سیاست اور منافقت

09 دسمبر 2014
سیاست اور منافقت

جس طرح تعلیم پیغمبری پیشہ ہے سیاست بھی اسی طرح مقدس ہے ۔ قرآن پاک کی متعدد آیات میں منافقین کیلئے دوزخ کی سزا کا حکم ہے۔ سورة النّساءکی آیة145 میں فرمایا گیا ہے کہ منافقین دوزخ کے سب سے بُرے درجے میں ہوں گے۔ سورة توبہ میں تو منافقین کی صفات کے بارے میں بھی ذکر فرمادیا گیا ہے کہ اس گفتار و کردار والے منافق ہیں۔ خراسان کے پیر طریقت حضرت شفیق بلخی کو ابراہیم ادھم کی صحبت میں رہنے کا شرف بھی حاصل رہا۔ اُن کا قول مشہور ہے کہ:۔ ”مومن کی مثال اُس شخص کی ہے جو کھجور کا درخت لگائے اور اُس خوف میں رہے کہ شاید اس میں کانٹے پیدا ہوںاور منافق کی مثال اس شخص کی ہے جو کانٹے بوئے اور تروتازہ کھجوروں کی امید رکھے“ جس طرح پروردگار نے منافقین کے بارے واضح صفات بیان فرما کر عوام الناس کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان لوگوں سے بچ کر رہنا اسی طرح قرآن پاک میں جا بجا مومنین کے بارے میں بھی ذکر فرمایاگیا ہے دوسرے پارہ کے عین نصف میں، سورہ عمران کے آخری رکوع میں اور خاص طور پر سورة مومنون کی پہلی دس آیات میں مومن لوگوں کی صفات بیان فرمائی گئی ہیں اور مومنین کو جنت کے وارثین فرمایا گیاہے۔ آج کی دنیا میں اور خاص طور پر ہمارے پاک وطن میں جھوٹ ، فریب اور منافقت کا نام سیاست ہے۔ راست باز شخص آج ملکی سیاست میں حصہ لینے کا اہل نہیں رہا۔ اپنے ووٹروں سے جھوٹ، اپنے احباب اور کاروبارِ حیات میں منافقت، قول و فعل میں تضاد، کردار نام کی کوئی چیز ان میں پائی نہیں جاتی ۔ کہنا کچھ کرنا کچھ اور.... لیکن اس گئے گزرے دور میں مثال پیش کرنے کیلئے کچھ لوگ ابھی باقی ہیں۔ چند روز ہوئے ایک ایسے واقف کار سیاست دان سے ایک مقامی ہوٹل میں اتفاقاً ملاقات ہو گئی، آجکل کے سیاسی ماحول کے بارے میں اُن سے تبصرہ سننا چاہا۔ اُن سے جب موجودہ دنوں کی سیاست کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگے۔ آپ کو معلوم ہے میں نے پانچ مرتبہ الیکشن جیتا ہے اور عوام کی خدمت کر کے جیتا ہے لیکن آج ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ سیاست سے دل بھر گیا ہے آئندہ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیوں؟ تو کہنے لگے آپ نے پنجابی کی کہاوت تو سُنی ہو گی” مراثی دے پُتر نے آکھیا جس دن دا پیو نوں مردیاں ویکھیا اے اس دن توںمیرا دل موت توں بھر گیا اے“۔میں نے پھر سوال کیا اس سے آپکی مراد کیا ہے فرمانے لگے۔ آجکل جو سیاست دان منافق اور جھوٹا نہ ہو وہ کلی ناکام ہے۔ملک و قوم کا بیڑا غرق کر دیاگیا ہے موجودہ سیاست دانوں کو سیاست کا پتہ ہے نہ سیاست کی اخلاقیات کا۔ ایسے حالات میں سیاست بھی منافقت کی موت مر رہی ہے چنانچہ ایسا دیکھ کر میرا بھی سیاست سے دل بھر گیا ہے پہلے دوگروہ تھے ایک گروہ کو عوام ”جیالے“کہتے تھے اور دوسرے کو”متوالے“ اب تیسرا گروہ کو کیا کہیں گے؟ جس طرح غریب ممالک کیلئے تیسری دنیا کی ٹرم بنائی گئی اور جو HEہیں نہ SHE ان کو لوگ تیسری مخلوق کے نام سے پکارتے ہیں۔ کیا یہ ملک و قوم پر عذاب ِالٰہی نہیں ہے کہ سیاست دان پچھلے کئی ماہ سے قوم کو ٹینشن میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ پرنٹ میڈیا پر کبھی کسی شخص یا ادارے کیخلاف دو سطور بھی شائع کی جاتی تھیں تو حکومتی مشینری فوری طور پر حرکت میں آجاتی تھی اب ہر روز پرنٹ میڈیا کے ادارےے اور فیچر ایسے ایسے معاملات کے بارے میں طبع ہو رہے ہیں کہ انسان کا دل ہل جاتا ہے پاﺅں تلے سے زمین سرکنے لگتی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر چوبیس گھنٹے کرنٹ آفیئرکے ایسے ایسے خوفناک الزامات پر مبنی پروگرام نشر ہو رہے ہیںکہ کلیجہ مُنہ کو آنے کو ہوتا ہے۔لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری اہل کار یا رسیاست دان کے کانوں پر جوں تک رینگے۔مذکورہ دوست نے اپنا ایک چشم دیدواقعہ بتایا کہ وہ ایک ایسے سیاست دان جوبڑے سرکاری عہدے پرہے ،اُن کے حلقے کا ایک غریب تعلیم یافتہ لڑکا کوئی سفارش لے کر کسی ملازمت کیلئے آیا اور اس امیدوار نے مذکورہ سرکاری عہدیدار کو عرض کیا کہ فلاں محکمہ میں ایک پوسٹ خالی ہے اور علمی قابلیت کے لحاظ سے میں اس کا اہل بھی ہوں مذکورہ سرکاری آفیسر نے اس سے وعدہ کر لیا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کا کام ہو جائے گا لیکن اسی دوران کوئی اور ایسا تعلیم یافتہ امیدوار سرکاری آفیسر کے پاس پہنچ گیا جو اسکی جیب گرم کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس کیلئے دوسرے روز ہی ملازمت کا پروانہ جاری ہو گیا۔ جب ہفتہ دس دن گزرنے کے بعد وہ غریب تعلیم یافتہ امیدوار دوبارہ حاضر ہوا تو اُس کو جھڑکیاں سننا پڑیں کہ تم تو اس پوسٹ کے اہل ہی نہیں ہو خواہ مخواہ مجھے سفارشوں کے ذریعے تنگ کر رہے ہو، نکل جاﺅ میرے دفتر سے۔ ہمارے جاننے والے اس سیاست سے تائب ہونیوالے اس صاحب نے کہا جب حاکموں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ بکاﺅ مال بن جائیں تو بقول حبیب جالب ”ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا“ کے مصداق اب یہ سیاست نہیں بلکہ منافقت اور چور بازاری ہے۔ اس دور میں شریف لوگوں کا جینا ان منافقوں نے حرام کر دیا ہے۔ آپس میں بھی لڑ مر رہے ہیں ہر کوئی دوسرے کو چور اور حرام خور کہہ رہا ہے ۔اپنے دامن میں کوئی نہیں جھانکتا۔محبت و پیار نام کی کوئی چیز جب نہ رہے تو برکت اٹھ جاتی ہے قہر الٰہی نازل ہوتے ہیں۔ سیلاب، قحط، جنگیں اور بیماریاں اس قوم کی جانب رُخ کر لیتی ہیں اقبال نے جوابِ شکوہ میں شاید ہمارے لےے ہی لکھا تھا۔

تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
تم خطا کار و خطا بیں ، وہ خطا پوش و کریم
اگر یہ سیاست دان منافقت اور مخاصمت کی بجائے آپس میں ایک ہو کر عوام الناس کے مسائل حل کرنے کیلئے وہ رقوم خرچ کرتے جو آج کل ایک دوسرے کیخلاف اشتہار بازی اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ دینے اور زبان پر نہ لانے والی چمک دمک پر خرچ کی جا رہی ہیں تو مخلوق ِ پروردگار بھی خوش اور خود پرورگار بھی خوش ہو کر ان لوگوں پر ااور ملک و قوم پر رحمتیں اور برکات نازل فرماتے۔ ہوسِ ِاقتدار نے ان سے تمام اخلاقتی، مذہبی اور قانونی اقدار چھین لی ہیں۔ ہائے افسوس ! کس کس کو کہیں!
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری!
اے کشتہ¿ سلطانی و ملّائی و پیری !