فلم انڈسٹری ....وقت کیساتھ چلنے سے بحران کا شکار ہوئی : علی ظفر

09 دسمبر 2014

سیف اللہ سپرا
تصاویر:عابد حسین
معروف آرٹسٹ علی ظفر کا شمار ملک کے چند ان فنکاروں میں ہوتا ہے۔ جو نہ صرف پرفارمنگ آرٹ کے تین اہم شعبوں ماڈلنگ، اداکاری و گلوکاری میں پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وژول آرٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرتے رہتے ہیں وہ خوبصورت اور پرکشش شخصیت کے مالک ہیں گزشتہ سال ا نہیں ایشیاءکی خوبصورت اور پرکشش ترین شخصیات کے اعزاز سے نوازا گیا۔ وہ گلوکاری کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری اور میوزک کمپوز کرنے میں بھی خاص مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بطور گلوکار اپنے کیئریر کا آغاز پاکستانی فلم ”شرارت“ کے اس گانے” جگنوﺅں سے بھرلے آنچل“ سے کیا اس فلم کو معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے ڈائریکٹ اور پروڈیوس کیا، علی ظفر کو بطور گلوکار شہرت ان کے پہلے البم ”حقہ پانی“ کی ریلیز سے ملی اس البم کی50 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس البم کا گانا ”چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے“ بہت ہی مشہور ہوا، علی ظفر نے بطور اداکار اپنے کیئریر کا آغاز بھارت کی فلم ”تیرے بن لادن“ سے کیا۔ ان کی پہلی فلم ہی کامیاب ہوئی اور انہیں فلم فیئربیسٹ میل ڈبیو ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد یش راج کی فلم ”لوکادی اینڈ“ میں انہوں نے گیسٹ رول کیا! اس کے بعد انہوں نے بھارت کی ہی ایک رومانٹک کامیڈی فلم ”میرے برادر کی دلہن“ میں کام کیا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری بہت پسند کی گئی اس فلم میں انہیں اچھی اداکاری کرنے پر سٹار ڈسٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے بعد علی ظفر نے فلم ”لندن پیرس نیویارک“ میں کام کیا جو سپرہٹ ہوئی۔ اس کے بعد ان کی ”فلمیں چشم بددور اور ٹوٹل سیاپا“ ریلیز ہوئیںاور اب حال ہی میں ان کی بھارتی فلم ”کل دل“ ریلیز ہوئی ہے جس نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ علی ظفر نے بہترین پرفارمنس پر تین لکس سٹائل ایوارڈز، تین انڈس میوزک ایوارڈ، تین ایم ٹی وی سٹائل ایوارڈز اور ایک سٹار ڈسٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ 2012ءمیں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازہ گیا اور سال 2013ءمیں انہیں ایک برطانوی ہفت روزہ ایسٹرن آئی کی طرف سے ایشیا کا خوبصورت اور پرکشش ترین مرد قرار دیا گیا علی ظفر کی کامیابیوں کا سفر ابھی جاری ہے۔ اس وقت بھارت میں ان کی دوفلمیں زیر تکمیل ہیں اس کے علاوہ وہ پاکستان میں بھی ایک فلم پروڈیوس کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے چوتھے البم پر بھی کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اس باصلاحیت خوبصورت اور مصروف ترین فن کار سے گزشتہ دنوں سے ایک ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے اپنی مصروفیات کے علاوہ پاکستان کی فلم انڈسٹری اور میوزک انڈسٹری کے حوالے سے گفتگو کی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔
علی ظفر نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بطور اداکار میں نے اپنے کیئریر کا آغاز 2008ءمیں بھارتی فلم ”تیرے بن لادن“ سے کیا۔ اس فلم میں میری اداکاری پسند کی گئی اور مجھے مزید بھارتی فلموں میں کام کا موقع ملا جن میں ”لوکادی اینڈ“ میرے برادر کی دلہن’ لندن پیرس نیویارک، چشم بدور، ٹوٹل سیاپا اور کل دل شامل ہیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ”کل دل“ کی پروموشن کے لئے امیتابھ بچن کے پروگرام کون بنے گا کروڑ پتی، بگ باس سمیت متعدد شوز میں گیاجن میں مجھے عزت دی گئی اور میرے کام کی تعریف کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سے مجھے کسی اچھی فلم کی آفر نہیں آئی اگر آئی تو اس میں ضرور کام کروں گا اب پاکستان میں بھی اچھی فلمیں بننا شروع ہوگئی ہیں۔ نامعلوم افراد، وار اور آپریشن 021 اچھی فلمیں تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کی فلم انڈسٹری وقت کے ساتھ ساتھ موضوعات اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں لائی تو اس کا یہ حشر نہ ہوتا۔ میں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کیا ہے وہاں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بھارتی فلم انڈسٹری وقت کے ساتھ ساتھ فلموں کے موضوعات اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں کرتی گئی اور اس نے دنیا بھر میں کامیابی حاصل کی ہے۔ فلمیں ایسی بنانی چاہئیں جو پاکستان کے علاوہ بھارت اور دیگر ممالک میں بھی ریلیز ہوسکیں اور بزنس کریں، میں نے بھی پروڈکشن ہاﺅس بنایا ہے جس کے بینر تلے فلمیں بناﺅں گا۔ آج کل سکرپٹ کے لئے مختلف رائٹرز سے ملاقاتیں کر رہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلم میں سکرپٹ سب سے اہم ہوتا ہے اگر سکرپٹ مضبوط ہوگا تو اس پر بننے والی فلم بھی کامیاب ہوگی۔ ایک کہانی پر خود بھی کام کر رہا ہوں۔
بھارت میں کام کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میں نے بھارت میں کام شروع کیا تو بہت سی باتیں سننے کو ملیں میں نے ان باتوں کی پروا کئے بغیر بھارت میں کام شروع کیا۔ تیرے بن لادن سے لے کر کل دل، تک تمام فلمیں کامیاب ہوئیں۔ میں بھی ایسی فلمیں بناناچاہتا ہوں جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور دیگر ممالک میں بھی ریلیز ہو سکیں۔ میں نے بھارت میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس دوران وہاں کی اہم شخصیات کے ساتھ تعلقات بن گئے ہیں جن کی بدولت میں نہ صرف بھارت میں فلمیں ریلیز کرسکتا ہوں بلکہ ان شخصیات کی وساطت سے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اپنی فلمیں ریلیز کر سکتا ہوں۔ میرے وہاں کام کرنے سے دوسرے فنکاروں کے لئے بھی دروازے کھل گئے ہیں وہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے علاوہ اور کون آرٹسٹ پاکستان میں اچھا کام کر رہے ہیں میں نے کئی فنکاروں کی سفارش کی ہے اور وہ فن کار اب وہاں کام کر رہے ہیں اور کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں اب وہاں پاکستان کے ٹی وی ذرائع بھی دکھائے جا رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ بھارت میںایسا کام کروں جس سے میری اور میرے ملک کی عزت میں اضافہ ہو۔ میں وہاں پر 6 سال سے کام کر رہا ہوں اور مجھے وہاں کوئی مشکل پیش نہیں آئی صرف پونا میں ایک کنسرٹ کینسل ہوا تھا۔ اس سوال کے آپ کو بھارت کی کس ہیروئن کے ساتھ کام کر کے اچھا لگا کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے بھارت کی سبھی ہیروئنوں کے ساتھ کام کر کے اچھا لگا مگر کترینہ کیف کے ساتھ کام کر کے بہت مزا آیا ہے وہ واقعی مکمل آرٹسٹ ہیں۔
بھارت کے ویزے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ویزا پالیسی نرم ہونی چاہیے کیا ہی اچھا ہو کہ دونوں ملکوں کے لوگ آزادانہ آ جا سکیں۔ میں تو واہگہ بارڈ سے پیدل بھارت جاتا ہوں اور اسی طرح پیدل ہی واپس آجاتا ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں چاہے بھارت میں کام کروں مگر میں سوچتا ہوں کہ پاکستان میں میرا کام پسند کیا جا رہا ہے یا نہیں جب یہاں آکر اپنی کامیابی کا پتہ چلتا ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ اپنے نئے فلمی پروجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت میں دونئی فلمیں بن رہی ہیں ایک فلم خود پاکستان میں شروع کر رہا ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گلوکاری ترک نہیں کی گلوکاری تو میرا پہلا عشق ہے وہ کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ میرے تین البم نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے اب چوتھے البم پر کام کر رہا ہوں۔ کنسرٹس بھی چل رہے ہے ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں دو کنسرٹ کر کے آیا ہوں۔
اپنے سوشل ورک کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پچاس بچیوں کی تعلیم کی ذمہ داری لے رکھی ہیں۔ 30 مزید لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری لے رہا ہوں۔ آئندہ سال مزید 100 لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری لوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فلم آپریشن 021میں کام کی آفر ہوئی تھی مگر مصروفیت کی وجہ سے نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ شان جیسی اداکاری نہیں کرسکتا وہ میرے سینئر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی فلموں میں بولڈ سین کرنے کی آفرز ہوئیں مگر میں نے انکار کردیا۔ ایسے کام نہیں کرنا چاہتا جس سے میرے ملک کی عزت پہ حرف آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لالی وڈ کی بجائے پاکستان فلم انڈسٹری کہنا چاہئے لالی وڈ کہنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہم نے ہالی وڈ اور بالی وڈ کی نقل کرتے ہوئے لالی وڈ نام رکھا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاںکہ اب پاکستان میں اچھی معیاری فلمیں بننا شروع ہوگئی ہیں میں نے سنا ہے کہ 76 نئی فلمیں بن رہی ہیں اب نئے سینما گھروں کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فرصت کے لمحات بہت کم ملتے ہیں مگر جب ملتے ہیں تو مصوری کرتا ہوں