منگل ‘ 16 صفرالمظفر 1436ھ9 دسمبر 2014ئ

09 دسمبر 2014
منگل ‘ 16 صفرالمظفر 1436ھ9 دسمبر 2014ئ

لندن میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف تحریک انصاف کے کارکنوں کی نعرے بازی۔ ٹیلی ویژن پر مولانا اس اچانک حملے سے بوکھلائے ہوئے تیزی سے پہلو بچاتے نکل رہے ہیں۔ حالانکہ اس عمر میں اس تن و نوش کے ساتھ زیادہ تیزی اور پھرتی مشکل ہی سے آتی ہے۔ انکے ساتھ ساتھ کار سے نکلنے والے انکے ساتھی بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ جو ایک تعزیتی اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ 

اب معلوم نہیں لندن کی رنگینوں میں یہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے اس جھلملاتی روشنیوں میں ڈوبی شام میں یہ مولانا فضل الرحمان کو کہاں سے تاک لیا کہ ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ گئے۔ یہ تو بری بات ہے مولانا اس وقت ملکی سیاسی حالات سے تنگ آ کر یا اپنے اوپر ہونے والے بم دھماکے کا غم غلط کرنے کیلئے بیرون ملک آرام کیلئے ہی آئے ہونگے حالانکہ جان بچ جانے پر تو شکرانے کے طور پر انہیں سعودی عرب جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ ہمارے ہاں تو یہی رواج ہے کہ نقصان سے بچنے پر نوافل ادا ہوتے ہیں یا نیاز بانٹی جاتی ہے اور کچھ دیر تمام مصروفیت ترک کرکے آرام کرنے کا سوچا جاتا ہے تاکہ ذہن فری ہو۔ تحریک انصاف والوں نے بھی یہی سمجھا ہو گا کہ مولانا بھی لندن کچھ دیر آرام کرکے ذہن فریش کرنے آئے ہیں۔ اور ان کم بخت مخالفین نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا‘ انہیں ڈھونڈ لیا اور لگے ان کیخلاف اول فول بکنے۔ اب بھلا کوئی دیار غیر میں اس طرح اپنے لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ بھی صرف سیاسی ہی نہیں ایک بڑی دینی شخصیت کے ساتھ۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ اپنے ملک کی اور بات ہے۔ یہاں سب کچھ چلتا ہے۔ مولانا پہلے بھی خیبرپی کے میں تحریک انصاف کی حکومت سے نالاں تھے۔
اب اس واقعہ کے بعد اور شدت سے اس کیخلاف سرگرم ہوں گے جس کا اندازہ بہت جلد تحریک والوں کو ہو جائیگا کہ انہوں نے یہ کیا کر دیا۔
٭....٭....٭....٭
ہریانہ میں انتہا پسند ہندو¶ں کا کشمیری طلبہ پر حملہ 30 زخمی۔ اسے کہتے ہیں۔
”ڈِگا کھوتی توں تے غصہ کمہار تے“
اب کشمیر میں جو درگت بھارتی نیتا کی آمد سے قبل کشمیری مجاہدین نے بھارتی افواج کی بنائی ہے اس سے تو پورے بھارت میں مودی سرکار کے تلملانے اور کراہنے کی صدائیں آرہی ہیں۔ کیا بڑا کیا چھوٹا۔ سب کے سب اپنی اپنی اوقات کے مطابق زبان چلا رہے ہیں۔ اوپر سے کشمیریوں کی طرف سے بھارتی الیکشن میں عدم دلچسپی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ کوئی معمولی سا ناطہ بھی رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ تو بھارت ہے جو زبردستی 7 لاکھ فوجیوں کی زنجیر میں ان کشمیریوں کو باندھ کر زبردستی اپنے ساتھ رکھنے پر تلا ہوا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ قوم وہ ہے جس کے لئے علامہ اقبال نے کہا تھا۔
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند
جس قوم کے خمیر میں ہو آتش چنار
اس کے بعد بھلا کوئی اگر ایسی احمقانہ سوچ رکھتا ہے تو اسکی اپنی مرضی۔ اپنے اسی ڈھیٹ پن کی وجہ سے کشمیر میں پڑنے والی مار کا بدلہ بھارتی انتہا پسند ہندوستان میں پڑھنے والے معصوم کشمیری طلبہ سے لے رہے ہیں‘ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ مارا پیٹا جاتا ہے۔ زخمی کیا جا رہا ہے تاکہ وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ اس پر بڑا ستم یہ کہ پولیس بھی ان بے چاروں کی داد رسی نہیں کر رہی۔ اس سے بھارت میں جمہوریت کی دیوی کی اصل شکل سامنے آتی ہے۔ جو حقیقت میں سامراجی چڑیل ہے اور مظلوم کشمیریوں کا خون پی پی کر بھی امن کی دہائی دیتی نظر آتی ہے۔
٭....٭....٭....٭
”عرب سپرنگ“ اب استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے:مصری سفیر۔
اب اگر اسے استحکام کہتے ہیں تو پھر انتشار کس چڑیا کا نام ہے۔ خزاں کا نام بہار رکھنے سے خزاں بہار نہیں بن جاتی۔ کیا عرب واقعی اتنے بھولے بھالے ہیں کہ خزاں اور بہار میں فرق محسوس نہیں کر سکتے۔ کیا ان عرب ممالک میں موسم ہمیشہ یکساں ہی رہتا ہے۔ خشک، گرم، بے درد، سخت کیا وہاں کبھی سرد نرم اور ہمدرد ہوائیں نہیں چلتیں کہ سخت کوش زندگی بسر کرنے والوں کو چند لمحے آرام بھی نصیب ہو۔ مگر یہاں کا حال بقول شاعر....
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحن گل چھوڑ گیا دل میرا پاگل نکلا
والا لگ رہا ہے۔
بھائی کے ہاتھوں بھائی کا گلا کاٹ کر اگر خون کی ندیاں بہانے کو یا بم اور بارود سے خون کی بارش کا نام بہار ہے تو پھر ہم تو باز آئے ایسی بہار سے۔
ان حکمرانوں کی ساری فیاضی زندہ دلی آخر غیروں کے لئے مختص کیوں ہے۔ وہ اپنے محکوم غلام عوام پر بھی کبھی ایک نظر پیار کی ڈالیں۔ اپنی سخاوت سے انہیں بھی نوازیں تو یہ مسکراہٹ اور سخاوت ہی ان کے لئے نوید بہار بن سکتی ہے۔ مگر وہاں تو زبان، کان اور ہاتھ تینوں پر خوف کے مستقل پہرے ہیں۔ بولنے سننے اور لکھنے کی اجازت نہیں اگر ہے تو مدح کی ہے۔ مذمت کا لفظ خارج از لغت ہے۔ مصر، عراق، شام اور لیبیا عرب دنیا کے متحرک اور بڑے ممالک تھے۔ یہ اپنے حکمرانوں کی سختیوں کے ہاتھوں آج جوالا مکھی بنے ہوئے ہیں۔ بے شک اس میں سازش اغیار کی بھی شامل ہے۔ مگر اس سازش پر عمل تو ہم خود کر رہے ہیں۔ کسی بھی حکمران کو لے لیں سب یکساں ہیں اپنے موسم کی طرح گرم اور خشک۔ تو پھر پریشانی کیسی ایسے ہی موسم میں تو چنگاری جلد شعلہ بنتی ہے۔ اور مصری سفیر نے اسی باد صرصر کو باد بہاری سمجھ کر شاید عرب بہار کے استحکام کا نام دے دیا ہے۔ اور شاید داعش بھی اسی بہار کا ایک رنگ ہے۔ جو بالکل حسنی مبارک کی شکل میں سامنے آیا ہے۔