ڈاکٹر شہزاد قیصر کے انشائیے اور کافیاں

09 دسمبر 2014

ڈاکٹر شہزاد قیصر گورنمنٹ کالج لاہور میں میاں محمد نواز شریف کے کلاس فیلو رہے ہیں۔ جب نواز شریف وزیراعظم کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے تو شہزاد صاحب کا کہنا تھا ’’اب میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں‘ میاں نواز شریف کا کلاس فیلو تھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم اور اساتذہ کا احترام کرتے تھے۔ زیادہ تر خاموش‘ شرمیلے اور سنجیدہ رہتے مگر ملنسار تھے‘‘۔ شہزاد قیصر نے 1976ء میں سول سروس جائن کی۔ سول سروس اکیڈمی سے ٹریننگ کے بعد کہوٹہ میں ان کی تقرری بطور اسسٹنٹ کمشنر ہوئی۔ وہ 2010ء میں بطور سپیشل سیکرٹری وزیراعظم پاکستان ریٹائر ہوئے۔ ان دنوں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر‘ شجاع آباد اور خانیوال میں اسسٹنٹ کمشنر اور ملتان میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ سرائیکی علاقے میں زیادہ رہنے کی وجہ سے انہوں نے پی ایچ ڈی خواجہ غلام فرید کی مابعدالطبیعات کی۔جب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کا وجود عمل میں آیا تو ڈاکٹر شہزاد قیصر کو اس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ اس ادارے میں ڈاکٹر صاحب تقریباً سوا سال رہے۔ چیف سیکرٹری کامران رسول اور سیکرٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان نے اس ادارے میں انکی تقرری کی۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر کی پنجابی کافیوں کے پانچ مجموعے شائع ہوئے۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’’کافیاں‘‘ شائع ہوئی ہیں۔ اس میں منتخب کافیاں اور آخر میں چند نئی کافیاں بھی شامل ہیں۔ اس کتاب میں ڈاکٹر مہر عبدالحق‘ پروفیسر جیلانی کامران‘ شریف کنجاہی اور راجا رسالو کی آرا چھپی ہیں۔ انہوں نے فلسفہ کی قدیم اور جدید تحریکوں کا بغور مطالعہ کیا۔ مشرقی مابعدالطبیعات انکا پسندیدہ موضوع رہا جس پر انہوں نے بہت لکھا۔ڈاکٹر شہزاد قیصر ابن العربی اور اسکے ہمخیال مفکرین کے پیروکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وحدت الوجود کا اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات مطلق حقیقی ہے۔ انسان اور کائنات اس ذات کا پرتو ہیں۔ شہزاد قیصر نے اپنی کافیوں میں ظلم کیخلاف انسانی شعور کو روحانی اساس پر ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک اور فکر کی قدر کرتے ہیں۔ مگر اس سے کوئی حقیقی امید وابستہ نہیں کرتے کیونکہ انکے نزدیک اسکی کوئی روحانی اساس نہیں ہے۔ پنجابی نظموں پر مشتمل انکی پہلی کتاب ’’وجوگ‘‘ تھی جو بعدازاں مزید نظموں کیساتھ ’’دوجی اکھ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ کافی کی رِیت بہت پرانی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے صوفیوں نے حق‘ سچ‘ حسن اور عشق کی باریکیوں کو کافیوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ شاہ حسین‘ بلھے شاہ‘ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘ سچل سرمست اور خواجہ غلام فرید نے کافی کی رِیت کو کمال تک پہنچایا۔ خواجہ غلام فرید بہت خوبصورتی سے بندے کو عشق کا سبق پڑھاتے ہیں جسکے ذریعے بندہ ہر جاتے ہر جین یار کا درشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق نے لکھا کہ ’’وحدت الوجود شہزاد قیصر کا پسندیدہ موضوع ہے۔ انکی تمام کافیاں اسی عقیدے کے گرد گھومتی ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے خود کافی کا مزاج وحدت الوجود ہے۔ شہزاد قیصر نے کافی کی روایت کو زندہ رکھا۔ شہزاد قیصر کی ہر کافی دودھ اور شہد جیسی ہے۔ شہزاد قیصر کی کافی کے چند شعر ملاحظہ کریں …؎
اندر تیرے رب دا ڈیرہ
بندیا پائیں جھاتی پھیرا
سوہنے رب تیں مکھ نہ موڑ
بندیا! رب نوں اندر لوڑ
جس دی راہ اندر دا پھڑیا
اوڑک منزل تیک اپڑیا
ڈاکٹر شہزاد قیصر  نے اردو میں انشائیے لکھے۔ ان کے انشائیوں کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ کلیئرنس سیل۔ صاف چھپتے بھی نہیں‘ آئینہ بنے ہے پیرہن‘ لطف آگہیمجموعہ ’’لطف آگہی‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اس میں ڈاکٹر معین الرحمن‘ مشکور حسین یاد‘ ڈاکٹر سلیم اختر‘ عطاء الحق قاسمی‘ محمد علی صدیقی‘ یونس جاوید‘ بانو قدسیہ اور طارق فاروق کی آرا شامل ہیں۔ ’’لطف آگہی‘‘ دراصل ان کے پہلے چھپے انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ چند تازہ انشائیے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ ’’لطف آگہی‘‘ کے شروع میں شہزاد قیصر لکھتے ہیں ’’میں نے اپنی پہلی ہی فرصت میں جو تقریباً سولہ برس بعد میسر آئی۔ اپنے انشائیوں کی کتاب ’’لطف آگہی‘‘ کی دوبارہ اشاعت کا ارادہ کیا ہے۔ سنا ہے ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک وقت میں ہزاروں چیزیں ہوتی ہیں۔ قارئین معاف فرمائیں میں نے ایک وقت میں ہونے والی چیزوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی کر دی ہے۔ صنف انشائیہ میری پہلی محبت ہے اور اس کا وہی حال ہوا ہے جو کہ پہلی محبت کا ہوا کرتا ہے‘‘ ڈاکٹر شہزاد قیصر کے والد ڈاکٹر نذیر قیصر معروف دانشور ماہر تعلیم اور اقبال شناس تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ڈاکٹر نذیر قیصر لائبریری قائم ہے۔ وہ بورڈ آف ٹرسٹیز نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ممبر تھے۔