متروکہ وقف املاک بورڈ کی پراپرٹی کا تحفظ ذمہ داری ہے: صدیق الفاروق

09 دسمبر 2014

لاہور ( عدنان فاروق)متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے کہا کہ تمام وسائل پاکستان عوام کی فلاح اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے خرچ ہونگے، بورڈ پراپرٹیز کا تحفظ میری ذمہ داری ہے ، اقلیتوں کے مذہبی مقامات کا تحفظ اور دیکھ بھال میں بھی کسی قسم کی کوتاہی نہیں برداشت نہیں کی جائے گی۔ ویب سائٹ فروری کے پہلے ہفتے لانچ ہو جائے گی جس میں بورڈ کے اثاثوں کا بھی مکمل ریکارڈموجوو ہوگا، بورڈ معاملات بہتر انداز میں چلانے کیلئے 1975 ایکٹ میںترامیم کی جائیں گی اس کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ، بورڈ نے تعلیم کے فروغ کے لئے بھائی کوٹ لاہور میںکامسیٹ یونیورسٹی کو 50ایکڑ اراضی کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا، سکھوں کے مذہبی مقام پنجہ صاحب حسن ابدال کی ترقی اور تزئین و آرائش پر 5کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے جبکہ آئندہ برس اپریل سے قبل سکھ اور ہندد زائرین کے لئے ایک ہزار رہائشی کمرے تعمیر کئے جائیں گے ۔ ’’ نوائے وقت‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہندوئوں کے سب سے بڑے مندر سادھو بیلہ کو جاری گرانٹ میں 50فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔بورڈ 15لاکھ روپے اداکرے گا جبکہ مندر جانے کے لئے دریائے سندھ سے گذرنے کے لئے کشتی کی خریداری کے لئے 5لاکھ فنڈز جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بورڈ کے اراضی پر کے ڈی اے سمیت دیگر سرکاری محکمے نے اربوں روپے مالیت کی بورڈ اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے واگذار کرانے کے لئے سندھ حکومت سے مدد مانگی۔ مجھے توقع ہے کہ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتیں اس حوالے سے ہماری مدد کریں گی۔ رہائشی اور کمرشل منصوبوں کیلئے آل پاکستان بلڈرز ایسوسی ایشن (آباد) سے ابتدائی طور پر بات چیت ہوئی جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس اور دیگر سرکاری اداروں کے اشتراک سے رہائشی اور کمرشل منصوبے میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔ انہوںنے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ بھیرہ میں دارالعلوم غوثیہ کو وقف اراضی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، بورڈ کو درخواست موصول ہوئی ہے ، اس پر غور کے لئے بورڈ ارکان نے میری سربراہی میں 5رکنی کمیٹی بنائی ہے جو موقع کا دورہ کرنے کے بعد اپنی سفارشات دے گی اور اس کی روشنی میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ میں منی پولیس لائنز کے لئے بورڈ کی اراضی دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ محمد بوٹا بنام آشیانہ سکیم کے مطابق کیا جائے گا، ہم جہاں بھی اپنی زمین کسی محکمہ کو دے گے تو اس کے بدلے مارکیٹ ریٹس کے مطابق جگہ بھی لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں بھی بہتری لائے جائے گی جن آسامیوں پر جونئر افسر کام کر رہے ہیں ان کے لئے موزوں لوگ بھرتی کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں متروکہ وقف کمپلیس ا ور گریند ٹرسٹ ٹاور کی خالی جگہ کو کرائے پر دینے کی منظوری ددیدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ میں انٹرنیشنل بابا گورونانک یورنیورسٹی بھی بنائے جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ کامسیٹ یونیورسٹی کے لئے 50ایکڑ زمین حاصل کی جارہی ہے جس میں 6ہزار سٹوڈنٹس تعلیم حاصل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سٹاف کی حاضری کے لئے جدید سسٹم متعارف کر ایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے امرت جل (سکھوں کے مقدس پانی) کا مسئلہ حل کر دیا اور پنجہ صاحب حسن ابدال کی تزئین و آرائش کی گئی ۔