بیگم پروین سرور کے ہاتھوں پہلی ویمن ہیلپ لائن کا افتتاح

09 دسمبر 2014

ہماری خواتین فی زمانہ ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں
ہمارے ملک میں عورت، ملک کی وزیراعظم، صوبے اور اسٹیٹ بینک کی گورنر تک رہ چکی ہے
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور بیٹی جنم پر ایک شخص نے اپنی بیوی کو تیل چھڑک کر بری طرح جھلسادیا
خواتین کی اکثریت ”خاتون خانہ“ کے فرائض تک محدود رہتی ہے اور عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کاکام کرتی ہے
.آج کی عورت سیاست، قومی ثقافت، شعبہ تعلیم، شعبہ صحت عامہ، بینکاری حتیٰ کہ افواج پاکستان اور پولیس میں بھی اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے
ملک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن خواتین کی اکثریت ”خاتون خانہ“ کے فرائض تک محدود رہتی ہے اور عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کم کردار ادا کرتی ہے معاشرتی زندگی میں خواتین کو عام معاشرے کی نسبت بہت کم مشکلات پیش آتی ہیں ,فی زمانہ خواتین ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے ساتھ کام کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اپنے گھروں سے کام کاج اور معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نکلنے والی خواتین کو بھی وہ تمام مسائل پیش آتے ہیں .آج کی عورت سیاست، قومی ثقافت، شعبہ تعلیم، شعبہ صحت عامہ، بینکاری حتیٰ کہ افواج پاکستان اور پولیس میں بھی اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔پہلے بینکاری اور امن و امان اور قانون و انصاف کے شعبوں میں عورت کا کردار بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتا تھا لیکن جب عورت نے محض خاتون خانہ کا کردار ادا کرنے تک محدود رہنے کو مسترد کر کے عملی زندگی میں رکھا تو وہ اب ملک کے نامور سائنس دانوں میں شامل ہو کر لیبارٹریوں میں تحقیق کرتی نظر آتی ہے بلکہ وہ مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تمام تدریسی ڈسپلنز میں پروفیسر کے طور پر موجود نظر آتی ہے۔پاکستان میں بینظیر بھٹو کی شکل میں ایک خاتون سیاست دان ملک کی چیف ایگزیکٹو بھی بنی۔ رعنا لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیراعظم کی بیوی تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد وہ صوبہ سندھ کی گورنر بھی بنی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نامی ایک ماہر معاشیات خاتون اسٹیٹ بینک کی گورنر کے عہدے پر بھی فائز ہوئی۔ اس وقت ملک کے تمام بڑے شہروں میں خواتین کی یونیورسٹیاں تک قائم ہیں جن کی وائس چانسلر بھی لیڈی سائنس دان اور سکالر ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ماضی قریب میں ایک سے زیادہ خواتین نہ صرف یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی ڈسپلنز ور فیکلٹی کا حصہ رہیں بلکہ وہ عام فیکلٹی ممبر کی بجائے سبجیکٹ سپیشلسٹ اور ڈین آف فیکلٹی کے طور پر فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ اب خواتین کی بہت بڑی تعداد لیڈی ڈاکٹرز کے فرائض ادا کر رہی ہیں۔ خواتین نے مقابلے کے امتحانات پاس کر کے خود کو ملک کے بیوروکریٹس میں بھی شامل کرایا۔ ایک سابق آئی جی پنجاب مسٹر آفتاب سلطان جو 1960ءکے عشرے کے فیصل آباد کے ایک رکن قومی اسمبلی چوہدری سلطان احمد کے فرزند ارجمند تھے ان کی دو حقیقی بہنیں سروش سلطان اور سرور سلطان نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر پنجاب کی بیوروکریسی کا حصہ رہیں۔ ان دنوں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی تعلیم سے آراستہ ہے اور عملی زندگی میں بھی ان خواتین نے اپنے اپنے پروفیشن میں نام کمایا ہے۔ خواتین ایک طرف شعبہ تعلیم میں لیڈی ٹیچرز اور لیڈی پروفیسرز کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں دوسری طرف ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹرز کے علاوہ سٹاف نرس کے طور پر ان کا کردار بہت زیادہ معروف ہے اور اگر صحت عامہ کے اداروں میں خواتین نرسیں نہ ہوں تو یہ ادارے شاید بالکل بھی چلائے نہ جا سکیں۔ فی زمانہ خواتین ہر شعبہ زندگی میں مرد کے نہ صرف شانہ بشانہ ہر عہدہ پر تعینات ہیں۔ مادرملت فاطمہ جناح نے بابائے قوم محمد علی جناح کی ہمشیرہ کی حیثیت سے اپنے بھائی کی سیاسی زندگی میں بھرپور حمایت کی انہوں نے برصغیر کی تاریخ میں پاکستان جیسی مملکت خداداد کے بانی بن جانے کا شرف حاصل کر لیا۔ اگر 1965ءکے صدارتی الیکشن میں جنرل ایوب خان نے صدارتی امیدوار کے طور پر خود کو دھاندلی سے کامیاب نہ کرایا ہوتا تو مادرملت فاطمہ جناح ملک کی پہلی صدر اور چیف ایگزیکٹو بن جانے میں کامیاب ہوجاتیں۔ فیصل آباد ڈویژن کے ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والی بیگم عابدہ حسین، متعدد مرتبہ قومی اسمبلی کی رکن اور کسی نہ کسی وزارت قلمدان کا حصول کر کے ملک اور قوم کی خدمت کرتی رہیں بلکہ وہ امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں۔ جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور فیصل آباد سے متعدد خواتین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوتی رہی ہیں۔ ان دنوں بیگم خالدہ منصور قومی اسمبلی ارکان ہیں۔ گورنر پنجاب کا عہدہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک نواحی گا¶ں کے سپوت چوہدری محمد سرور کے پاس ہے۔ گذشتہ دنوں وہ دورہ فیصل آباد پر آئے تو ان کی اہلیہ بیگم پروین سرور بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ فیصل آباد میں ان کی آمد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی پولیس ویمن ہیلپ لائن 1213 کا ان کے ہاتھوں افتتاح کرایا ہے۔ اس ہیلپ لائن کے قیام سے خواتین کے ہاتھوں سے خواتین کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ فیصل آباد پولیس نے پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی کے ارکان اور پولیس افسران کی م وجودگی میں سی پی او ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کے آئیڈیا کے مطابق پاکستان میں اپنی نوعیت کی یونیک ویمن پولیس ہیلپ لائن کا تھانہ کوتوالی میں منعقدہ تقریب میں افتتاح کیا ہے۔ اس تقریب میں قومی اسمبلی کے ارکان میں سے حاجی اکرم انصاری، رانا محمد افضل، پنجاب اسمبلی کی ارکان ڈاکٹر نجمہ افضل، ثریا نسیم، ممبران وویمن پروٹیکشن کمیٹی امینہ زمان، روبینہ شہاب، کنولن شہزادی اور متعدد این جی اوز کے ارکان بھیموجود تھے۔ فیصل آباد میں پاکستان کی پہلی ویمن ہیلپ لائن کے افتتاح کے بعد یقین کیا جاتا ہے کہ اب یہ ہیلپ لائن پنجاب کے دوسرے بڑے شہروں بلکہ ملک بھر کے بڑے بڑے شہروں میں قائم ہو جائے گی۔ فیصل آباد میں ویمن تھانہ بھی قائم ہو چکا ہے جس کا تمام کا تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ ویمن تھانے ملک کے متعدد شہروں میں قائم ہیں اور ان تھانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خواتین جو کسی مقدمہ میں مدعی بننے کا استحقاق رکھتی ہیں لیکن تھانوں میں خالصتاً مردوں کی تعیناتی کے باعث وہ انصاف کے حصول کے لئے تھانوں کا رخ اختیار نہیں کرتیں وہ ہر شہر کے ویمن تھانے میں جا کر انصاف کے حصول کے لئے مقدمہ درج کرا سکتی ہیں۔ اکثر بینکوں نے ایسی بینک برانچز بھی شروع کر دی ہیں کہ جن کا تمام تر عملہ بینک مینجر سے عام بینک کلرک تک عورتوں پر مشتمل ہے۔ کسی بینک کی طرف پہلی ویمن برانچ لاہور میں قائم کی گئی تھی۔ عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے لہٰذا مناسب ہو گا کہ ہر تھانہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او کا عہدہ کسی نہ کسی خاتون پولیس انسپکٹر کے پاس ہو اور تھانے میں دو چار لیڈی پولیس کانسٹیبلان بھی ہونی چاہئیں۔گذشتہ دنوں جڑانوالہ کے نواحی گا¶ں لنڈیانوالہ میں بیٹی کی پیدائش پر شوہر کی جانب سے بیوی کو پٹرول چھڑک کر جھلسانے کا روح فرسا واقعہ رونما ہوا تھا تو جڑانوالہ سے پنجاب اسمبلی کی رکن مدیحہ رانا نے اس ہولناک واقعہ کو دور جہالت کی سوچ کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں اور بیٹی کی پیدائش پر جس جاہل شخص نے اپنی بیوی کو تیل چھڑک کر جس بری طرح جھلسایا ہے وہ کھلی درندگی ہے۔یہ خاتون ثمینہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئی اور اب اس کے وارث اپنی بیٹی اور بہن کی نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں کہ انہیں ان کی بیٹی اور بہن کے اس بہیمانہ قتل پر انصاف فراہم کیا جائے۔ لنڈیانوالہ کے ہی علاقہ میں گذشتہ دنوں ایک شخص محمد عمران نے اپنی بہن فرزانہ کو غیرمردوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کے شبہ میں فائرنگ کر کے مار دیا ہے جبکہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بھائی نے بہن کو اس لئے قتل کیاکہ اس نے اپنے والدین کی زرعی زمین اور دیگرجائیداد میں سے شرح کے مطابق اپنا حصہ طلب کیا تھا۔ ہمارے ہاں خواتین پر کبھی روایات اور کبھی کسی اور نام سے ناروا سلوک ایک عام وطیرہ بن چکا ہے۔ جس میں خواتین کو نام نہاد غیرت پر موت کی بھینٹ چڑھا دینے کے علاوہ معمولی اختلاف پر اس کے چہرے پر تیزاب پھینکنا، چہرے کو جھلسا دینے کے واقعات آئے روز کا کام ہیں۔ یہ خواتین ہماری ہی بہنیں اور بیٹیاں ہیں لیکن ایسے واقعات سے دوچار ہونے والی خواتین کو بالعموم تھانے میں انصاف اور ہسپتالوں میں برن یونٹ نہ ہونے کی وجہ سے مناسب علاج نہیں ملتا۔ تھانہ سرگودھا روڈ کے علاقہ ہجویری ٹا¶ن مکان کے تنازعہ پر دیور نے بھابھی پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ جھلسا دیا تھا۔ اس بیوہ بھاوج کا قصور یہ تھا کہ اس کا شوہر وفات پا چکا تھا اور دیور کا تقاضا تھا کہ مرحوم بھائی کے مکان پر اس کی بیوہ سے زیادہ حصہ بھائی کی حیثیت سے اس کا ہے۔