تھر، پیاس اور پانی

09 دسمبر 2014

 اتوار کی رات گئے فون کی گھنٹی بجی، لائن کے دوسرے سرے پرڈاکٹرا ٓصف محمود جاہ تھے، کہنے لگے میں تھر میں پہنچ گیا ہوں اور اب ایک ہفتہ یہاں گزاروں گا، میںنے پوچھا، کیا بائی روڈ گئے ہیں، کہنے لگے، کراچی تک ہوائی جہاز میں ،پھر سڑک کے راستے ، نو گھنٹے کے طویل سفر کے بعد یہاں پہنچا ہوں۔ میںنے کہا ، اب ا ٓرام کرتے اور صبح فون کر لیتے، کہنے لگے، قسمت میں آرام کہاں۔ ابھی مریضوں کے چیک اپ سے فارغ ہوا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو میرا فقرہ لڑ گیا کہ جب درجنوں این جی اوز تھر میں کام کرنے کے دعوے کر رہی ہیں تو پھر بھی بچے بھوک اور بیماری سے کیوںمر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب اب ترنگ میں آ گئے ہیں۔ان کی کتاب تھر، پیاس اور پانی بھی شائع ہو گئی ہے، ا س کی ایک تقریب رونمائی مٹھی میں ہو رہی ہے، دوسری کراچی میں، ڈاکٹر صاحب ادھار نہیں کرتے، جو کام کرتے ہیں، اس کا سارا کچا چٹھا عوام کے سامنے لے آتے ہیں کہ لو پکڑ لو ، جہاں کوئی بے بنیاد دعوی کیا ہو یا کوئی خطا اور کوتاہی کا ارتکاب ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں، روز حساب کا انتطار نہ کریں، اس دنیا کا حساب یہیں ہو جائے۔فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ مکافات عمل کا سامنااسی دنیا میں ہی ہو جاتا ہے۔
اعجاز سکا کھلے دل والے ہیں ، ایک روز ماڈل ٹاﺅن سے گزرتے گزرتے ان کے دفتر میں رکا، وہ ڈاکٹرا ٓصف جاہ کے پرستاروں میںسے ہیں۔آواران کا زلزلہ ہو، یا پنجاب کا سیلاب، تھر کے قحط کی صعوبت ہو یا مردان میں وزیری مہاجرین کی ابتلا ، اعجاز سکا تعاو ن میں پیش پیش رہتے ہیں۔
اب تو میں حیران رہ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کے ایک اور چاہنے والے جناب اسلم مروت پشاور سے چل کر تھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے فون تو پشاور سے آتے رہتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے فلاحی کاموں کی تحسین کی جائے تاکہ وہ مزید حوصلہ پکڑیں۔وہ ہفتے کو لاہور میں ڈاکٹرصاحب کے دفتر میں تھے، میں ان سے ملنے کاخواہاں تھا مگر ایک میٹنگ میں ایسا الجھاکہ وقت گزرنے کاا حساس ہی نہ رہا۔اصل میں، میں ایک روز پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کی کسٹم ہیلتھ کیئر ایسوسی ایشن کے دفتر میں جا چکا تھا، ایک کونے میں ڈاکٹر صاحب مریض دیکھ رہے تھے، دیکھ کیا رہے تھے، ان کو تسلی دے رہے تھے کہ اللہ بھلا کرے گا، دو تین ماہ تک دوائی استعمال کر کے پھر آﺅ، اسی کمرے میں جمگھٹا لگا ہوا تھا، خواتین بڑے انہماک سے امدادی اشیا پیک کر رہی تھیں، یہ ساڑھیوں کی کھیپ تھی، تھر کی عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں مگر مخیر حضرات کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔ وہ گھگھرے پکڑا دیتے تو کسی نے کیا انکار کرناتھا مگریہ سب قیمتی ساڑھیاں تھیں۔ اللہ کھوٹ نہ بلوائے، کوئی ایک ساڑھی بھی ہزاروں سے کم کی نہ تھی اور بچوں کے لئے بسکٹوں کے ڈبے،قسماقسم کے کھلونے۔چینی،آٹا، چاول ، دالوں کے تھیلے۔اورصاف پانی کی ہزاروں بوتلیں۔جو لاہور میں بھی عیاشی خیال کی جاتی ہیں۔ تھر کے پیاسے بچوں کے لئے ایسا پانی پہلے بھی با افراط بھیجا گیا مگر خداہدائت دے اس نوکر شاہی کو جنہوں نے یہ پانی گوداموں میں ذخیرہ کیے رکھا اور وہیں پڑے پڑے یہ زہر بن گیا۔ایسی خبروں کے بعد کون مخیر ہو گا جو اپنا پیسہ غرق کرنے کا خیال بھی دل میں لائے گا، اب ہر کوئی ڈاکٹرا ٓصف جاہ اوراسلم مروت جیسا حوصلہ مند تو نہیں کہ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اپنے ہاتھوں سے حاجت مندوں کی مدد کرے۔
یہ بھی عقل مندی ہے ڈاکٹر جاہ اور ان کی ٹیم کے ارکان بڑے شہروںکو چھوڑ کر صحرا کی طرف نکل گئے ہیں، وہاں، جنگلی ہرن اور مور ان کی تنہائی کے ساتھی ہیں۔اب کوئی شہروالوں کا حال پوچھے کہ ان پر کیا بیت رہی ہے، میں گھر سے شہر کے لئے نکلا، مگر جنرل ہسپتال سے گزرنے کے لئے ایک گھنٹہ لگ گیا، سڑک تین لین کی تھی مگر ٹریفک میں پھنسی ہوئی گاڑیوںنے چھ لینیں بنا رکھی تھیں اور جوں کی رفتار سے رینگنے کی کوشش کر رہی تھیں۔مال روڈ تک پہنچتے پہنچتے میرا اور گاڑی کا سانس پھول گیا، ہر طرف بھیڑ بھڑکا، اور ایمبولنسوں کے سائرن گونجتے ہوئے، یا خدا! لاہور شہر کو کیا ہو گیا ہے، یہ دن تو فیصل آباد کے لئے مخصوص تھا اور وہاں بھی حکومت نے وارننگ دی تھی کہ وہ عمران خان کو قانون ہاتھ میںنہیں لینے دیں گے لیکن کرنا خدا کایہ ہوا کہ خود قانون نے قانون ہاتھ میں لے لیا اور عمران کے ایک ورکر کی جان لے لی۔
عمران کا قصور کیا ہے، یہی نا کہ وہ احتجاج کرنا چا ہتا ہے اور وہ بھی الیکشن دھاندلی کے خلاف، اس کا خیال ہے کہ دھاندلی زدہ حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے مگر کرسی کون چھوڑتا ہے، حکمران کرسی نہ چھوڑیںمگر عمران کو بھی نہ چھیڑیں ، وہ احتجاج کرنا چاہتا ہے تو کر لینے دیں، چند تقریریں، چند جوشیلے بیانات، دھواں دار نعرے، اس کے وررکر خوش ہو جائیں گے، عمران کا کتھارسس ہو جائے گا مگر حکومت اس کے سامنے بند باندھے گی تو معاملہ خراب ہو گا ۔ بے گناہ مریں گے جیسا کہ فیصل آباد میں ہوا۔قادری کے خلاف بھی حکومت نے لاقانونیت کا مظاہرہ کیاا ور چودہ افراد کی جانیں چلی گئیں ، ان کا حساب ا بھی نہیں ہوا۔حکومت کہتی تو ہے کہ کسی کو قانون کے منافی اقدام نہیں کرنے دے گی، مگر یہ جو معاشرے میں قدم قدم پر لاقانونیت ہو رہی ہے، کیا یہ حکومت کی اجازت سے ہورہی ہے۔یا حکومت کی ناا ہلی کی وجہ سے ہو رہی ہے یا حکومت کی چشم پوشی سے ہو رہی ہے، قبضہ مافیا کس قانون کے تحت کام کرتا ہے۔عدالتوں سے انصاف نہیںملتا۔ یہ کونسا نظام انصاف ہے اور کس آئین کے تحت ہے،ہر دفتر میں رشوت چلتی ہے، ہرچوک میں دھونس سے واسطہ پڑتا ہے،اقربا پروری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
اس عا لم میں ڈاکٹرا ٓصف جاہ، اسلم مروت، اعجاز سکا، رحمت کے فرشتے ہیں، وہ حاجت مندوں کے دروازے پر پہنچتے ہیں، وہ حضرت عمر ؓ کے قول پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی کتا پیاس یا بھوک سے مر جائے تو اس کی پکڑ مجھ سے ہو گی، خدا اس پکڑ سے بچائے، اللہ کی گرفت بڑی شدید ہے۔آصف جاہ روز قیامت اپنی نئی کتاب۔۔ تھر ، پیا س اور پانی اپنی بغل میں دبائے اللہ کے حضور پیش ہوں گے اور بلند درجات پائیں گے اور اللہ کے فضل وکرم سے سرخرو ٹھہریں گے۔