لاہور میں سکیورٹی ریڈ الرٹ، حکومتی ارکان کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت

09 دسمبر 2014

لاہور (نامہ نگار) پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان فیصل آباد میں تصادم کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لاہور سمیت صوبے بھر کی سکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صوتحال اور ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے ریزرو پولیس اور اینٹی رائٹ سامان کو سٹینڈ بائی کردیا گیا ہے۔ رات گئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اورڈی سی او لاہور تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں سے حالات کو پرامن رکھنے کیلئے میٹنگز کرتے رہے۔ پولیس افسروں اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ پولیس افسروں نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ ملکر سر جوڑ لئے، پولیس افسروں کی جانب سے ایس پی اور ایس ایچ او ز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پی ٹی آئی کے مقامی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرکے احتجاج کو پرامن بنائیں۔ پولیس افسروں کی جانب سے حکومتی ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت محدود کریں۔ لاہور پولیس کے افسروں کی جانب سے تمام اہم سرکاری عمارتوں، ائیر پورٹ، ایوان وزیر اعلیٰ، پنجاب اسمبلی، سول سیکرٹریٹ، پولیس افسروں کے دفاتروں اور حکومتی ارکان پارلیمنٹ کے گھروں کی باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ کسی غیر متعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ رات گئے ڈی سی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی چاہے وہ مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی کا کوئی رہنما یا کارکن ہو، ہر ایک کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔
ریڈ الرٹ