قومی اسمبلی کا 16واں سیشن ’’نشستند ،گفتند ،برخواستند ‘‘ کی تصویر بنا رہا

09 دسمبر 2014

قومی اسمبلی کا 16واں سیشن پیر کی شام غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا ہے ،یہ اجلاس مجموعی طور دو ہفتے تک جاری رہا ،قومی اسمبلی کے تمام اجلاس ’’نشستند ،گفتند، برخواستند‘‘ کا منظر پیش کرتے رہے اجلاس میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ،تمام اجلاسوں میں حاضری مایوس کن رہی ،قومی اسمبلی کا رواں سیشن 5دسمبر 2014ء کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا جانا تھا لیکن قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی درخواست پر مزید دو روز تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ،جس میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ زیر بحث لایا جانا تھا۔ خورشید شاہ ایوان میں تقریباً ایک گھنٹہ تک رہے اور اپنے بھاشن میںحکومت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانے مشورہ دیا اور انتباہ کیا کہ اگر اس کار خیر میں دیر کردی تو پھر کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں خاصہ مصروف دن گذارا ،اپنے چیمبر میں ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں۔ چوہدری نثار علی خان جو فیصل آباد کی صورتحال کی لمحہ لمحہ کی صورتحال سے آگاہ تھے۔ سردار ایاز صادق نے ایوان کی توجہ بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورا لائی کے طالب علموں کی طرف دلائی جو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لئے دور دراز سے یہاں آئے۔ ایوان نے ان کا خیر مقدم کیا۔ پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں فیصل آباد کی صورت حال موضوع گفتگو رہی ،قومی وطن پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا ہے کہ مال و دولت کا غبن صرف کرپشن نہیں بلکہ قول و فعل کا تضاد بھی کرپشن کی ایک بد ترین شکل ہے۔ کرپشن ڈے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرین کو کرپشن کے خاتمہ کے لئے ایک مثال بننا ہو گا تو تب جا کر کرپشن ختم ہو گی۔