پنجاب اسمبلی : اپوزیشن کا فیصل آباد کی صورتحال پر واک آﺅٹ‘ حکومتی ارکان کا شور سپیکر نے خاموش کروا دیا

09 دسمبر 2014

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے فیصل آباد کی صورتحال پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی سے احتجاجاً ٹوکن واک آﺅٹ کیا، اپوزیشن کا کہنا تھا حکومت کی طرف سے کارکنوں کو آمنے سامنے لانے کی حکمت عملی کسی طرح بھی درست فیصلہ نہیں تھا اور اس طرح کے اقدامات ملک اور جمہوریت کے حق میں بہتر نہیں۔ خصوصی رپورٹر، خصوصی نامہ نگار، کامرس رپورٹر کے مطابق صوبائی وزیر زکٰوة و عشر ملک ندیم کامران نے مسودہ قانون (ترمیم) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی 2014ءپیش کیا اور آرڈیننس پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر 2014ءپیش کیا جسے سپیکر نے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے سپرد کرنے اور 2ماہ میں مذکورہ مسودہ قانون اور آرڈیننس کے بارے میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کامرس رپورٹر کے مطابق گزشتہ روز اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر اور حکومتی رکن علیم شاہ نے پنجاب حکومت کی جانب سے گنے کی فی من قیمت 180روپے پر عملدرآمد کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا پنجاب اسمبلی میں ایک دن حکومت کی زرعی پالیسی پر بحث کرائی جائے۔ جس پر سپیکر نے کہا پیر کو اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے گی۔ خصوصی نامہ نگار کے مطابق ق لیگ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر وقاص حسن اختر موکل نے نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ انتہائی افسوس کی بات ہے انا کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہو گئی جبکہ تین سے چار لوگ زخمی ہیں، ہڑتال کو کامیاب اور فیل کرنے کےلئے نہتے پاکستانیوں کی جانوں سے کھیلنا درست نہیں۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر وسیم اختر نے کہا حکومت کی طرف سے کارکنوںکو آمنے سامنے لانے کی حکمت عملی کسی طرح بھی درست فیصلہ نہیں اور اس کا نقصان ہوا۔ اس طرح کے اقدامات ملک اور جمہوریت کے حق میں نہیں۔ (ق) لیگ کی خدیجہ عمر فاروقی نے کہا ہم نے کسی سیاسی جماعت کو نہیں دیکھنا بلکہ ہم عوام کے کھلے عام قتل عام کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت نے ماڈل ٹاﺅن حادثے سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا اور انہیں جوابدہ ہونا چاہئے۔ حکومت ووٹ تو لیتی ہے لیکن اسکے بعد نہتے شہریوں کا قتل عام شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران حکومی بنچوںسے شور شرابہ کیا گیا لیکن سپیکر نے حکومتی ارکان کو خاموش کراتے ہوئے کہا وزیر قانون ایوان میں نہیں آئے وہ آئیں گے تو ان سے صورتحال پر مکمل آگاہی لی جائے گی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے وسیم اختر نے کہا ہم فیصل آباد کی صورتحال پر احتجاجاً ٹوکن بائیکاٹ واک آﺅٹ کرتے ہیں اور اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے سپیکر کی ہدایت پر صوبائی وزیر چودھری شیر علی‘ پارلیمانی سیکرٹری نذر حسین گوندل اور باﺅ اختر اپوزیشن ارکان کو منانے کے لئے گئے اور انہیں ایوان میں واپس لے آئے۔ قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ انرجی اور کاکنی و معدنیات سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے گئے ۔ صوبائی وزیر چودھری شیر علی نے ایوان کو بتایا 18ویں ترامیم کے بعد صوبے بجلی کے جو منصوبے شروع کریں گے ان کا انتظام صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی وفاقی حکومت کے ماتحت ہے اس لئے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے مکمل اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہیں ۔ انہوں نے ایوان کو بتایا 18ویں ترامیم سے پہلے صوبے صرف 50میگا واٹ کا منصوبہ لگا سکتے تھے لیکن ترامیم کے بعد اس قدغن کو ختم کر دیا گیا ہے اور صوبے اپنی استعداد کے مطابق جتنا بڑ امرضی منصوبہ شروع کر سکتے ہیں۔ ایوان کو بتایا گیا آسٹریلیا کی کمپنی کی خدمات حاصل کر کے پنجاب میں کوئلہ کے ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے جسکے مطابق پنجاب میں کوئلہ کے 539.58ملین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں۔ ایوان کو مزید بتایا گیا پنجاب میں نہری اور بیراجوں کی آبشاروں پر سینکڑوں میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سولر انرجی کےلئے نیپرا نے ابھی تک نیٹ میٹرنگ کی اجازت نہیں دی۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے مسودہ قانون ( ترمیم ) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی 2014ءاور آرڈیننس پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر 2014ءبھی پیش کیا جنہیں متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی طرف سے سپیکر سے زرعی پالیسی پر بحث کے لئے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر سپیکر نے اسے منظور کرتے ہوئے اسکے لئے سوموار کا دن مختص کرنے کا اعلان کیا۔ ایجنڈے کی کارروائی مکمل ہونے پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس آج (منگل) صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔
پنجاب اسمبلی