حکومت تحریک انصاف کو اپنی وکٹ پر لانے کی کوشش میں اسکی وکٹ پر آ گئی

09 دسمبر 2014

لاہور (محمد دلاور چودھری) تحریک انصاف کے پلان سی کے پہلے احتجاج میں ہی عمران خان نے وہ مقاصد کافی حد تک حاصل کر لئے ہیں جو وہ 14 اگست سے جاری دھرنے سے حاصل نہیں کر سکے تھے۔ حکومتی مشیروں نے ایک مرتبہ پھر حکومت کو غلط گائیڈ کیا۔ حکومت کو یہ بات سمجھنا چاہئے تھی کہ کسی بھی قسم کا تصادم اور تشدد تحریک انصاف کے سیاسی مفاد میں جائیگا اور ایسا ہی ہوا۔ حکومت تحریک انصاف کو تھکا کر انہیں اپنی وکٹ پر لانے کی کوشش میں اسکی وکٹ پر آ گئی ہے، اسے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کی غیراعلانیہ حمایت کے بعد اپنے کارکنوں کو تحریک انصاف کے کارکنوں کے بالمقابل لانے کی ضرورت نہ تھی۔ تحریک انصاف آج یوم سوگ کے موقع پر بھی اپنی وکٹ پر ”جارحانہ کھیل“ جاری رکھنے کی بھرپور کوشش کریگی۔ حکومت کو چاہئے مزید ”لوز بال“ پھینکنے سے گریز کرکے اسکا موقع نہ دے۔ اگرچہ تحریک انصاف کو اب آسانی سے مذاکرات کی میز پر لانا ممکن نہیں ہو گا لیکن حکومت کے پاس صرف اور صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ کہ فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کی طرف بڑھ جائے۔ بات چیت کیلئے انتہائی سنجیدہ اور بااختیار ٹیم تشکیل دی جائے جو سنجیدہ حکومتی نمائندوں کے علاوہ دوسری جماعتوں کے سمجھدار رہنما¶ں پر مشتمل ہونی چاہئے۔ مذاکرات کیلئے اب تحریک انصاف پر احتجاج ترک کرنے کی پیشگی شرط عائد کرنے کا آپشن حکومت کے پاس باقی بچا ہے نہ اسکی ضرورت ہے۔ وہ اپنے ”ہاکس“ کو قابو کرے (جن کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کی سیاسی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے) اور تحریک انصاف کو فوری طور پر بات چیت کی میز پر انگیج کرے۔ اس سے پی ٹی آئی کی احتجاج کی پالیسی کی شدت خودبخود کم ہو جائیگی۔ ایک طرف حکومت کی ناقص حکمت عملی ہے تو دوسری طرف عمران خان ہیں۔ بیشک وہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور انکی ایک کال پر ہزاروں افراد سڑکوں پر آنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انہیں بھی اپنے اردگرد موجود اپنے مفادات کے تحت ”ہاکش پالیسی“ اختیار کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیکر جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئے بلکہ ہروقت یاد رکھنا چاہئے کہ سیاست میں جذبات میں آکر ایسا چھکا کبھی نہیں لگایا جاتا جو گیند کو سٹیڈیم کے پار کر دے۔ ایک اور بات جس کا دونوں فریقوں کو خیال رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے اور دوسری طرف خطے کے حوالے سے اہم فیصلے ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ملک کا بہت زیادہ اندرونی سیاست میں الجھنے کا وقت نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے ملک کی خدمت ہو گی۔ اس وقت انتشار ملک‘ جمہوریت‘ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سمیت کسی کے مفاد میں نہیں۔
دلاور چودھری