جنرل راحیل شریف کی فوڈ سکیورٹی اور یوم شبیر

09 دسمبر 2014
جنرل راحیل شریف کی فوڈ سکیورٹی اور یوم شبیر

جنرل راحیل شریف کے امریکی دورے پر بی بی سی کا تبصرہ معنی خیز ہے۔ مگر اس سے پہلے جنرل راحیل نے دہشت گردی اور بھارتی مداخلت کے علاوہ اندرون ملک میں غربت اور بدحالی کے لئے فوڈ سکیورٹی کی اصطلاح استعمال کی جو بہت قابل غور ہے۔ اس پر آگے چل کر بات کی جائے گی۔
بی بی سی کے مطابق جنرل راحیل شریف امریکہ کو سمجھانے گئے تھے کہ وہ نہ کیانی ہیں نہ مشرف۔ جنرل کیانی نے ایکسٹینشن قبول کی اور جنرل مشرف نے مارشل لا لگایا۔ یہ دونوں کام جنرل راحیل نہیں کریں گے۔ مگر کچھ تو کریں گے۔ ہم براہ راست پاک فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے خلاف ہیں۔ یہ کام نہ کیا جائے مگر آئینی قانونی طریقے سے معاملات کو سلجھانے میں کوئی کردار ادا کیا جائے۔ قومی سلامتی کا فریضہ ادا کرنا ہو گا۔ جنرل راحیل یہ معرکہ آرائی کیسے کرتے ہیں۔ یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے۔ جنرل راحیل نے کراچی میں اسلحے کی نمائش میں شرکت کی اور ایسی تقریر کی جو قوم کی تقدیر سے بھی متعلق لگتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور عالم اسلام کے مسئلوں کو ملا کے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سے علاقائی سکیورٹی خطرے میں ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں جو کام اسرائیل سے لینا چاہتا ہے وہی کام مغربی ایشیا میں بھارت سے لینا چاہتا ہے۔ ان دونوں مسائل میں ایک مشابہت ہے مگر ایک ’’ممانعت‘‘ بھی پائی جاتی ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لئے ’’ممنوعہ‘‘ کے لفظ پر غور کرنا پڑے گا۔ شاید یہی بات امریکہ کو سمجھانے کے لئے جنرل راحیل شریف گئے تھے۔ بی بی سی کے اشارے کی تشریح میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے ساتھ چین بھی ہے اور روس بھی ہے مگر ابھی بھارت کو پاکستان سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھارت نے امریکہ کی اس خواہش کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان کو میرے راستے سے ہٹانا ہو گا ورنہ میں کبھی بھی منی سپر پاور نہیں بن سکتا۔ چین مستقبل کی سپر پاور ہے۔ معاشی حوالوں سے وہ سپرپاور بن چکا ہے۔
امریکہ چین کا مقروض ہے اور ہم امریکہ کے مقروض ہیں۔ بھارت چین دفاعی عسکری مسائل اور معاملات میں پھنسا ہوا ہے تو اس کی معاشی برتری بھی خطرے میں ہے۔
کشمیر کو فلسطین کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اب اس کی تائید جنرل راحیل شریف کی طرف سے بھی آ چکی ہے۔ اب حکمرانوں اور سیاستدانوں کو کشمیر کے مسئلے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ سارک کانفرنس کے دوران نواز شریف نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے اور بھارت کے لئے ایک پریشانی پیدا ہوئی ہے۔
جنرل راحیل شریف نے نظریہ پاکستان کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ ہم اپنے نظریات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ دہشت گرد اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی بات کی ہے۔ سپہ سالار کی یہ بات بہت غور طلب ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غربت مہنگائی بے روزگاری اور بھوک وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ اور اس کے لئے ’’فوڈ سکیورٹی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فوڈ سکیورٹی کی ضرورت غریب لوگوں کو ہے جن کو سکیورٹی بھی حاصل نہیں ہے۔ فوڈ سکیورٹی ایک چیلنج ہے جو بڑا گھمبیر ہے۔ اس کا اظہار پہلی بار ملکی قومی سکیورٹی کے ذمہ دار جرنیل نے کیا ہے۔
جنرل راحیل شریف امریکہ میں بہت اہم لوگوں سے ملے اور آخر میں امریکی وزیر خارجہ کے سامنے پاکستان کی عسکری کارکردگی، دہشت گردی کے خلاف مہم میں مہارت اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ شاید امریکہ کو سمجھانے کا نتیجہ ہے۔ امریکہ نے دوٹوک انداز میں بھارت کو باور کرایا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگانا غلط ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ایسے کسی واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے حوالے سے محتاط رہنا چاہئے۔ واشنگٹن میں امریکی ترجمان میری … نے بھارتی صحافیوں کے سوالات کو نظرانداز کیا اور صرف اتنا کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر پر تشویش ہے۔ اس بات کا واضح اشارہ بھارت کی طرف بھی ہے جو خواہ مخواہ اس مسئلے کو لٹکاتا چلا جا رہا ہے۔ بھارت نے بڑی ڈھٹائی سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مدد کی اپیل کی ہے مگر آپریشن ضرب عضب کی کامیابیاں ان کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ سوات میں آپریشن کی کامیابی بھی اس کے لئے پریشانی کا باعث تھی۔ بھارت کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ القاعدہ کا سربراہ عدنان الشکری اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے۔ اس جھڑپ میں پاکستانی صوبیدار بھی شہید ہوا ہے۔ لوگوں کے جوش و خروش کے درمیان پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ٹیکسلا میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وہی ترانے فضائوں میں گونجے جو بھارت کے ساتھ جنگوں میں گونجا کرتے تھے۔
6دسمبر کو جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی نشان حیدر میجر شبیر شریف شہید کا یوم شہادت بھی یوم شبیر کے نام سے منایا گیا۔ آرمی چیف اور کور کمانڈر لاہور کی طرف سے ان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔ وہاں دو تین میجر جنرل موجود تھے مگر میرا خیال ہے کہ جنرل راحیل شریف اور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان کو خود ایک عظیم سپاہی کی قبر پر جانا چاہئے تھا جو ایک زندہ قبر ہے۔ جنرل راحیل شریف آج کل آپریشن ضرب عضب کے شہیدوں کے نگہبان بھی ہیں۔ یہ شہادت بھی بہت بڑا معرکہ ہے۔ مگر جو معرکہ آرائی بھارت کے خلاف کی گئی تھی اس کا مرتبہ زیادہ ہے۔ پوری قوم میجر شبیر شریف کو سلام کرتی ہے۔ شہید کا بیٹا تیمور شریف، بیٹی بھی قبر پر موجود تھی۔