر غیور جری بیٹے پیدا کرتی تھیں اور آج کے لڑکے دیکھیں۔ جن کے ہاتھوںمیں قیمتی موبائل، بیش قیمت ملبوسات، ہر وقت چرغے مچھلی تکّے کباب، برگر پیزا لزانیہ فاسٹ فوڈکے رسیا اور انرجی ڈرنکس بوتلیں آئس کریم کھانے کے درپے رہتے ہیں۔ اُنکی صبح چار یا پانچ بجے فجر کے وقت نہیں ہوتی بلکہ ظہر کی اذان ختم ہو جانے کے بعد ہو تی ہے۔ راتوں کو جاگتے اوردن کو سوتے ہیں۔ کوئی کام کہہ دو تو مرگی کا دُورہ پڑ جاتا ہے یا کام اپنی جان کو رُو رُو کر کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہر کام آن لائن ہو جائے۔ کچھ یہی حال لڑکیوں کا بھی ہے ۔ البتہ لڑکیوں میں نسبتاً ذمہ داری زیادہ ہو تی ہے لیکن نئی نسل کی زیادہ تر لڑکیاں ہر وقت فیشن اور فیشئل میک اپ میں لگی رہتی ہیں۔ جو عورت خوبصورت ہو تی ہے اُسے ہر وقت میک اپ تھوپنے کی ضرورت نہیں ہوتی مگر جن لڑکیوں کو پتہ ہو تا ہے کہ ہر ماہ فیشئل مساج ویکس کریمیں نہیں لگا ئیں گی تو اچھی نہیں لگیں گی۔ ایسی لڑکیاں جو حقیقت میں خوبصورت نہیں ہوتیں۔ وہ ہر وقت بناﺅ سنگھار کئیے رکھتی ہیں۔ اُنکے ہاتھ پاﺅں کے لمبے نوکیلے ناخن، اُن پر رنگ برنگی نیل پالش اور انگو ٹھیاں چھلّے بتا رہے ہوتے ہیں کہ یہ کام کرنے والی مخلوق نہیں ہے۔ کام کرنے والی لڑکیوں کے ناخن کبھی بہت لمبے اور سجے سنورے نہیں ہوتے۔ ایسی لڑکیاں جو کام برائے نام کرتی ہیںلیکن باتیں اور فیشن بہت کرتی ہیں۔ ان لڑکیوںکے شوہرہمیشہ پریشان، بد حواس اور ذمہ داریوں میں پھنسے نظر آئیں گے لیکن ایک تعلیم یافتہ، کم گو با وقار لڑکی ان خرا فات سے دُور رہتی ہے اور اپنی تمام ذمہ داریاں خا موشی سے سر انجام دیتی ہے۔ لیکن کام چور عورتیں آپکو ہمیشہ اپنی تعریفیں کرتی، جھوٹ بولتی اور گپیں لگاتی نظر آئیں گی۔ بد قسمتی سے پاکستان میں عجیب و غریب ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں جھوٹ بناوٹ ریا کاری اور منافقت کامیابی کی سند بن گئی ہے اور سچا ئی دیا نتداری یا ذمہ داری عیب بن گئی ہے۔ ان چیزو ں کی وجہ سے قول و فعل کا تضاد بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ سال ایک پوسٹ بڑی وائرل ہوئی تھی کہ ایک ایرانی لڑکی بہت سار ا جہیز لیکر گئی۔ یہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ لڑکی تھی ۔ اس نے اپنے شوہر کے کہنے پر اُس کے پلاٹ پر ایک انتہائی خو بصورت اور مہنگا گھر بنوایا۔ شوہر جو کمپلیکس کا مارا تھا اپنی احسا س کمتری چھپانے کے لیے ہر وقت جتا تا کہ یہ پلاٹ تو میرا ہے۔ اسی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے اپنی آدھی آمدن اپنے گھر والوں کو دے دیتا۔ لڑکی بہت عا جز آ گئی تو ایکدن اُس نے خلع کا نوٹس بھیجا۔ گھر کی تمام چھتیں دروازے فرنیچر سب اتروا کر لے گئی۔ گھر میں سوائے تین دیواروں کے کچھ با قی نہ بچا۔ تب لڑکا روتا پیٹتا بیوی کے پاس معا فی مانگنے گیا تو لڑکی نے حقا رت سے دیکھ کر بتا یا کہ وہ عدت ختم ہو نے کے بعد دوسرے دن دوسری شا دی کر رہی ہے۔ یہ تصویر اور وہ اُجڑا ہوا گھر پو رے ایران میں نکھٹو اور غیر ذمہ دار لڑکوں کے لیے ایک عبرت بن گیا۔ اس پوسٹ پرپورے ایران میں تھرتھری مچا گئی۔ کہیں پر لوگ کسی کے بُرے انجام سے سبق سیکھ لیتے ہیں اور کہیں لوگ مجرم بن جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لوگ تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے جرم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ایک ہفتہ سے منڈی بہاالدین کی ایک پوسٹ بہت وائرل ہو ئی ہے جس میں ایک عورت نے شوہر کا پیسوں کے لیے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ وہ ہر وقت شوہر سے پیسے مانگتی۔ اپنے میک اپ، فیشن، جیولری،کپڑوں اور کھانے پینے اٹھتے بیٹھتے مطالبات کر تی رہتی۔ ایک دن شوہر نے کہا کہ وہ روزانہ ہزا روں روپے نہیں دے سکتا کیونکہ اُس نے پلاٹ خریدا ہے جس کی آخری قسط ادا کرنی ہے۔ بیوی پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ گئی کہ یہ پلاٹ میرے نام کر دو۔ شوہر نے انکار کر دیاجس پر اس عورت نے اپنے شوہر کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ محلے داروں نے بتایا کہ جس دن شا دی ہوئی تھی۔ یہ عورت اپنے شوہر پر تشدد کرتی تھی۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس شوہر پر تشدد کرتی تھی تو اتنا بناﺅ سنگھار کس کے لیے کرتی تھی؟اس وا قعہ سے اندازہ لگا ئیں کہ قول و فعل کا تضاد کیا ہو تا ہے۔ نیت گندی ہو تو کردار خو دبخود پلید ہو جاتا ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ایک ایسے آلودہ ما حول میں رہ رہے ہیںجہاں لوگ کردار کی پاکیزگی، سچائی اور بلندی کو نہیں دیکھتے بلکہ عورت کے ظاہری کردار اور میک اپ زدہ چہرے کو سراہتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بناوٹی، دوغلی اور میٹھی نظر آنے والی عورت پر مرد جان دیتے ہیں۔ لیکن سچائی کھری، ایثار قربانی دینے والی عورت کی قدر نہیں کرتے۔ ظاہر و باطن کے اس فرق نے پورے معا شرے کو اپنی لپیٹ میںلے رکھا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کردار نا قابلِ برداشت ہے۔ صرف اس ماہ بجلی کے بلِوں نے پوری قوم کے ہوش اُڑا دئیے ہیں ۔ ہر آدمی حکمرانوں کے دوغلے اور منافقانہ رویوں سے اس وقت بجلی کے بلِوں کی آگ میں جل رہا ہے۔ 

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...