وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

09 دسمبر 2014

سرورِ دو عالم رحمت اللعالمین ؐ جس رستے سے گزر کر جاتے تھے وہاں ایک ضعیف بڑھیاکا مکان تھا ۔وہ نئے مذہب اسلام اور اسکی تبلیغ سے شدید متنفر تھی۔ جب آنحضورؐ اسکے گھر کے سامنے سے گزرتے تو وہ گھرکا کوڑا آپؐ پر پھینکتی۔ ایک روز آپؐ گزرے خلافِ توقع کسی نے کوڑا نہ پھینکا۔ سرکارِ دو عالم ؐ کو فکر لاحق ہوئی آپؐ نے صحابہ کو بھیج کر پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ وہ بوڑھی عورت بیمار ہے۔ آپؐ خصوصی طور پر اس عورت کے گھر چلے گئے اور اسکی خیریت دریافت کی، اس عورت کو آپؐ کا اخلاص دیکھ کر ندامت ہوئی اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ دینِ اسلام کی تاریخ ایسے بے شمار تاریخی واقعات اور اسوئہ حسنہ سے بھری پڑی ہے اور اس تاریخی حقیقت کے شواہد موجود ہیں کہ اگر اسلام بزورِ شمشیر دنیا میںپھیلایا گیا ہوتا تو آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی تعداد یہودیوں کے برابر بھی نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت اور یہودیت کے سینکڑوں سال بعد اسلام کا ظہور ہوا اور آج دین اسلام کرہ ء ارض پر سب سے بڑے مذہب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مسلمان عالمِ دین، سکالرز، دانشوروں، سائنسدانوں اور اولیائے کرام نے اسلامی تعلیمات کو نہ صرف خلق خدا تک پہنچایا بلکہ اسکے ثمرات کو لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں مسلمان سپہ سالار فتوحات کرتے چلے گئے اس خطۂ ارض پر اسلام کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ برصغیر میں سینکڑوں سال مسلمان سلاطین کے اقتدار کے بعد جب فرنگی قوت نے اقتدار سنبھالا تو برصغیر میں اس وقت ہندو، مسلمان اور عیسائی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر کو تقسیم کرنے کی تحریک چلی تو خطے کے تیسرے بڑے مذہب عیسائیت نے ہندوئوں کی بجائے مسلمانوں کیساتھ رہنے کو ترجیح دی اور بعدازاں دونوں ہونیوالے انتخابات میں عیسائی برادری اور قوم نے پاکستان کے حق میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ پھر جنرل ضیاء کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پہلی دفعہ مذہب کو اقتدار کی طوالت کیلئے استعمال کیا گیا اور ایسے قوانین متعارف کرائے جن کی اس ارضِ پاک پر شاید ضرورت ہی نہ تھی ایک ایسا ملک جس میں ٹوٹل آبادی کا 95 فیصد مسلمان ہوں وہاں پر بقیہ 5فیصد دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو یہ ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اکثریت کے مذہبی جذبات سے کھیلے یا اس کو چھیڑنے کی جرأت بھی کر سکے۔
 قارئین!آپ کو یاد ہوگا کہ جنرل ضیاء ہی کے دورِ اقتدار میں مذہبی انتہاء  پسندی اور مدرسے قائم کرنے کا کاروبار عروج تک پہنچا۔ دراصل جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ملکی یک جہتی اور بھائی چارے کو دائو پر لگا دیا اور پھر یہ چشمِ فلک نے دیکھا کہ ملک بھر کے طول و عرض میں مذہبی کانفرنسیں اور اجتماعات کا رواج چل نکلا اور اسی دوران افغانستان میں روسی مداخلت کی وجہ سے چالیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان کے اندر پناہ گزین بن کر پھیل گئے۔ جن کی زیادہ تر تعداد مدرسوں سے فارغ التحصیل تھی ۔ جذبۂ حب الاسلام کے تحت قبول کیے گئے یہ مہاجرین اپنے ساتھ ہیروئن اور کلاشنکوف کی لعنت ساتھ لے کر آئے جس سے ملک کے اندر مسلکی گروہ بندیوں اور مذہبی رجعت پسندی کو فروغ اور تقویت ملی۔ توہین مذہب کا قانون خاص طور پر 295/C کے غلط استعمال کا راستہ کھلا۔ مگر یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مسیحی برادری کے اندر ہی کچھ موقع پرست اور مفاد پرست طبقے نے ان قوانین کو اپنے مالی مفادات سے وابستہ کر لیا اور ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز معرضِ وجود میں آ گئیں اور متعدد بار تفتیش کے بعد ایسے شواہد بھی سامنے آئے کہ توہین مذہب کے کئی واقعات کے پیچھے ان مفاد پرستوں کا ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھی ساکھ رکھنے والی سروے کمپنی نے یہ حیران کن نتائج اخذکئے ہیں کہ فیصل آباد اور لاہور میں موجود بہارکالونی ،یوحنا آباد میں مذہبی اقلیت کے اتنے مکان موجود نہیں جتنا اس علاقے میں این جی اوز کا اندراج سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔ مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں پروان چڑھنے والی مسلکی اور مذہبی انتہاء پسندی اس سے لاتعلق ہے۔
قارئین!گذشتہ روز ماضی کے پاپ سنگر اور موجودہ مقبول نعت خواں اور فیشن ڈیزائنرجنید جمشید نے ایک ویڈیو کلپ میں ازواج مطہراتؓ کے متعلق جو زبان استعمال کی ہے اس سے نہ صرف ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل دکھے ہیں بلکہ سزا اور جزا کے دہرے اور منافقانہ معیار پر بھی کئی سوالات اٹھے ہیں ۔ ہر چند کہ مشہور عالم دین اور روحانی شخصیت مولانا طارق جمیل اور جامع بنوریہ کے مشہور مفتی نعیم صاحب نے جنید جمشید کیلئے نرم گوشہ اختیار کرنے کی درخواست اور تلقین کی ہے ۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ گستاخِ رسول ؐٹیری جونز، تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی کے کیسز میں شک کا فائدہ دینے کی بھی گنجائش نہیں مگر ہمیں ملک بھر کے تمام سرکاری و غیر سرکاری و پرائیویٹ سکولز میں یکساں طو رپر ایک ایسا نصاب نافذ کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک اردو یا انگلش میڈیم طالب علم کو اسوہء حسنہ، عشق رسولؐاور مذہب کے تقدس کی آگاہی حاصل ہو۔ طائف میں کفار نے پیغمبرِ دوعالمؐ کے دانت شہید کر دیئے مگر ہمیشہ کی طرح رسول پاک ؐنے اس شہر کے باسیوں کیلئے رب کریم ؐ سے رحمتوں کا تقاضا کیا۔
قارئین! معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور اس کے رسولؐ کی پہچان بھی مگر ہمیں اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی اور دوہرے اور منافقانہ معیارِ انصاف کو بدلنا ہوگا۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ’’ظلم والا معاشرہ تو بچ سکتا ہے مگر ناانصاف معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔‘‘