بے بصر پر تشدد

09 دسمبر 2014
بے بصر پر تشدد

مکرمی!  ہمارے حکمرانوں کے کھاتوں میں ویسے تو عوام سے بہت سی زیادتیاں لکھی ہوئی ہیں لیکن بے بصر افراد پر تشدد کے حوالے سے موجودہ حکومت سب پر بازی لے گئی۔ بصارت سے محروم افراد کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ عالمی یومِ معذورین کے موقع پر وہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے اور یہ کوئی اس قدر سنگین جرم نہیں تھا جس کی پاداش میں انہیں سڑکوں پر روندا گیا۔ معذور لوگوں کے دلوں میں جینے کی امنگ پیدا کرنا مہذب معاشروں کا اولین فرض ہے اور پھر آنکھوں سے محروم لوگ ہماری زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب یہ لوگ اپنے عزم سے اپنی اس ویران دنیا میں خوشیوں کا رنگ بھرنا چاہتے ہیں تو قدم قدم پر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ معاشرے کو اس بات کا احساس نہیں کہ معذور افراد خیرات کے لئے نہیں پیدا ہوتے ان میں بھی عزتِ نفس کا مادہ نارمل لوگوں جیسا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں معذور افراد کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جاتا ہے، ان کو دوسرے درجے کا قابلِ رحم شہری تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معذورین کی بحالی اور حفاظت معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری ہے، مناسب منصوبہ بندی سے خصوصی افراد کی زندگی میں خود انحصاری پیدا کی جا سکتی ہے۔ مہذب ممالک میں معذورین کو بوجھ خیال نہیں کیا جاتا ہے بلکہ خصوصی تعلیم و تربیت سے معذورین کو معاشرے کا فعال اور صحت مند حصہ بنایا جاتا ہے۔(رانا زاہد اقبال۔ فیصل آباد)