اقتدار کے سراب

اٹلی کے مشہور آمر مسولینی کو یہ خبط ہو گیا تھا (جیسا کہ آمروں اور غیر مقبول حکمرانوں کو اکثر ہو جایا کرتا ہے) کہ وہ عوام میں بہت مقبول ہے اور قتل ہونے تک اس خبط میں مبتلا رہا۔ لطیفہ مشہور ہے کہ مسولینی ایک بار بھیس بدل کر اپنے ڈرائیور کے ساتھ دیہاتی علاقے کی سیر کو نکل آیا۔ راستے میں گاڑی خراب ہو گئی ڈرائیور نے عرض کیا کہ جناب دو تین گھنٹے لگ جائیں گے۔ آپ اتنی دیر قریبی قصبے کے سینما میں جاکر فلم کیوں نہیں دیکھ لیتے۔ مسولینی عام آدمی کے بھیس میں ٹہلتا ہوا سینما ہال پہنچا۔ جھٹ سے ٹکٹ خریدار اور پٹ سے ہال کی ایک سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ فلم شروع ہونے سے پہلے اس کی تصویر دکھائی گئی تو دستور کے مطابق تمام حاضرین اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسولینی اپنی یہ مقبولیت دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوا مگر خود بیٹھا رہا۔ پڑوسی نے فوراً ہمدردی دکھائی اور کہا ہمارے جذبات بھی وہی ہیں جو اس آمر کے حوالے سے تمہارے ہیں لیکن منافقت کا تقاضا ہے کہ اٹھ کھڑے ہو جاو¿ اور گرفتاری سے بچ جاو¿۔ اقتدار کے سراب بھی بہت دلکش ہوتے ہیں جو ہینگ اور پھٹکڑی لگائے بغیر ہی حکمرانوں کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں جو ”ایلس ان ونڈرلینڈ“ سے بھی زیادہ عجیب تو ہوتی ہے لیکن رعایا کی طرح غریب بالکل نہیں ہوتی۔ اکثر خوشامدی اور مصاحب اپنی اپنی کرسیاں بچانے اور کرسیوں کے قطر وسیع کرنے یعنی اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کیلئے ایسے ایسے حسین خواب دکھاتے اور سرابوں میں پھنساتے ہیں کہ خدا کی پناہ اور بیچارا حکمران ان خوابوں، سرابوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سمجھنے کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 
دروغ بر گردن راوی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ”نجات دہندہ“ محترم ایوب خان صاحب کو خوش رکھنے بلکہ سرابوں میں غوطے کھاتے رہنے کیلئے اس وقت کے ایک مقبول اخبار کی فیک کاپی شائع کی جاتی تھی۔ وہ ساون کے اندھے تو بحرحال نہیں تھے لیکن اس اخباری کاپی میں انہیں سب ہرا ہرا دکھائی دیتا تھا اور وہ ناشتے کی میز پر ہی ہری بھری دنیا کا نشہ اپنے اوپر سوار کر لیتے تھے اور رات گئے تک اس ترنگ میں رہتے تھے۔
واقعی اقتدار کے سرابوں کی ترنگ بڑے بڑے زیرک انسانوں کو سادہ دل، سادہ فہم بننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ابن انشا نے کسی سفر نامے میں لکھا ہے کہ گاو¿ں کے ایک گھر کے دروازے پر شام پڑے ایک اجنبی مسافر آدھمکا (ان دنوں مکان کچے اور لوگ سچے تھے، کوئی مسافر مہمان بن کر آتا تو اس کے استقبال کیلئے گھر کے دروازے کھول دیئے جاتے اور وہ نیک بخت بھی بے ضرر مہمان ہی ثابت ہوا کرتا، کچے یا پکے کا ڈاکو نہ نکلتا)۔ تو جناب اس مہمان کو شایان شان طریقے سے میزبان کے کمرے میں ٹھہرا دیا گیا۔ کھانے کے بعد میزبان نے حاتم کی قبر پر مزید لات مارتے ہوئے مسافر کو سونے کیلئے عام سے کپڑے بھی دیدیئے تاکہ اس کا عمدہ سوٹ خراب نہ ہو اور ساتھ یہ بھی تاکید کر دی کہ وہ آرام سے سوئے اور صبح ناشتہ کرکے جائے۔ اور بتایا کہ اسے ایک ضروری کام کے سلسلے میں دوسرے گاو¿ں اذانوں سے بھی قبل روانہ ہونا ہے۔ اس لئے ملاقات نہ ہو سکے گی اور پیشگی خداحافظ.... میزبان اٹھا جلدی میں مسافر کے کپڑے پہنے اور روانہ ہو گیا۔ جیسے جیسے دن کی روشنی پھیلی تو کپڑوں پر نظر پڑی فوراً یہ کہتا ہوا گھر کی طرف واپس ہوا کہ ”میری ماں بھی کتنی سادہ ہے، اٹھانا مجھے تھا اور اٹھا مہمان کو دیا ہے“ 
بات ہو رہی تھی اقتدار کے سرابوں کی جو اچھے سے اچھے حکمران کو دھوکے میں مبتلا کئے رکھتے ہیں وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ جو تنقید ہو رہی ہے، جو برا بھلا کہا جا رہا ہے وہ تو اس کے مخالفوں کو کہا جا رہا ہے اور اس کی مقبولیت تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ اور جیسے ہی اقتدار کا نشہ ہرن ہوتا ہے اور خوشامدی مصاحب چھوڑ چھاڑ کر نئے آنے والے کو اپنے گھیرے میں لیکر پرانے کو تنہا کر دیتے ہیں تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں جسے تنقید اور غیر مقبولیت کا سامنا تھا وہ خود ہی تھا۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ناقابل تلافی دیر ....اچھے حکمران اور رہنماو¿ں کا ہاتھ ہمیشہ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ وہ عام لوگوں کو خوشامدی مصاحبوں کی عینک سے دیکھنے کی بجائے اپنی دو عدد کھلی آنکھوں سے دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ عوامی جذبات اور ملکی صورتحال کا براہ راست مشاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ عوام سے بہت زیادہ فاصلہ نہیں بناتے، عیش و آرام چھوڑ کر سادگی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ سب کو روٹی، کپڑا، چھت اور بہتر سہولتیں دینا ممکن نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں لیکن اگر مسکین عوام کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ انکا حکمران بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ انہی جیسی زندگی گزار رہا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول کی سبسڈی خود لیتا ہے نہ کسی کو لینے دیتا ہے۔ سفر کیلئے عام سی گاڑی استعمال کرتا ہے۔ (کسی مہمان کا استقبال کرنا ہو تو اور بات ہے) عوامی ٹیکسوں اور قربانیوں سے بنے بڑے بڑے عالیشان محلات میں خود رہتا ہے نہ کسی کو رہنے دیتا ہے، عوام کو سہولتیں میسر ہیں یا نہیں اس کا اچانک دورے کرکے خود معائنہ کرتا ہے۔ تو لوگ ایسے حکمران کو سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں۔
 ایک بات اور۔ وہ یہ کہ اچھے حکمران سنتے سب کی ہیں لیکن سر اس بات پر دھنتے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہو۔ حقیقت وہی ہوتی ہے جس کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہو، اپنی بصیرت سے کھوج لگایا ہو مانگے کی عینک اور عقل سے نہیں.... ایسے حکمران پر عوام فریفتہ رہتے ہیں، ان میں افراتفری اور نفسا نفسی کی بیماری نہیں پھیلتی۔ وہ لکڑیوں کے گٹھے کی طرح متحد رہتے ہیں اور ایک قوم بن کر بڑی سے بڑی آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ایران کا انصاف پسند بادشاہ نوشیرواں شکار کو گیا تو معلوم ہوا کہ نمک کم پڑ گیا ہے۔ ایک مصاحب نے عرض کیا کہ ”آپ نوشیرواں عادل مشہور ہیں ابھی کسی پیادے کو قریب کی آبادی میں بھیجیں دیکھئے گا لوگ آپ کے نام پر نمک کا ڈھیر لگا دینگے۔“ اس پر نوشیرواں نے وہ تاریخی جواب دیا تھا جو آج بھی حکمرانوں کیلئے گائیڈ لائن ہے۔ اس نے کہا ”بات دل کو لگتی ہے۔ کسی کو نمک لینے ضرور بھجوائیں مگر اسے تاکید کر دیں کہ بغیر دام دیئے کچھ نہ لائے کیونکہ اگر آج میں نے ایک مٹھی نمک بغیر پیسے دیئے لے لیا تو کل کو میرے ساتھی میرے نام پر بوریوں کی بوریاں بھر لیں گے اور پھر نامعلوم یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے۔“
آخر میں سید ضمیر جعفری کی مختصر سی دعائیہ نظم پیشِ خدمت ہے:
یا رب مجھے کرم سے اپنے
سورج کی طرح طلوع رکھنا
سورج کی طرح غروب کرنا

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...