’’ہریانہ میں کشمیری طلبا پر غنڈوں کا حملہ‘‘ پولیس کا کارروائی سے انکار‘ کالج بند

09 دسمبر 2014

سرینگر‘ میرٹھ  (کے پی آئی + بی بی سی) ہریانہ کے ایک انجینئرنگ کالج میں حملہ کے دوران زخمی ہونے والے کشمیری مشہور علی والی، شاہد معراج وانی، ساہل احمد، تنویر احمد ریشی، منظور احمد، مشتاق ماجد ڈار، اظہر الدین شیخ اور توصیف پرویز وازا شامل ہیں۔ 2 زخمیوں کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ تعداد 30 بتائی جاتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گلوبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں زیرتعلیم دو گروپوں کے مابین جھگڑا ہوا۔ انتظامیہ نے کالج کو ایک ہفتے کیلئے بند کر دیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ تقریباً  200 کشمیری طلبا کورہ کالج میں زیر تعلیم ہیں۔ اس حملے کے بعد اب ان طلبا نے کشمیر واپسی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ طلبا وزیراعظم اسکالرشپ سکیم کے تحت انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ایک طالب علم عامر احمد ڈار نے بتایا کہ  واقعہ اس وقت پیش آیا جب جموں کے ایک طالب علم نے کشمیری طالب علم کو دوپہر کے کھانے پر تھپڑ مارا بعدازاں  جموں کے طلبا نے  نزدیکی گائوں سے غنڈوں کی مدد حاصل کر لی جنوں  نے کالج پہنچتے ہی کشمیری طلبا کو لوہے کی سلاخوں اور راڈوں سے  مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ ایک اور طالب علم اشفاق احمد نے بتایا تقریباً 60 کے قریب غنڈوں نے حملہ کیا۔ نزدیکی پولیس تھانہ گئے تو پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف ایف آر درج کرنے سے انکار کیا جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی  سنگین معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایس پی وید پرکاش گوڈرا نے ایک خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو گروپوں کے مابین کینٹین میں جھگڑا ہوااور کچھ لڑکے زخمی ہو گئے‘ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں باہر کے لوگ شامل نہیں تھے اور یہ طالب علموں کے درمیان کا مسئلہ تھا جبکہ کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ اس میں مقامی لوگ شامل ہوئے اور اس نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا تھا۔ وید پرکاش نے کہا اس واقعے کو میڈیا فرقہ وارانہ رنگ دے رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کینٹین میں رونما ہونے والا معاملہ ختم ہو گیا تھا۔ اگر باہر سے لوگ نہیں آتے تو بات اتنی نہیں بڑھتی۔ ایک طرف سے اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے تو دوسری جانب سے بم بم بولے کے۔ اس سے معاملہ ہندو مسلم کے درمیان ہو گیا۔ ہسپتال میں داخل کشمیری طالب علم آشیش کا کہنا ہے جموں اور کشمیر کے ہندو اور مسلمان طلبہ کے درمیان کینٹین میں تنازعہ ہوا تھا۔