فیصل آباد ”میدان جنگ“ بن گیا، فائرنگ سے تحریک انصاف کا ورکرز جاں بحق ‘ لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے

09 دسمبر 2014
فیصل آباد ”میدان جنگ“ بن گیا، فائرنگ سے تحریک انصاف کا ورکرز جاں بحق ‘ لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں فیصل آباد کے متعدد مقامات پر تصادم ہوا، شہر میدان جنگ بنا رہا جس سے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ نامعلوم شخص کی فائرنگ سے تحریک انصاف کا ایک کارکن جاںبحق ہو گیا جبکہ تصادم کے باعث دو پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔ دونوں جماعتوں کے کارکن گتھم گتھا ہو گئے۔ جھڑپیں ہوئیں، جلاﺅ، گھیراﺅ، پتھراﺅ کے واقعات ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے نوجوان کی میت سابق وزیرقانون رانا ثناءاللہ کے ڈیرے کے باہر رکھ کر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ تحریک انصاف نے ناولٹی پل سمن آباد میں احتجاجی دھرنا دیا تو وہاں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر موجود تھی۔ دونوں طرف سے نعرے بازی کی گئی۔ تلخ کلامی کے بعد دونوں گروپوں میں پتھرا¶ ہوا۔ کسی نامعلوم شخص کی سیدھی فائرنگ سے تحریک انصاف کا 23سالہ کارکن شدید زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کیاجا رہا تھا کہ وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ جاں بحق ہونے والے کارکن کی میت تحریک انصاف کے ذمہ دار سمن آباد رانا ثناءاللہ کے ڈیرے پر لے گئے اور میت رکھ کر پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ ملت روڈ گلستان کالونی میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر شیخوپورہ روڈ اور ملت روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔ چوک گھنٹہ گھر میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو گھیرے میں لیکر شدید نعرے بازی کی، دونوں گروپوں میں دھکم پیل ہوئی۔ پولیس نے تمام مرکزی شاہراہوں، چوراہوں پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے بھاری نفری تعینات کی ہوئی تھی۔ سرفراز کالونی میں پولیس نے مظاہرین پر پانی کی دھار پھینکی۔ پنجاب حکومت کی ہدایات پر فیصل آباد کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو الرٹ رکھا گیا، ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر سٹاف کو 24گھنٹے الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ شہر کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورت میں خصوصی بیڈز لگوائے گئے تھے، ناولٹی پل میدان جنگ بن گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکن ایک دوسرے پر پتھراﺅ کرتے رہے۔ عمران خان کی کال پر فیصل آباد میں جزوی ہڑتال کی گئی۔ چوک گھنٹہ گھر پر کبھی مسلم لیگ (ن) کے حامی تو کبھی پی ٹی آئی کے کارکن حاوی رہے۔ دونوں گروپوں کی تاجر تنظیمیں ایکدوسرے کیخلاف نعرے بازی کرتے رہیں۔ پولیس کے چار ہزار اہلکار گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں میں تعینات رہے۔ 2 بجے تک مسلم لیگ (ن) کے کارکن ریلیوں کی شکل میں آتے رہے اور وزیراعظم نوازشریف کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے جبکہ حالات کشیدہ ہونے پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد چوک گھنٹہ گھر پہنچ گئی۔ متعدد بار مسلم لیگی کارکنوں اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تلخ جملوں اور دھکے دینے کے واقعات پیش آتے رہے۔ پولیس درمیان میں حائل رہی۔ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں میں تصادم ہوا جس سے 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔ کارکنوں نے رانا ثناءاللہ کے گھر پر پتھراﺅ کیا تحریک انصاف کے کارکنوں نے کالج بس روک لی۔ رانا ثناءاللہ کے گھر کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی موجود تھے پولیس کے 500 اہلکاروں نے اپنی جگہ سنبھال لی۔ تحریک انصاف کے کارکن پتھراﺅ کرکے بکھرتے رہے۔ پولیس کی جانب سے آنسو گیس پھینکی گئی تاہم پولیس کارکن کو منتشر کرنے میں ناکام رہی۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد رانا ثناءاللہ کے گھر کے باہر بڑھتی رہی۔ سرکاری محکموں میں حاضری مکمل رہی البتہ سرکاری سکول و کالجز میں طالب علموں کی حاضری دیکھ کم نظر آئی۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں، سکول زبردستی بند کرانے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ڈنڈوں، انڈوں کا استعمال کیا۔ تحریک انصاف کے کارکن گو نواز گو اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن رو عمران رو کے نعرے لگاتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق ناولٹی چوک کے قریب نہر سے ایک نعش برآمد ہوئی جس کے قریب پی ٹی آئی کا جھنڈا بھی تھا تاہم مرنے والے کی پہچان نہیں ہو سکی۔ عمران خان کے فیصل آباد پہنچنے پر سڑک سے گزرتے ہوئے ایک شادی ہال سے انکی گاڑی پر انڈے پھینکے گئے۔ کچھ لوگوں نے انکی گاڑی پر پتھراﺅ بھی کیا۔ عمران کے حامیوں نے ان پر پھولوں کی بارش کر دی۔ دریں اثنا تحریک انصاف نے فیصل آباد میں کارکن کی ہلاکت پر آج ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا ہے کہ فیصل آباد میں حالات مسلم لیگ(ن) نے خراب کئے، پولیس نے مسلم لیگ(ن) کے گلو بٹوں کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کی ، حالات خراب کرنا حکومت کا پلان تھا، مسلم لیگ(ن) سانحہ ماڈل ٹاﺅن دہرانا چاہتی ہے، حکومت اور پولیس مظاہروں کو پر امن رہنے دیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شفقت محمود نے کہا کہ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج پر (ن) لیگ نے کھلی فائرنگ کی۔ ایک ہفتہ قبل شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں فائرنگ اور مارپیٹ کا پلان بنایا گیا، جس کا ہمیں علم تھا۔ (ن) لیگ چاہتی تھی کہ مذاکرات کے دروازے بند کئے جائیں۔ پولیس نے پر امن مظاہرین کی حفاظت کرنے کی بجائے ایک پارٹی کا کردار ادا کیا۔ دریں اثناءفیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق عمران خان نے فیصل آباد میں ڈی ٹائپ چوک میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وعدہ کرتا ہوں حق نواز کی قربانی ضائع نہیں جائیگی۔ اس قربانی سے نیا پاکستان بنے گا۔ آپ نے میری کال پر فیصل آباد بند کر دیا‘ آپ لوگوں نے اپنے مستقبل کو بچانے کیلئے قربانی دی‘ جب تک دم ہے ملک کو ظالموں سے نجات دلائیں گے۔ قوم بدل چکی ہے، ظلم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے، مقابلہ کریں گے۔ عابد شیرعلی اور رانا ثناءاللہ نے پلان بنا کر حملہ کیا ہے۔ انکے غنڈوں نے حملہ کیا۔ نواز شریف نے ہمیشہ پولیس کا غلط استعمال کیا ہے‘ سب نے دیکھا پولیس کھڑی تھی پھر بھی گولی چلی۔ میاں صاحب! جو مرضی کر لیں‘ انصاف لے کر رہیں گے۔ آج سارے پاکستان میں یوم سوگ منائیں گے۔ حکومت کا خیال تھا کہ نوجوان ڈر جائیں گے۔ میاں صاحب جوڈیشل کمشن نہیں بنانا چاہتے۔ این اے 122 کھلنے کی خوشخبری ملی ہے۔ حکمرانوں نے ہمیشہ پولیس اور گلوبٹوں کیساتھ ملکر ظلم کیا۔ آج ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ہو گی‘ نواز شریف نے ہمیشہ ظلم کی سیاست کی ہے، لاہور جانے کا خاص طور پر انتظار کر رہا ہوں۔ سانحہ ماڈل ٹا¶ن لاہور‘ گوجرانوالہ اور اسلام آباد پر کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ حکمران لوگوں کو قتل کرتے لیکن انصاف نہیں دیتے۔ لاہور میں شریفوں کو بتائیں گے کہ پاکستان بدل چکا ہے۔ فیصل آباد کے وکلا اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عمران نے کہا کہ کارکنوں پر گولی چلانا کہاں کی جمہوریت ہے‘ کیا ہمارے کارکن مرنے کیلئے رہ گئے ہیں! حکمرانوں نے طرزعمل نہ بدلا تو جاتی عمرا کے گھیرا¶ کی کال دے سکتے ہیں۔ مستقبل بچانے کیلئے دی گئی قربانی ضائع نہیں جائے گی۔ ملک لٹیروں سے آزاد کرا کر دم لیں گے۔ نوازشریف نے ہمیشہ ظلم کی سیاست کی ہے، پولیس کا غلط استعمال کیا گیا گلو بٹوں سے حملہ کرایا گیا۔ رانا ثناءاللہ اور عابد شیرعلی نے گلو بٹوں کے ذریعے سانحہ ماڈل ٹا¶ن دہرانے کی کوشش کی۔ پولیس کی سرپرستی میں کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔ حق نواز نے جس مقصد کے لئے قربانی دی ہے وہ مقصد حاصل کریں گے۔ ملک کو شریفوں سے آزاد کروانے کے لئے کراچی اور لاہور میں پہیہ جام کیا جائے گا۔ انہوں نے شریف برادران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے سمجھا کہ آپ تشدد کر کے تحریک انصاف کے کارکنوں کو ڈرا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکن ڈرنے والے نہیں۔ سانحہ ماڈل ٹا¶ن، گوجرانوالہ، اسلام آباد، جہلم اور اب فیصل آباد میں آپ نے تشدد کیا۔ قوم بدل چکی ہے اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی ہے۔ حکومت کسی وجہ سے جوڈیشل کمیشن نہیں بنا رہی۔ سارے پاکستان کو پتہ ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ نواز شریف اور زرداری نے باریاں لے کر عوام پر ظلم کیا ہے۔ فیصل آباد روانگی کے وقت عمران خان نے فیصل آباد میں اپنے کارکنوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج سارے پاکستانیوں کا حق ہے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے ¾ دبا¶ بڑھانے کے لئے حکومت نے طاقت دکھائی ¾پرامن احتجاج پر گولیاں چلانا کہاں کی جمہوریت ہے ¾رانا ثناءاللہ نے ایک دن پہلے ہی کہہ دیا تھا نمٹ لیں گے ¾جب تک مجرم کو نہیں پکڑا جائےگا تب تک شفاف الیکشن نہیں ہوں گے، الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ خوش آئند ہے اور جلد سچ سامنے آجائےگا۔ مسلم لیگ ن کے گلو بٹوں نے تیاری کرکے حملہ کیا۔ تشدد کا راستہ اختیار کرنا شریف خاندان کا پرانا کھیل ہے اس سے پہلے ماڈل ٹاو¿ن میں بھی اسی قسم کا کھیل کھیلا جاچکا ہے اگر کوئی غلطی کرتے تو پولیس کا کام روکنے کا تھا گلو بٹوں کا نہیں، شریف خاندان نے پنجاب میں پولیس سٹیٹ بنا رکھی ہے اور اگر لاہور میں طاقت کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کا مقابلہ کر کے دکھاو¿ں گا، مسلم لیگ ن کے گلوو¿ں کو کوئی حق نہیں کہ پتھراو¿ کریں اور انڈے ماریں۔ ہم نے کاروبار نہیں سڑکیں بند کرنے کے لئے کہا تھا لاہور میں بھی ایسا کیا گیا تو مقابلہ کر کے دکھائینگے۔ تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ اب یہ تحریک پاکستان کے کونے کونے سے اٹھے گی۔ لاٹھی گولی کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔ کارکن پرامن رہ کر احتجاج جاری رکھیں، آج مظاہرے کی نئی تاریخ دیں گے۔ صدر تحریک انصاف پنجاب اعجاز چودھری نے کہا ہے کہ آج صوبے بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔ آج دوپہر مسجد شہداءمال روڈ پر جاں بحق کارکن کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں اور مظاہرے کئے جائیں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا ہے کہ پولیس دیکھتی رہی اور گلو بٹوں نے حملہ کیا۔ لاہور میں 22 افراد کو مارنے کے ذمہ دار رانا ثناءاللہ تھے۔ نعشیں ن لیگ گرا رہی ہے اور ہم پر نعشوں کی سیاست کا الزام لگا رہی ہے۔ عمران خان مرنے والے کارکن حق نواز کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ عمران خان نے کہا کہ جب وہ شخص فائرنگ کر رہا تھا تو میں ٹی وی پر اسے دیکھ رہا تھا۔ اسلام آباد کے احتجاج کی قیادت میں کرونگا۔ عمران خان زخمی کارکنوں کی عیادت کیلئے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد گئے۔ انہوں نے ہسپتال میں زخمی کارکنوں کی عیادت کی۔عمران خان نے کہا کہ این اے 122 کا نتیجہ آنے پر پتہ چل جائے گا، کتنا بڑا فراڈ ہوا۔ دھاندلی کرنے والوں کو جیلوں میں ڈلوائیں گے۔ یقین ہے 15 دسمبر تک این اے 122 کا نتیجہ آجائے گا۔ رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی خوفناک وزیر ہیں۔ 

لاہور (خصوصی رپورٹر+ کامرس رپورٹر+ نامہ نگاروں سے) فیصل آباد کے واقعہ کے خلاف لاہور سمیت ملک بھر میں تحریک انصاف کے حامیوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، متعدد مقامات پر دھرنے دئیے اور ٹریفک بلاک کر دی۔ احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیل گیا، لاہور میں تحریک انصاف کے حامیوں نے متعدد مقامات پر ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کیا۔ ٹائر جلائے، گو نواز گو اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔ سب سے بڑا احتجاج مال روڈ پر جی پی او چوک میں ہوا جہاں چار پانچ سو افراد کے احتجاج کی قیادت پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید، این اے 118کے ٹکٹ ہولڈر حامد زمان، این اے 119کے ٹکٹ ہولڈر محمد مدنی، یاسر گیلانی اور شعیب صدیقی نے کی۔ جی پی او چوک پر میاں محمود الرشید نے قاتل قاتل نوازشریف قاتل کے نعرے لگوائے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے جی پی او چوک سے نیلا گنبد جانے والے راستے میں ٹائر جلاکر پی ایم جی آفس سے جی پی او چوک کی طرف آنے والی ٹریفک کے ساتھ ساتھ میکلوڈ روڈ سے اے جی آفس جانے والی ٹریفک میں خلل ڈالا جس سے ملحقہ سڑکوں بیڈن روڈ، مال روڈ اور ٹمپل روڈ کی ٹریفک بُری طرح متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے لبرٹی چوک، لالک چوک، گول چکر سمن آباد، شاہدرہ اور جلوپارک میں بھی احتجاج کیا۔ مال روڈ پر توڑپھوڑ کے خوف سے دکانداروں نے دکانیں بند کر دیں۔ کامرس رپورٹر کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں کے احتجاج کے باعث لاہور کی مارکیٹیں وقت سے قبل ہی ویران ہو گئیں۔ دکانداروں نے احتجاج اور گاہک نہ ہونے کے باعث وقت سے قبل دکانیں بند کر دیں۔ سب سے پہلے احتجاج کا سلسلہ جی پی او چوک میں شروع ہوا۔ جی پی او چوک کے بعد لبرٹی اور ڈیفنس میں بھی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ان علاقوں کی بڑی مارکیٹیں بند ہونا شروع ہو گئیں۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز احمد چودھری اور جنرل سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے فیصل آباد کے واقعہ پر بطور احتجاج آج صوبے بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے قتل، فائرنگ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حکومت نے لاہور، اسلام آباد کے بعد فیصل آباد میں ریاستی دہشت گردی کا ری پلے دہرایا ہے۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق شیخوپورہ میں تحریک انصاف کے پارٹی عہدیداران اور کارکنوں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کے بعد لاہور سرگودھا روڈ کی ٹریفک کو بلاک کر دیا۔ ضلعی صدر لائیرز ونگ چودھری ذوالقرنین ڈوگر، سٹی صدر شیخ زین ندیم، تحصیل صدر یوتھ ونگ رانا فہد قیوم، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری انعام الحق گجر سمیت سینکڑوں کارکنان نے احتجاج میں شرکت کی۔ تحریک انصاف ضلع شیخوپورہ کے رہنماﺅں اور کارکنوں پر مشتمل قافلہ فیصل آباد احتجاج پر روانہ ہوا جس کی قیادت تحریک انصاف کے ضلعی صدر کنور عمران سعید ایڈووکیٹ نے کی قافلہ میں سابق صدر یوتھ ونگ چودھری شہزاد علی ورک، تحصیل جنرل سیکرٹری چودھری فیض الرسول گجر، سابق سٹی ناظم ملک حبیب سلطان کھوکھر، چودھری معراج خالد گجر، قیصر ذوالفقار بھٹی، ارشدمسعود ہاشمی ،عامر گجر ، چودھری شہریار چیمہ، ذوالفقار ورک، شیخ احسن حبیب، چودھری ذوالقرنین ڈوگر ایڈووکیٹ، شیخ زین ندیم، رانا عبدالسمیع سمیت کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے کا رکنوں نے پنڈی بائی پا س پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بلاک کر کے احتجاج اورمسلم لیگ (ن) کیخلاف شدید نعرے بازی کی، پی ٹی آئی کے ضلعی صدر رانا نعیم الرحمان کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں نے فیصل آباد میں کارکن کی ہلاکت کے خلاف پنڈی بائی پاس پر ٹائر جلا کر اور بیرئر کھڑے کر کے لاہور، اسلام آباد روڈ کو ٹریفک کیلئے بلاک کر دیا۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق فیصل آباد میں تحریک کے کارکن کے قتل کے خلاف کارکنوں نے جی ٹی روڈ پر ٹائر جلاکر مظاہرہ کیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ تحریک انصاف نے ہشت نگری پشاور اور کوئٹہ میں منان چوک پر احتجاج کیا۔ پی ٹی آئی نے داﺅد خیل میں بنوں روڈ پر ٹریفک معطل کر دی۔ ڈیرہ الہ یار میں فیصل آباد واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کراچی کی معروف اور مصروف ترنی سڑک شارع فیصل پر دھرنا دیا۔ وکلا نے تحریک انصاف کے جاں بحق کارکن کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حق نواز کی غائبانہ نماز جنازہ آج مسجد شہداءکے سامنے ادا کی جائے گی۔ پی ٹی آئی نے لاہور میں بھی احتجاج کی کال دیدی، 12دسمبر کو کراچی میں دھرنے کے مقامات بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میانوالی، سیالکوٹ، سرگودھا، مظفر گڑھ، ملتان، چنیوٹ، گجرات، تاندلیانوالہ اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ فیصل آباد کے وکلا نے آج عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ناولٹی چوک میں ہونے والی فائرنگ پر سی پی او فیصل آباد نے نوٹس لیا ہے۔ فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری کیلئے ایس پی اقبال ٹاﺅن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ ملزم کو 48گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناءزخمی کانسٹیبل کے علاج معالجہ کیلئے سول ہسپتال منتقل کرکے علاج کے لئے بہترین سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ مجھ پر بغیر تصدیق الزام لگایا گیا ہے، فائرنگ کرنے والے کو بغیر تحقیقات مسلم لیگ ن کا کارکن کہہ دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا دوسرا کارکن کپڑوں میں آگ لگنے سے نہر میں کود کر مرا ہے۔ فائرنگ کرنے والے کو بغیر تحقیق کے میرا گن مین کہہ دیا گیا ہے، نعش گرانے والا سامنے آ جائیگا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پتھراﺅ اور لوگوں کی گاڑیاں جلائیں، کہیں تصادم ہوا نہ شہر بند، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ میرے گھر عمران خان، شیخ رشید اور اعجاز چودھری نے حملہ کرایا۔ ہنگامے میں 2افراد مارے گئے، تحریک انصاف کا ایک کارکن کو ٹائر کو آگ لگاتے ہوئے کپڑوں میں آگ لگ گئی اس نے نہر میں چھلانگ لگائی اور مر گیا۔ پی ٹی آئی والوں نے اسکی نعش غائب کر دی اور خاموش سے دفنا دیا۔ عمران خان 3سے 4گھنٹے تک سڑک پر رہے، کیا کسی لیگی کارکن نے انہیں روکا؟ میدان نہیں چھوڑیں گے، مقابلہ کریں گے، کیا زبردستی دکانیں بند کرانا اور ٹائروں کو آگ لگانا پُرامن احتجاج ہے؟ تحریک انصاف آج جنازہ پڑھ لے، سوگ منا لے پھر ان کی حقیقت بتاﺅں گا۔ تحریک انصاف جلاﺅ گھیراﺅ کی سیاست کر رہی ہے۔ فیصل آباد کی صورتحال پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کی اشتعال انگیز تقاریر اور جلاﺅ گھیراﺅ کی اپیلوں کا نتیجہ ہے۔ بدامنی‘ ہنگامہ آرائی اور جلاﺅ گھیراﺅسے ملکی معیشت تباہی کی طرف جائے گی۔ فائرنگ کرنے والے ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ مسلم لیگ کے کارکنوں نے کمال صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔فیصل آباد میں شہریوں نے تحریک انصاف کی کال کو مسترد کرتے ہوئے معمولات زندگی میں حصہ لیا۔ تمام تجارتی اور تعلیمی ادارے کھلے رہے، سڑکوں پر پہیہ رواں رہا مگر پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کی قابل اعتراض تقاریر سے ان کے کارکنوں نے مشتعل ہو کر ڈنڈے کے زور پر دکانیں اور ٹریفک بند کرائی اور جلاﺅ گھیراﺅ شروع کر دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جگہ جگہ پتھراﺅ کیا، املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انتظامیہ نے انتہائی صبروتحمل سے کام لیا۔ تحریک انصاف کے ضلعی صدر رانا راحیل نے کہا ہے کہ فیصل آباد کے واقعہ میں دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں سمندری روڈ کی نہر سے ملنے والی نعش ہمارے کارکن کی ہے۔