لندن : تحریک انصاف کا فضل الرحمن کا گھیراﺅ جے یو آئی کے کارکنوں سے ہاتھا پائی

09 دسمبر 2014

لندن+ لاہور (نیوز ایجنسیاں+ خصوصی نامہ نگار) لندن میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کےخلاف پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نعرے بازی کی اور ان کا گھیراﺅ کر لیا۔ اس موقع پر دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں سے مبینہ طور پر فضل الرحمن پر حملے کی کوشش بھی گئی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان بڑا تصادم ہونے سے بچ گیا۔ لندن کے نیو ساﺅتھ ہال میں صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب مولانا فضل الرحمن پارٹی کے رہنما خالد سومرو کی یاد میں مسجد ابوبکر میں تعزیتی ریفرنس کے بعد باہر آرہے تھے، اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے لیکن جے یو آئی ف کے کارکنوں نے مولانا فضل الرحمن کو اپنے حصار میں لے لیا۔ پی ٹی آئی کے کچھ کارکن فضل الرحمن پر حملے کیلئے آگے بڑھے تو جے یو آئی (ف) کے کارکنوں سے ہاتھا پائی ہو گئی اور کارکن اپنے قائد کو بحفاظت نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انہوں نے مولانا پر حملہ نہیں کیا بلکہ جے یو آئی کے کارکنوں نے حملہ کرکے ان کے ایک ساتھی کو زخمی کیاجس پر تشدد کی پولیس کو رپورٹ کرا سکتے ہیں۔ واقعہ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کسی بھی قسم کے تشددکی حمایت نہیں کریں گے، اسلام میں غنڈہ گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تصادم سے قبل تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا تھاکہ دھرنوں کی میڈیا کوریج بند کردی جائے تو ملک کے حالات جلد نارمل ہو جائیں گے۔ خالد سومرو کے قاتلوں کی گرفتاری سے متعلق ابھی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ۔ملک میں علماءاور مذہبی رہنماﺅں کے قتل سے انہیں انتہاءپسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق نجی دورے پر لندن پہنچتے ہی سربراہ جے یو آئی ف فضل الرحمن کو اس وقت بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں مقیم افغان شہریوں نے ان کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی اور ان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی، افغان شہریوں نے افغانستان کے جھنڈے اٹھارکھے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں شدت پسندی کو فروغ دینے میں مولانا فضل الرحمن کا اہم کردار ہے، مشتعل مظاہرین نے فضل الرحمن پر حملے کی بھی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے افغان شہریوں کو منتشر کردیا۔ قبل ازیں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے یو آئی پاکستان میں پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام کے نفاذ کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ءکے آئین میں طے ہو چکا ہے کہ ملک کا نظام اسلامی ہو گا اور اس حوالے سے کام کرنا جو بھی حکومت برسراقتدار آئے گی اس کی ذمے داری ہو گی۔ ریفرنس سے مولانا سہیل باوا، مولانا طاہر فیاض، مفتی اسلم، مولانا عطاءاللہ، مفتی خالد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ فضل الرحمن نے کہاکہ وطن عزیز جو اسلام کے نام پر بنا ہے جے یو آئی اسی نظام کے نفاذ کیلئے پُرامن جدوجہد کر رہی ہے اسی جدوجہد کو ڈاکٹر خالد محمود سومرو آگے بڑھا رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام امن کا دین ہے اس مشن کو آگے پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں دھرنے اور احتجاجوں سے تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے جے یو آئی کوشاں ہے۔ علاوہ ازیںجے یو آئی نے لندن کے نیوساﺅتھ ہال میں منعقدہ تقریب کے اختتام پر پی ٹی آئی کے 3سے 4کارکنوں کے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن پر حملے کی کوشش کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد جمعیت پر ایسے حملے کی کوئی جرا¿ت نہیں کر سکتا ہے۔ مولانا محمد امجد خان، مفتی ابرار احمد اور حاجی شمس الرحمن شمسی نے بتایا کہ جب خطاب کرنے کے بعد فضل الرحمن ہال سے نکلے تو باہر تین سے چار افراد جو پی ٹی آئی کے تھے انہوں نے گو گوکے نعرے لگائے جبکہ مولانا تقریب سے فارغ ہوکر دوسرے پروگرام کی طرف جا چکے تھے تب انہوں نے نعرے بازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سبق آج یا د کرایا جا رہا ہے وہ کل پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی سننا پڑے گا، تہذیب اور اخلاق کے دامن کو چھوڑنا پی ٹی آئی کا کلچر بن چکا ہے جو ملک سے باہر بھی دکھا ئی دینے لگا ہے۔
فضل الرحمن /گھیراﺅ