اسلحہ سازی وسعت دینے کی ضرورت

09 دسمبر 2014

چین کے وزیر برائے سلامتی گروسین چن کی زیر قیادت اعلیٰ سطح کے وفد نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر دفاع و سلامتی کے شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بات کی گئی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔چین نہ صرف پاکستان کی معاشی و اقتصادی بلکہ دفاعی معاملات میں بھی معاونت کرتا ہے۔ چین کے تعاون سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوا ہے۔ اسکے تعاون سے پاکستان نے اسلحہ سازی کی صنعت میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ خصوصی طور پر اسکے تعاون سے پاکستان میں جے ایف تھنڈر 17 فائٹر طیارے تیار ہوتے ہیں۔ اب انکی خریداری میں بھی بعض ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین کی رضامندی سے انکے سودے ہو رہے ہیں۔جے ایف تھنڈر طیاروں کی تیاری سے جہاں پاکستان کا فضائی دفاع مضبوط ہو گا وہیں اس کی فروخت سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ اسلحہ سازی آج ایک بڑی صنعت کا روپ دھار چکی ہے۔ پاکستان کو ضرورت کیمطابق اسلحہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ چین کی طرح پاکستان کو امریکہ اور روس جیسے دیگر ممالک کیساتھ بھی پاکستان میں اسلحہ سازی کے معاہدے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔