دسمبر 1971 کا تجر بہ اور پاک فوج

09 دسمبر 2014
دسمبر 1971 کا تجر بہ اور پاک فوج

16 دسمبر 1971 کا د ن پاکستا ن کی تا ر یخ میں سیاہ اور بھارت کی تاریخ میں خوش نما دن کی حیثیت رکھتا ہے۔  سقو ط ڈھاکہ کیا پاک فوج کی عسکری شکست تھی یا حکمرانی و سیاست کی شکست تھی ؟ ادب سے گز ا رش ہے کہ ہر ذی ہوش اسے عسکری شکست کی بجائے سیاسی شکست تسلیم کریگا۔ تلخ مگر سچی بات جنرل یحی خان کی ذاتی سیاست گری، ہوس اقتدار ، شیخ مجیب الرحمن اور بھٹو کی اقتدار کشمکش کا نتیجہ تھا ۔ اس زمانے میں بنگالیوں پر ظلم و ستم کرتے اور بنگالی عورتوں کی عصمت دری کرتے عناصر کو پاک فوج کا حصہ دکھایا جاتا تھا۔ یہ ’’را‘‘ اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی پروپیگنڈا جنگ کی کامیابی تھی۔ ہمارے کچھ دانشور اور اہل قلم ابھی تک ایسی باتوں کو لکھتے رہتے ہیں۔ حالانکہ خود بنگالی دانشوروں اور اہل قلم نے اسکی تکذیب کر دی ہے جبکہ عالمی تجزیہ نگار اسے غلط بیانی اور پاک فوج کو بدنام کرنے کی مہم قرار دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک برطانوی صحافی کو ایسا سچ لکھنے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سزا سنائی ہے اس کا مطلب ہے کہ دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں ہر گز ایسا ظلم و ستم نہ کیا تھا جو اسکے نام منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ افسوس کہ ایک کالم نگار نے حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف کو بنگلہ دیش سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا تھا۔ انکا ایسا کرنا حقائق کیخلاف اور پاک فوج کیساتھ زیادتی تھا۔ البتہ یہ تسلیم کرنا پڑیگا کہ جنرل ایوب سے جس طرح جنرل یحی خان نے زبردستی اقتدار چھینا یہ انتہائی غلط اقدام تھا ۔ اگر ایوب خان کو فیصلہ کرنے کا مو قع ملتا تو شاید ان کا فیصلہ کافی مختلف ہوتا سقوط ڈھاکہ کے بعد جس طرح ایک فوجی میس میں ناراض جوانوں نے جنرل یحی خان کی بے عزتی کی اور شراب و شباب کیخلاف نعرے لگائے اس سے فوجیوں کے جذبات سمجھ آ جاتے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شراب و شباب کی نحوست تھی یا ساتھ ساتھ سیاسی عدم فراست بھی ؟ ہمارے خیال میں یہ دونوں ہی تھے ۔ اگر جنرل یحی خان اور اسکے ساتھی سیاسی معاملات کا صحیح فہم رکھتے تو وہ کبھی و ن یونٹ نہ توڑتے اور نہ ہی پیرٹی کے طے شدہ اصول کا خاتمہ کر کے الیکشن کراتے ۔ دوسری طرف وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ شیخ مجیب الر حمن اور را کے درمیان پاکستان سے علیحدگی اور مشرقی پاکستان کو الگ ملک بنانے کی حکمت عملی طویل مدت سے موجود تھی ۔ پاک فوج نے اس کو پکڑ بھی لیا تھا اور اسی کانام اگر تلہ سازش تھا ۔ اگر اس زمانے کے سیاست دان عقل مند ہو تے تو وہ جنرل ایوب خا ن کی دشمنی میں شیخ مجیب الرحمن کو ہر گز اپنی مدد فراہم نہ کرتے اور وہ سیاسی ہیرو بھی نہ بنتا ۔ بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم محترمہ حسینہ واجد چند سال پہلے اپنے انٹرویو میں تسلیم کر چکی ہیں کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے افراد ان کی والد سے ملنے آتے تھے اور رازداری سے بنگلہ دیش کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ خود محترمہ حسینہ واجد ایسی خفیہ ملاقاتوں میں چائے وغیرہ پیش کرتی تھی۔ اگر عسکری فیصلہ ساز سیاست دانوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوتے تو کبھی بھی عوامی لیگ کو غنڈہ گردی کی بنیاد پر اپنے عزائم بنگالی پاکستانیوں پر نافذ کر نے کا ماحول نہ ملتا اصولا تو ایسے عناصر کو انتخابی عمل میں شرکت کی اجازت ہی نہیں ملنی چائیے تھی ۔ کیا ایران میں آ ج بھی انقلابی رہنما جنا ب علی خامنا ئی نا پسندیدہ افراد کو انتحابی عمل سے دور نہیں رکھتے َ؟ ہمیں تسلیم کر نا پڑے گا کہ بھارت کی سازش کامیاب ہوئی مگر اس کی کامیابی پاکستانی حکمران اور سیاست دانوں کی ہوس اقتدار کا نتیجہ اور اس زمانے کے حکمران جنرلز کی عدم فراست کا نتیجہ تھی ۔ لہذا یہ عسکری شکست نہیں ہے ۔ اگر جنرل یحی خان کی بجائے خوش قسمتی سے حکمران صاحب زادہ جنرل یعقو ب علی خان جیسا ہوتا تو کبھی سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا ۔ پاکستان کیلئے دسمبر 1971 سے بھی بد تر حالات آج موجود ہیں۔ ایک بار پھر افغانستان میں بیٹھ کر بھارت ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں علیحدگی ، بغاوت اور ملک دشمن جد و جہد کا سر پر ست ہے ۔ افسوس یہ سب کچھ امریکہ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے ۔ جنرل راحیل شریف حال ہی میں طویل امریکی دورے سے واپس آ ئے ہیں ۔ تو قع کر نی چائیے کہ انہوں نے پاکستان مفادات کی صحیح ترجمانی کی ہو گی۔ بھارت کچھ عر صے سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کیخلاف جس طرح الزامات کی بارش کر رہا ہے اس سے اسکے جنگی عزائم واضح ہیں ۔ اور یہ کسی بڑی مہم جوئی کا پیش خیمہ ہیں ۔ لہٰذا پاک فوج کو ماضی کے تجربات اور علاقائی مد و جزر میں اپنی مجبوریوں کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی فوائد حاصل کرنا ہوں گے۔ پاک فوج میں یقیناً درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ پاک فوج نے جس دلیری سے سوات اور اب قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور بغاوت کو کچلا ہے وہ باعث اطمینان ہے۔ علمائے کرام اور مفتیان عظام سے درخواست ہے کہ وہ پاک فوج کی ایسی کاروائیوں کی بھرپور حمایت کریں ورنہ ان کا نام دہشت گردوں اور ملک توڑنے والوں کے حمایتی کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔ اہل دانش اور اہل قلم درپیش جنگ میں اغیار کے مفادات کیلئے قلم کا استعمال نہ کریں اور کسی بھی نئی اگرتلہ سازش کو کچلنا ہو گا۔ کیا سیاسی حکمران پاک فوج کے مد د گا ر کے طور پر موجود رہیں گے؟ افغانستان میں صدر اشرف غنی کے ساتھ حکومت اور پاک فوج کی نئی حکمت عملی درست عمل ہے۔ اسے جاری رہنا چائیے ۔ روس کے ساتھ دفاعی تعلقات کا عمل بھی درست ہے مگر امریکہ سے تعلقات بد ستور بر قرار رہنے چائیں ۔ شاید افغانستان میں امن میسر نہ ہوگا اور اسکے اثرات پاکستان پر پڑتے رہیں گے ۔ ایران سے مکمل تعلقات اور دوستی ایران اور پاکستان کی ضرورت ہے ۔