Binding Force اور جمہوریت

09 دسمبر 2014

پاکستانی فوج کا کردار کیا ہونا چاہئے اور موجودہ حالات میں پاک فوج کیا رول ادا کر رہی ہے اس پر ہمیشہ کی طرح آج بھی بات ہو رہی ہے کیونکہ پاکستانی فوج کی دنیا بھر میں ایک شناخت ہے۔ چند دن قبل جب جنرل راحیل شریف نے امریکہ کا دورہ کیا تو انہیں خصوصی عزت دی گئی اسکے ساتھ ساتھ امریکی وزیر خارجہ کی خصوصی درخواست پر چُھٹی والے دن ملاقات کی گئی اور جان کیری نے بڑی فراخدلی سے کہا کہ ’’پاک فوج ملک کو متحد رکھنے والی حقیقی قوت ہے‘‘ اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں بڑی قربانی دی ہے۔ امریکہ کی طرف سے کھلے الفاظ میں اظہار پاک فوج اورپاکستانیوں کیلئے باعث عزت ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی جنگ میں 50 ہزار سے زائد لوگوں نے قربانی دی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی بدولت پاکستانی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے پاک فوج کو مکمل فری ہینڈ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج جنرل راحیل شریف نے کراچی میں فوج کی سوچ کا بھرپور اظہار کیا۔ انہوں نے درست طور پر کہا کہ غیر ریاستی عناصر ریاستوں کیلئے براہ راست خطرہ ہیں۔ دہشت گرد اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنرل راحیل نے مسئلہ کشمیر پر بھی کھل کر اظہار کیا اور اسکے حل کو انتہائی ضروری قرار دیا۔ جنرل راحیل شریف کی واضح سوچ کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی منظوری دی گئی ہے جو کہ پاکستان کی پالیسیوں پر مہر ثبت ہے۔ لیکن امریکہ کو پاکستان کی امدادکے بارے میں شرطیں نہیں لگانی چاہئیں۔ امریکہ کو پاکستان کیساتھ خصوصی محبت کا اظہارکرنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کیلئے پاکستانی فوج کا یہ کارنامہ کافی نہیں کہ القاعدہ کا اہم کمانڈر عدنان اشکری کو ہلاک کر دیا گیا جس پر 50 لاکھ ڈالرکا انعام مقرر تھا۔ امریکہ کو اور کیا ثبوت چاہئیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ کی تحریری رپورٹ دیکھ لیں تو ان کو مزید تسلی ہو جائیگی جس کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کو80 بلین ڈالرکا نقصان ہو چکا ہے۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران پنجاب سے1974 افراد قتل اور3061 زخمی ہوئے۔ سندھ میں 335 افراد مرے اور 1347 زخمی ہوئے۔ خیبر پی کے میں 3226 افراد موت کی وادی میں اُترے اور8721 افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں 1124 افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے اور3770 زخمی ہوئے۔ افغان مہاجرین کی کئی سالوں سے آمد کی وجہ سے نقصان علیحدہ ہے۔ امریکہ کیساتھ ساتھ انکے اتحادیوںکو پاکستان کی ان قربانیوں کا صرف اعتراف نہیں کرنا چاہئے بلکہ دل کھول کر پاکستان کے نقصانات کی تلافی کرنی چاہئے اور بغیر کسی شرط امداد دینے کا اعلان ہونا چاہئے۔ پاکستان نے افغانستان سے تعلقات کو بہت بہترکر لیا ہے۔ لندن میں افغان کانفرنس میں بھی اس کا اعتراف کیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان حقیقت کی دنیا میں آ گیا ہے۔ موجودہ فوجی قیادت دہشتگردی کے خاتمے کیساتھ ساتھ دوسرے محاذوں پر بھی سول حکومت سے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ سول نافرمانی، دھرنے اور ملکی پہیہ جام کرنے کی کوشش کی گئی اور فوج کو بھرپور دعوت بھی دی گئی لیکن فوجی قیادت تمام تر Temptation کے باوجود اقتدار سنبھالنے کیلئے تیار نہیں ہوئی، دوسری طرف جنرل مشرف نے مایوسی کے عالم میں فوج کے آئینی کردار کا مطالبہ کیا ہے ہر دو چار سال بعد فوج کے آئینی کردار پر بحث شروع ہو جاتی ہے اور سول حکومت کو کمزور دیکھنے کے خواب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ قوم نے اس مطالبہ پر کبھی دھیان نہیں دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ فوج نے بہترین رول اُس وقت ادا کیا ہے جس وقت فوج نے سول حکومت کے تحت کردار ادا کیا ہو۔ جنرل مشرف 1999ء سے لیکر 2008ء تک طاقتور حکمران رہے۔ انہوں نے فوج کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی چلایا۔ آئینی کردار تو دورکی بات براہ راست حکومت کنٹرول کی۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصہ میں ملک نے کیا ترقی کی۔ کیا دہشت گردی کی جنگ شروع ہونا ترقی تھی؟ کیا جمہوری پودے کو جڑ سے اکھاڑ کر دوبارہ لگانا ترقی تھی؟ کیا پانی کا مسئلہ حل نہ ہونا ترقی تھی؟ کیا پاکستانی فوج کو مشکوک قرار دلوانا ترقی تھی؟ گزارش یہ ہے کہ فوج کی ترقی اور آئینی کردار جمہوریت اور سول حکومت میں ہی بہتر انداز سے ہوتا ہے۔ اسی لئے آج جان کیری پاک فوج کو Binding Force کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے لیکن اگر فوج آئینی کردار میں ہوتی تو یقیناً اس طرح کے ریمارکس سامنے نہ آتے۔ پاک فوج کو سیاسی معاملات میں دخل دینے کی دعوت دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر کور کمانڈر کراچی سندھ اور خصوصاً کراچی میں لینڈ مافیا اور امن و امان کی بدترین صورتحال کا ذکر کرتے ہیں تو اس کو دخل اندازی بھی نہیں سمجھنا چاہئے۔ پاک فوج ہمارا حصہ ہے۔ درست سمت کی طرف نشاندہی کرنا غلط نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک خصوصاً کراچی کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ جب بھی دہشت گردی اور امن و امان پر خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے تو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز بھی زیر بحث آتی ہیں۔ پہلی دفعہ کسی فوجی سربراہ نے ان دونوں اداروں کے معاملات کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے۔ ماضی میں تو فوجی حکومتیں این جی اوز کے سہارے چلتی تھیں اور انکے اداروں کے لوگ وفاقی وزیر بنتے تھے لیکن اب تو جنرل راحیل شریف نے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور NGO's کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ گزارش ہے کہ حکومت کواس بات کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ غیر ملکی امدادکے بل بوتے پرکسی کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ہماری ایجنسیاں سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسے اداروں کی نشاندہی کریں جو ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی باتوں پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ یادرکھنا چاہئے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی جرنیل پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا اتنا اچھا وقت نہیں آیا جتنا عمران خان اور طاہر القادری نے جنرل راحیل شریف کو دیا تھا لیکن اب حکومت اس کو Take it granted نہ لے۔ جن مسائل کی طرف جنرل راحیل شریف نے توجہ دلائی ہے ان پر ایکشن لینا چاہئے۔ اس طرح عمران خان کے مطالبات پر بھی فیصلہ کرنا چاہئے۔ حکومت نے ضد اور انا کی قربانی دے کر احسن قدم اٹھایا ہے۔ مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہوتا ہے۔ بڑی بڑی جنگیں مسائل حل نہیں کرتیں لیکن مذاکرات کی میز پر بڑے بڑے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ انتخابی دھاندلیوںکی تحقیقات اور الیکشن اصلاحات کے مطالبات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت چلی جائے۔