خیبر پی کے اسمبلی: جے یو آئی (ف) کے کارکنوں پر مقدمات کیخلاف اپوزیشن کا واک آئوٹ

09 دسمبر 2014

پشاور(بیورورپورٹ + اے پی پی) خیبر پی کے اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے 30نومبرکوکوہاٹ اورکرک میں جے یوآئی(ف)کے کارکنوںکے خلاف مقدمات درج ہونے پر ایوان سے واک آئوٹ کیا پیر کے روز اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن کی موت پر ہمیں بھی افسوس ہے جمہوری روایات میں احتجاج سبھی جماعتوں کا حق ہوتا ہے جب ہم نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی ہلاکت پر احتجاج کیا تواس حوالہ سے حکومتی رویہ سامنے آیا۔ 5دسمبرکوپبی میںہمارے جماعت کا احتجاج تھا مگروہاںپرپولیس کی جانب سے گولیاں چلائی گئی اسی طرح30نومبرکوکوہاٹ وکرک میں بھی واقعات رونما ہوئے اور ہمارے کارکنوں پر مقدمات درج کئے گئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کہتے ہیںکہ صوبہ خیبر پی کے میں سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج نہیںہوئے مگران کے کہنے کے باوجود بھی ہمارے کارکنوں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اس پر مولانا لطف الرحمن نے ایوان سے واک آئوٹ کا اعلان کیا جس پر سبھی اپوزیشن جماعتوں نے ان کا ساتھ دیا اور ایوان سے واک آئوٹ کیا۔  علاوہ ازیں خیبر پی کے اسمبلی میں تین بل متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے ۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب اپوزیشن جماعتوں نے واک آئوٹ کیا  تواپوزیشن کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے اقلیتوں کے پراپرٹیز کے تحفظ ٗ متروکہ املاک اور پنشن فنڈ سے متعلق تین بل صوبائی اسمبلی میں پیش کئے جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ سپیکر نے اس موقع پر کارروائی کو 25  دنوں کے لئے موخر کرتے ہوئے  2 جنوری تک اجلاس کو ملتوی کردیا۔