ON HIS MAJESTY'S SECRET SERVICE

09 دسمبر 2014
ON HIS MAJESTY'S SECRET SERVICE

جن لوگوں نے آئن فلیمنگ کے ناول پڑھے ہیں یا ان پر مبنی فلمیں دیکھی ہیں‘ انہیں بخوبی علم ہوگا کہ حکومت وقت ایک نہایت زیرک‘ چالاک اور ہوشیار شخص کو مشکل مشن پر مامور کرتی ہے۔ ایجنٹ 007 المعروف جیمز بانڈ چومکھی لڑتا ہے اور خطرات کی پروا نہ کرتے ہوئے دیا ہوا ٹاسک مکمل کرتا ہے۔ اسے ایک خطیر رقم دی جاتی ہے جسے وہ جہاں چاہے‘ جس طرح چاہے صرف کر سکتا ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا ڈاکٹر طاہرقادری بھی گزشتہ دنوںکسی ایسے ہی مشن پر پاکستان پدھارے اور اپنا کام نہایت عقلمندی اور سلیقے سے کرتے رہے۔ مولانا چومکھی نہیں سومکھی لڑ رہے ہیں۔

مولانا نے ساری قوم کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا جب پچھلے برس اپنے ملک کینیڈا سے اعلان کیا کہ انہوں نے پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم کر لیا ہے۔ حضرت فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے تھے اور اس آئین کو ماننے سے یکسر انکاری تھے جو بقول ان کے اشرافیہ اور اہل زر نے اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کیلئے وضع کیا تھا۔ تشہیر کیلئے انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کیا اور کروڑوں روپے خرچ کئے۔ اپنے مخصوص لباس میں جلال و جمال کا پیکر بنے۔ مولانا جب دھاڑتے ”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“ تو ان کا شبستان وجود بید مجنوں کی شاخ کی لرزتا‘ ناظرین پر ایک وجد سا طاری ہو جاتا۔ ایوان اقتدار لرزہ براندام ہو جاتے۔ GUESSING GAME شروع ہو جاتی کہ برسوں تک وقت کی غار میں سویا ہوا شخص اچانک کیسے بیدار ہو گیا۔ کس کے ایما پر کیا چاہتا ہے؟ زر کثیر کہاں سے آیا۔ مولانا کی آمد خاصی ڈرامائی تھی۔ رومن جنرل جولیس سیزر نے کہا تھا ”میں آیا‘ میں نے دیکھا اور میں چھا گیا۔“ مولانا نے مینار پاکستان کے سائے تلے بھی کچھ ایسا ہی تاثر دیا۔ حکومت وقت کو ایک ماہ کی مہلت دی کہ اس عرصے میں وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ لے‘ تائب ہو جائے، ہاتھ کھڑے کر دے وگرنہ دمادم مست قلندر ہوگا۔ جب زرداری حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی تو قلندر میدان میں اتر گیا۔ اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا۔ غضب کی سردی‘ رمستانی ہوائیں‘ طوفان بادوباراں کچھ بھی ان کے مریدان باصفا کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔ ایک دن اپنے ”کوزی کنٹینر“ سے باہر نکل کر مولانا نے ان کی حالت زار دیکھی تو یخ بستہ زدہ ہوا ئے شمال میں بھی انہیں پسینہ آگیا اور اس طرح کوچ کا بگل بج گیا۔ ندامت کا خرقہ اوڑھے واپس لاہور آگئے۔ جلوسِ رسوائی میں جو کسر رہ گئی تھی وہ عدالت عظمیٰ نے پوری کر دی۔ عدلیہ کے چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب نہ دے پائے۔ انہیں پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ دن کو بھی تارے نکل سکتے ہیں اور تاریکی کیلئے لازم نہیں ہے کہ سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرے۔ چنانچہ قوم کی تقدیر بدلے بغیر بے نیل و مرام واپس لوٹے۔
انگریزی زبان کا محاورہ ہے۔ ONE BECOMES WISER AFTER THE EVENT مولانا نے اس تلخ تجربے سے کچھ سبق نہ سیکھا اور ایک سال بعد پھر نظام بدلنے پہنچ گئے۔ ان کی آمد سے قبل ایک بہت بڑا المیہ ہو گیا۔ پولیس نے ان کے 16 آدمیوں کو بھون ڈالا۔ 80 کے قریب لوگ گولیوں سے زخمی ہوئے۔ ساری قوم کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوئیں۔ مولانا نے ایک بار پھر کوئے ملامت میں جانے کا ارادہ کیا۔ اس بار چند مخصوص اعلانات فرمائے۔ مجھے رسول خداکی شفاعت نصیب نہ ہو اگر حکومت گرائے بغیر واپس آجاﺅں۔ ساتھ ہی بھگوڑوں کو گولی مارنے کا حکم بھی صادر فرمایا۔ اپنے لئے بھی یہی سزا تجویز کی۔ اس بار انہیں ایک اضافی ایڈوانٹج تھا۔ ان کا ”کزن“ عمران خان بھی قرب و جوار میں خیمہ زن تھا۔ لوگوں کو کچھ یوں گمان ہوا‘ لیکن اب کے سرگرانی اور ہے۔ مولانا نے اس جہاد میں متوقع شہید ہو جانے والوںکیلئے قبریں بھی کھدوا ڈالیں۔ کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید ہل جاتی‘ لیکن آہنی اعصاب والے ارباب اختیار گھر کے بھیدی تھے‘ ڈٹ گئے۔
اس اعصابی جنگ میںمولانا طاہرالقادری کو ایک بار پھر زک اٹھانا پڑی اور ایک دن اچانک کوچ کا بگل بجا دیا۔ سارے ملک میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ ہزار وسوسوں نے ذہن کے زندان میں جنم لیا۔ مک مکا‘ سودا بازی‘ جتنے منہ اتنی باتیں‘ چودھری برادران جنہوں نے اس مہم میں زر کثیر خرچ کیا تھا‘ ہکا بکا رہ گئے۔ سرعام تو کچھ نہ کہا‘ لیکن اپنے خاص دوستوں کو جو کچھ بتایا‘ وہ HORRENDOUS تھا۔
دھرنا لپیٹنے کے بعدمولانا واپس کینیڈا چلے گئے۔پھر اچانک لوٹ آئے ۔ اس نے کئی افواہوں کو جنم دیا ۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی پیٹھ میں چھرا تو پہلے ہی گھونپ چکے تھے۔ اب مُردہ تحریک کی آخری رسومات ادا کرنے تشریف لائے تھے۔ غالباً عمران کو ناکام بنانا بھی ڈیل کا حصہ تھا۔ انہوں نے بھکر میں اس دن جلسہ رکھا جس دن عمران نے گوجرانوالہ میں خطاب کرنا تھا۔ چاہتے تو آسانی سے جلسے کوآگے پیچھے کر سکتے تھے۔ عمران کے جلسے کے اثرات کو DILUTE کرنے کیلئے ناسازی طبع کے باوصف اپنی تقریر کو غیرضروری طوالت دی۔ اس طرح میڈیا کا فوکس موڑ دیا۔ فراڈ الیکشن کا ذکر ایک تسلسل سے کرتے رہے۔ حکومت کو غیرقانونی کہتے رہے۔ اس کے زیرنگرانی انتخابات لڑنے کا اعلان حکومت کو LEGITIMACY فراہم کرنا تھا۔ اعلان فرمایا کہ عمران خان نے 30 نومبر کے جلسے کیلئے درخواست کی تو غور فرمائیں گے۔ مولانا کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اس طرح ”سمبالک پارٹیسیپشن“ بھی نہ کی۔ چاہتے تو رحیق عباسی کو ہی بھیج دیتے۔ مولانا نے اپنی بیماری کی تشخیص کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہیں انجائینا ہے اور گزشہ بیس برس سے اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اپنا علاج کرانے کیلئے چار ماہ کیلئے امریکہ چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملا عطا فرمائے اور ساری قوم دعاگو ہے کہ جو مرض بیس برس تک کینیڈا میں ٹھیک نہیں ہوا وہ امریکہ میں چند ماہ میں کافور ہو جائے ۔ ہم چونکہ خود بھی گزشتہ 25 برس سے اس عارضے کے حصار میں ہیں‘ اس لئے ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔ صحت یابی کے بعد انہیں چاہئے کہ بقیہ زندگی دین کی تبلیغ اور ترویج میں گزار دیں۔ بھکر میں اپنے امیدوار کی واضح شکست کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا کہ آئندہ سو برس تک بھی دوتہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکتی۔ جن عوام کا ”بادہ نیم رس ہو‘ ذہن نارسا ہو“ وہ پارسائی تک نہیں پہنچ سکتے۔ پارسائی کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ باقی رہا ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کا قصہ تو JIT کی رپورٹ کے بعد لواحقین کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا