پڑھائی بچوں پر بوجھ کیوں؟؟

09 دسمبر 2014

مکرمی! ہمارے بچے صرف امتحان میں کامیابی کے لیے پڑھتے ہیں، وہ صرف ڈگری حاصل کرتے ہیں تعلیم نہیں۔ بعض دفعہ تو رزلٹ خراب آنے پر کچھ بچے گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور کچھ خودکشی کر کے اس ’’بوجھ‘‘سے نجات پا جاتے ہیں اور بہت سے دوبارہ کتابوں کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لیتے ہیں۔ نوجوان نسل میں تعلیمی شعور بیدار کرنے کے لئے بہت سے نئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہماری حکومت کو چاہیے کہ نئے نصاب کے مطابق استاتذہ بھی نئے اپائنٹ کرے اور سکولز کی بلڈنگ تعمیر کرتے وقت بچوں کی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے انتظامات کریں اور وقتاً فوقتاً بچوں کی ذہنی استعداد کے مطابق سکولز یا کالجز میں تعلیمی ایکٹیوٹیز کو فروغ دیں دوسری طرف والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے کو اسکی مرضی اور شوق کے مطابق مضامین کا انتخاب کرنے دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو الگ فطرت پر پیدا کیا ہے۔والدین کو چاہیے کہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے بچوں کے ساتھ ان کی تعلیم کے حوالے سے بات چیت ضرور کریں اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ان کا بچہ کیا پڑھ رہا ھے۔ نوجوان نسل ہی ہماری قوم کا سرمایہ ہے اور قوم کے انہیں معماروں نے اس وطن کو ترقی کی بلندیوں پر لے جانا ہے۔(اقرا خان ۔ لاہور)