’’10 دسمبر‘‘ یوم انسانی حقوق، یا پامالی حقوق؟

09 دسمبر 2014

قارئین کل 10 دسمبر ہے حقوق انسانی کی نام نہاد پاسداری کا دن پاکستان سمیت یہ دن دنیا بھر میں بڑے تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے جبکہ غریب و لاچار اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم انسان اس دن کا آغاز بھی اُسی فقر اور فکر و فاقے سے کرتے ہیں جس سے وہ یوم حقوق انسانی منانے سے پہلے کیا کرتے تھے بظاہر یہ دن دنیا کے ہر ملک میں سرکاری سطح پر اُنکے حقوق کے احترام، ترسیل، بحالی اور دفاع کے بارے میں منایا جاتا ہے۔ چمکیلے وعدے، جلسوں، جلوسوں، سیمینارز کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہوتا، کہیں کہیں احتجاج بھی ریکارڈ کرائے جاتے ہیں، اِکا دُکا یادداشتیں بھی سفارت خانوں میں پیش کی جاتی ہیں لیکن آخرکار امریکی خدائوں کی بے بس زمینی مخلوقات کو حقوق عطا کرنے کے ترلے منتیں کرنے بعد تقریبات کا اختتام ہو جاتا ہے۔
قارئین ہمیں تو سمجھ نہیں آتی سال بھر میں کسی ایک آدھ دن پر اس قدر ناقابل برداشت مصنوعی بوجھ کیوں ڈالا جاتا ہے؟ عام ایام کا کیا قصور ہے کہ اُن کو خاص ایام کے گھیرے میں قید نہ کیا جائے؟ کیا یہ عملی طور پر اُن تلخ ترین حقائق سے فرار کا راستہ نہیں ہے جن کے تحت انسان اور انسانیت ہر پَل خون کے سرخ آنسو رو رہی ہے؟ دنیا کی آدھی آبادی خطِ غربت و محرومی سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ آدھا افغانستان بہتی ہوئی مائع آگ میں ڈبو کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ ایک لاکھ نہتے کشمیریوں کے خون ناحق میں وہاں کے چناروں کی چوٹیاں ڈوب گئی ہیں بلکہ ابھی تک عقوبت خانوں میں انکے ساتھ ہر روز ننگی درندگی جاری ہے، چیچنیا اور بوسنیا کے کئی کئی ہزار مسلمان ان ظالموں کے ہاتھوں زندہ درگور ہونے کے حوالے سے طویل و عریض قبروں میں ڈھل گئے ہیں، عراق کے لاکھوں مسلمان جرم مسلمانی کی پاداش میں اپنی ہی سرزمین کی مٹی میں اپنا خون ملانے پر مجبور رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کو انہی کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ٹینکوں کے نیچے قیمہ کیا جا رہا ہے، گوانتا نامو بے کے ایکسرے رومز میں بے بس مائوں کے سینکڑوں جگر پاروں کو سٹریچرز پر لاد لاد لے جایا گیا بلکہ ابھی تک لے جایا جا رہا ہے جن کے تشدد زدہ اعضا سے بہتا ہُوا خون وہاں سے یہاں ہمارے کلیجوں تک پہنچتا رہا ہے۔ کیا یہ سب کچھ حقوق انسانی کی پاسداری کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر نہیں آتا اور یقیناً نہیں آتا تو پھر ایسے ایام منا کر اصلی انسانی حقوق کو ہائی لائیٹ کر کے محروم و مقہور انسانوں کے زخموں پر میٹھا نمک کیوں چھڑکا جاتا ہے؟ انہیں کیوں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ دراصل تم انسان ہو کر بھی جانوروں جیسی زندگی گزار رہے ہو، جینے کے باوجود مر رہے ہو، غاصب ابلیسی قوتوں نے تمہارے حقوق نگل رکھے ہیں۔
قارئین کرام انسان، انسانیت اور یوم انسانی حقوق کا اس سے بڑھ کر عملاً اور کیا مذاق اڑایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف امریکہ جلتے شعلوں جیسے اور انگاروں کی طرح کے سرخ ڈرون بمبار طیاروں سے بے کس قبائلیوں اور غریب آبادیوں کو خاک و خون میں ملائے اور دوسری طرف مصنوعی اعضا کی فیکٹریاں لگا کر بیٹھ جائے ساتھ ہی معذوروں کا عالمی دن منا لے۔ ایک طرف شکاگو میں اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر بھاگتے دوڑتے، فاقہ زدہ ننگی پشتوں والے مزدوروں پر سیدھا گولیاں چلانے کا اندھا حکم دے ڈالے اور دوسری طرف MAY DAY ایجاد کر لے۔ ایک طرف پِدی برابر اسرائیل کا پدرِ خاص بن کر اسے اسلحہ بارود سے لاد کر شیر ببر بنا دے اور دوسری طرف عقابوں اور شیر ببروں جیسے فلسطینی فوجیوں اور نوجوانوں کو سرنڈر کرنے کا حکم دے کر جیلوں کو اُن کے نہتے وجودوں سے بھر دے جن کے اندر حقوق انسانی کی وہ بدترین خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں کہ الامان۔ ابو غریب جیل میں بے بس عراقی قیدیوں کے ساتھ جو کچھ کرایا گیا یا کرایا جاتا ہے کیا یہ انسان کا شرفِ انسانیت سے گر جانے کا انت نہیں ہے؟ اگر یہ سب حقوق انسانی کی پامالیاں جاری ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر ایسے تمام ایام منانے کا کیا جواز ہے؟ ایام منانے یوں بھی کون سے مشکل ہیں۔ اللہ نے دن بنائے اور اسکے بندوں نے منائے، نہ ٹکہ پیسہ لگا نہ اخلاقی دبائو خرچ ہو، ہر بااختیار شخص چار میٹھے لفظ جھاڑ کر فارغ ہو جاتا ہے۔ اگر ایام کی تعداد پر نظر ڈالی جائے اور جان لیوا پامالیوں کی تعداد ذہن میں رکھی جائے تو حقوق کی بحالیوں کی تعداد سے صفر کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہے۔ سب سے پہلے اگر ہم ’’بچوں کے عالمی دن‘‘ کی بات کریں تو یہ دن منانے کے باوجود اس وقت دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے موجود ہیں جن کو خوراک، تعلیم اور صحت کی بنیاد سہولتیں میسر نہیں ان سے بیگار لی جا رہی ہے بلکہ انہیں ناقابل برداشت محنت مزدوری کا سامنا ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ انکے حقوق کیلئے جلوسوں، تحریروں اور تقریروں کی بیکار محنت کے بجائے ان کو تعلیم اور اچھی خوراک کی سہولتیں عطا کر دی جاتیں، انکے غریب والدین کو بھی اور خوراک و صحت کا خیال رکھا جاتا تاکہ وہ صحت مند بچے پیدا کرنے کے بعد اُنکی بہتر تربیت کر سکتے۔ اسی طرح خواتین پر تشدد کا عالمی دن اُن پر بدترین تشدد کر کے منایا جاتا ہے۔ صحت کا عالمی دن منانے کے اگلے دن بیماریوں کے جو اعداد و شمار چھپتے ہیں لگتا ہے اب بیماریاں زیادہ ہو گئی ہیں اُن کے نام کم پڑ گئے ہیں، اگر محض دن منانے سے صحت کے تقاضے حکومت پورے کر دیتی تو بیماریاں صحت کی طرح کیوں ناگزیر ہوتیں؟
حقیقت یہ ہے قارئین کہ آج کا انسان غلط قدموں سے چلتا ہُوا غلط منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اور تو اور یو این او جو یہ سارے دن منواتی اور مناتی ہے بلکہ خود اُس کا دن بھی منایا جاتا ہے یکسر ایک ناکام ترین تنظیم ہے۔ یہ یو این او ہی ہے جو صرف امریکہ کے احکامات کیلئے اسکی ہاتھ باندھی باندی ہے، وہ نہتے مسلمانوں پر حملے کرتا ہے، اُن کا خون پیتا ہے تو یہ منہ میں گھنگھیاں ڈال کر بیٹھ جاتی ہے جبکہ اصل دردناک حقیقت یہ ہے کہ لمحہ موجود میں حقوق انسانی کی پامالیاں ایک ایسے انتہائی مقام پر پہنچ چکی ہیں جس سے آگے جانے کا کوئی دوسرا مقام موجود ہی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے ذہن پوری دردمندی سے یہ سوچیں کہ ہر طرف بہتے ہوئے انسانی خون کو کس طرح روکا جائے؟ انسانی بنیادی حقوق کا تحفظ کس طرح ممکن ہے؟ نام نہاد دن منانا بند کریں بلکہ دنوں کے حوالے سے جو کچھ کرنا ہے اُن فرائض کی تحصیل و تکمیل پر توجہ دیں جب دنیا بھر کے انسانوں کو اُنکے تمام تر حقوق مل جائینگے پھر تو اس خوشی میں دن بھی منا لینا۔ لمحہ موجود میں ایام منانے کی آڑ میں عملی طور پر انسانی حقوق و فرائض کی ادائیگی کا مذاق اڑانا بند کیا جائے۔ اصل حقائق پر توجہ دی جائے۔