ڈرون حملے پر کنفیوژن کیوں!

09 دسمبر 2014

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ڈرون حملہ کے نتیجے میں القاعدہ رہنما عمر فاروق المعروف استاد فاروق سمیت 4 دہشتگرد ہلاک جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ عمر فاروق القاعدہ کا پاکستان اور افغانستان میں آپریشنل سربراہ تھا‘ دو دنوں میں القاعدہ کو دوسرا بڑا دھچکہ پہنچا ہے۔ گزشتہ روز پاک فوج نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کے انچارج سعودی نژاد عدنان الشکری جمعہ کو اسکے سہولت کار سمیت ہلاک کیا تھا۔عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز پاکستان کی حدود میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔پاک فوج اور حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں کی ہمیشہ مذمت کی جاتی ہے‘ اب اس مذمت میں وہ دم خم نہیں رہا۔ حکومت روایتی انداز میں چند فقروں پر مشتمل بیان جاری کرنے پر اکتفا کرتی ہے جبکہ فوج کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ ڈرون حملوں میں پاک فوج کیساتھ برسرپیکار لوگ مارے جا رہے ہیں۔ منطقی طور پر ایسا درست ہو سکتا ہے مگر اصولی طور پر نہیں۔ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے سراسر خلاف ہیں۔ ڈرون حملوں پر عسکری ذرائع کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے۔ ایسا حملہ جس میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔ اس سے صریحاً انکار ایک سمجھ میں نہ آنیوالی حکمت عملی ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ایسا کوئی حملہ پاکستان کی حدود میں نہیں ہوا۔ کیا خڑتنگی شمالی وزیرستان کا حصہ نہیں جو پاکستان میں ہے۔ دو فوجی افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مغربی میڈیا کو بتایا کہ ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما استاد فاروق مارا گیا ہے۔ عسکری قیادت کی طرف سے ایسے انکار کو اچھی حکمت عملی اور اچھا سائن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر اسے ہماری حماقت قرار دیا جائیگا۔ دوسری طرف یہ امر خوش آئند ہے کہ پاک فوج شمالی وزیرستان کے بعد اردگرد کے علاقے میں چھپے دہشت گردوں کا بڑی فعالیت اور کامیابی سے تعاقب کر رہی ہے۔ کل القاعدہ رہنما الشکری مارا گیاتو آج حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں سمیت 34 دہشت گرد بمباری میں ہلاک ہو گئے۔ شمالی وزیرستان کا زیادہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرا لیا گیا ہے۔ اب پاک فوج کی طرف سے معاملہ منطقی انجام کی طرف لے جایا جانا چاہئے۔ پاک فوج کو یقیناً پورے ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ وہ یہ کام جاری رکھے۔ شمالی وزیرستان میں کلیئر کئے گئے علاقوں میں متاثرین کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے۔