سیاسی جرگے کے سربراہ اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں، اگر انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے سب کا موقف ایک ہی ہے تو جوڈیشل کمیشن بنائے جانے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ 1977 جیسے حالات سے بچنے کے لیے مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہو گا۔

09 دسمبر 2014 (17:00)

اسلام آباد میں جرگہ ارکان سے بات چیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سیاسی جرگے نے 37 بار پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا لیکن بدقسمتی سے ماضی سے سبق نہیں سیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد جیسے واقعات سے بچنے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حکومت اور تحریک انصاف کو مذاکرات کی میز پر آنے کی ضرورت ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ 1958 اور 1977 میں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیا جس کی وجہ سے مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مرتبہ پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔رحمان ملک نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی بحران سے بچنے کے لیے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی راہ کو ترک کر کے ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہو گا۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ  ہم نے اس سلسلے میں عمران خان سے بات کی جس پر انہوں نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب فریقین جوڈیشل کمیشن پر رضامند ہیں تو فوری طور پر دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنا دینا چاہیے۔