وزیراعظم شہبازشریف کی شنگھائی کانفرنس میں شرکت 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دو طرفہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک زراعت، صحت، تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مل کر کام کریںگے، خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تاجکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ تاجکستان میں ہمارا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک گھرسے دوسرے گھر آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان روڈ اور ریل نیٹ ورک مزید مضبوط ہو۔ ہمیں کثیر جہتی تجارتی راہداریاں تلاش کرنی چاہئیں۔ چین، تاجکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان اور پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک ہیں۔ پاکستان نے کئی سال اس ناسور کا سامنا کیا اور انسانی زندگیوں اور معاشی نقصانات کی صورت میں بھاری قیمت ادا کی ، وزیراعظم محمدشہباز شریف دوروزہ تاجکستان کے دوران سرکاری پاسپورٹوںکو ویزا سے مستثنیٰ کرنے کے سمجھوتے کے علاوہ مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے بعد جمعرات کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 24ویں سربراہی اجلاس ایس سی او پلس فارمیٹ میں شرکت کے لیے قازقستان کے دارالحکومت پہنچ گئے ۔سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے 2025-26ءکے دوران پاکستان دیرینہ اور جاری تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل، دھمکیوں یا طاقت کا یکطرفہ اور غیر قانونی استعمال، ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور رکن ممالک کے ساتھ شراکت میں ایس سی او کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پیچیدہ عالمی اور علاقائی چیلنجوں سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر موثر کثیرالجہتی کے ذریعے بہترین طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنا بھرپور تجربہ اور مہارت اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے شراکت کی مضبوط میراث لے کر آیا ہے۔انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیوف کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ آستانہ اعلامیہ اور اس اجلاس میں منظور ہونے والی دیگر دستاویزات امن و خوشحالی کے مقاصد کے لیے کوششوں کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انھوں نے فلسطینی عوام کی بے پناہ مشکلات کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جس میں 37000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی انکوائری رپورٹ کی بھی توثیق کی جس میں اسرائیل کی کارروائیوں کو جنگی جرائم اور عالمی عدالت انصاف نے اسے نسل کشی قرار دیتے ہوئے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ 
شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیہ کے مطابق تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر معیشت اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فیصلوں کی منظوری دے دی، ماحولیات کے تحفظ سے متعلق معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے۔ شہباز شریف نے 3 اور 4 جولائی کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ (سی ایچ ایس) کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ سی ایچ ایس نے اہم علاقائی اور عالمی سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی مسائل، چیلنجز اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ کونسل نے تعاون کے مختلف شعبوں میں تقریباً 20 فیصلوں کی منظوری دی۔ آستانہ اعلامیہ کو اپنانے کے علاوہ سی ایچ ایس نے تین بیانات کو اپنایا جن میں پینے کے پانی اور صفائی، ویسٹ مینجمنٹ کا مو¿ثر انتظام اور اچھے پڑوسی ہونے کے اصول شامل ہیں۔ کونسل نے اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں جاری تعاون کے لیے مختلف منصوبوں اور حکمت عملیوں کی بھی منظوری دی۔ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق ایک معاہدے پر ایس سی او کے متعلقہ وزراءنے دستخط کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے 1967ءسے پہلے کی سرحدوں کی بنیادوں پر دو ریاستی حل کا حامی ہے جس کے تحت فلسطینی ریاست کا قیام ہو اور اس کا دارالحکومت القدس ہو۔ پاکستان رواں سال اکتوبر میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کے لیے پر عزم ہے۔ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ تعاون پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان ایس سی او کو متحرک تنظیم بنانے اور اہداف کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
شہباز شریف کی آستانہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں، ہمیں مستقبل میں اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ روس سے تیل کی سپلائی ہمیں موصول ہوئی ہے، ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں، 60ءاور 70ءکی دہائی میں ہم نے بارٹر سسٹم کے تحت تجارت کا آغاز کیا تھا، روس کے ساتھ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، روس کے ساتھ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے روسی انتخابات میں کامیابی پر صدر پیوٹن کو مبارکباد پیش کی۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنا تعاون بڑھا سکتے ہیں، غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔ شہباز شریف نے تاجک وزیر اعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور کراچی بندرگاہ پر تجارت کی دعوت دی۔ شہباز شریف نے دوران ملاقات آبی سفارت کاری کے شعبے میں تاجکستان کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں سٹرٹیجک شراکت داری کے معاہدے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہیں۔ پاکستان اپنے ’ویژن سینٹرل ایشیا‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاجکستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے جائیں گے۔ ریل اور روڈز سے علاقائی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، پاکستان وسط ایشیائی ممالک کو تجارتی راہداری فراہم کرے گا۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوف کے درمیان آستانہ میں ملاقات ہوئی، کثیرالجہتی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی بات چیت کا دور ہوا۔ شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کے ہمراہ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعظم نے تینوں ممالک کے مابین معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سہ فریقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ترکیہ اور آذربائیجان کیساتھ معیشت، توانائی، سیاحت، موسمیات، ثقافت، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سہ فریقی تعاون کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔

اسد اللہ غالب....انداز جہاں

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...