حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ(۲)

حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے عمر ؓ کی زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے( ابو داﺅد )۔ آپ نے فرمایا : ہر امت میں ایک محدث ہوتا ہے میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو وہ عمر بن خطابؓ ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا جس راہ سے عمر ؓ گزریں شیطان اس راہ سے نہیں گزرتا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ساری زندگی اتباع رسول صلی اللہ علیہ و سلّم میں گزاری اور کوئی بھی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو شریعت مطہرہ اور سنت رسول کے خلاف ہو۔حضرت سیدنا خبیر بن نفیر فرماتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت ش±ر حبیل بن سمطؓ کے ساتھ سفر پر گیا تو ایک مقام پر انہوں نے دو نوافل ادا کیے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوںنے کہا میں نے سیدنا فاروق اعظم ؓ کو مقام ذوالحلیفہ میں اسی طرح دو رکعت نفل پڑھتے دیکھا تو میں نے اس کی کی وجہ دریافت کی تو سیدنا فاروق اعظم ؓنے فرمایا میں وہی کر رہا ہوں جو میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم ) 
 آپ نے عاجزی و انکساری اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں سیدنا فاروق اعظم ؓ جب کہیں سفر پر جاتے تو راستے میں آرام فرمانے کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا لیتے اوراس پر کپڑا بچھا کر آرام فرماتے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )۔
 آپ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تو جہاں کہیں پڑاﺅ کرنا ہوتا کوئی خیمہ نہ لگاتے اور نہ ہی قنات بلکہ درخت پر چٹائی یا کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔ (تاریخ ابن عساکر )۔سیدنا فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں جب بندہ اللہ تعالی کے لیے توضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کی قدرو منزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ( احیا ءالعلوم )۔
آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں مشیر مقبول اور مقرب خاص کی حثییت حاصل تھی آپ جو بھی عرض کرتے آپ قبول فرماتے۔ایک غزوہ کے موقع پر خوراک کی کمی کی وجہ سے حضور نبی کریمﷺ نے فوج کی تعداد کے مطابق اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تو عمر فاروقؓ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح سواریاں کم پڑ جائیں گی اور فوج کو مشکلات پیش آئیں گی۔ آپ سب صحابہ کرام ؓ سے بچی ہوئی خوراک جمع کریں اور اللہ تعالی سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور طعام میں کوئی کمی نہ آئی۔ آپ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ( بخاری شریف)۔
بہت سارے احکام اللہ تعالی نے آپ کی خواہش پر نازل فرمائے جیسا کہ پردے کاحکم ، شراب کی حرمت اور مقام ابراہیم کو جائےمصلہ بنانے کا حکم۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...