آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ ہو گیا

09 دسمبر 2014

دل تو بہت جلتا ہے مگر کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ایماندار اور نیک لوگوں کیلئے جہنم‘ لیکن بے ایمان‘ جھوٹے‘ کرپٹ لوگوں کیلئے جنت سے کم نہیں۔ خودکشی کیلئے ایک آئیڈیل ملک ہے اور دل جلانے کیلئے پاکستان میں بڑی رومانوی فضا پائی جاتی ہے۔ پولیو‘ شوگر‘ بلڈ پریشر‘ کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریوں نے سب سے زیادہ پاکستان میں ترقی کی ہے۔ غربت‘ جہالت‘ کام چوری‘ استحصال اور ناانصافی میں پاکستانی قوم کا گراف کافی بلند جا رہا ہے۔ جمہوریت کا سہارا لیکر آمریت اور ملوکیت رائج کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں تھانوں‘ جیلوں اور مینٹل ہسپتال میں آسامیوں کا سنڈے بازار لگا دیا ہے کیونکہ میرٹ کے نام پر ’’میرٹ‘‘ کی جس طرح تکا بوٹی کی جا رہی ہے… اُسکے بعد قوم اعصابی اور نفسیاتی امراض میں دن رات مبتلا ہو رہی ہے۔ عدم برداشت‘ اضطراب‘ انتشار اور اشتعال نے پاکستانی قوم کو اپنے شکنجے میں جکڑنا شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف سیاستدانوں کے دھرنے سے جلسے‘ احتجاج‘ ہڑتالیں اور مظاہرے جاری ہیں تو دوسری طرف جب سے حکومت برسراقتدار آئی ہے یا تو غیرملکی سیرسپاٹوں میں مشغول ہے یا پھر مخالف جماعتوں کو دبانے اور ان کے خلاف مسلسل پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔ ابھی تک عوامی بہبود کے حوالے سے کوئی کام سامنے نہیں آیا۔ موجوہ اپوزیشن تو ویسے ہی پولیو زدہ اور حکومت کی گرل فرینڈ ہے۔ اپوزیشن کی کارکردگی اگر افسوسناک ہے تو حکومت کی کارکردگی شرمناک ہے۔ اس کا اندازہ آپ کو صرف تعلیم کے شعبے میں ہو سکتا ہے۔ ویسے تو ہر بقیۂ حیات ہی نوحہ کناں ہے مگر آج مختصراً شعبۂ تعلیم کا ناقص‘ غیر معیاری اور ناکام ڈھانچہ پوری قوم کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں مصروف عمل ہے۔ محکمہ ٔ تعلیم میں وزراء اور مشیروں سے لیکر عام اساتذہ تک جو جعلسازیاں اور بے ایمانیاں کی جاتی ہیں‘ اسکی وجہ سے آج پوری پاکستانی قوم زوال‘ انحطاط اور انتشار کا شکار ہے۔ اس سے زیادہ شرم کی کیا بات ہوگی کہ پاکستان جس قدر زیادہ قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا‘ اسی قدر پاکستان کی ناقدری کی گئی اور اسے لوٹا کھسوٹا گیا۔ قائداعظم جیسی عظیم المرتبت‘ شاندار اور وفادار ہستیاں صدیوں میں جنم لیتی ہیں مگر آج کچھ غدار ذہن کے مالک افراد پاکستان کو گروی رکھنے پر تلے ہوئے ہیں اور کچھ ناعاقبت اندیشان‘ بدگو‘ احسان فراموش قائداعظم کیلئے نازیبا کلمات استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی جس تھالی میں کھانا‘ اُسی میں چھید کرنا… ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر سوراخ بڑا ہو جائے تو وہ خود اُس میں سے نیچے گر سکتے ہیں۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی‘ لیکن آج پاکستان میں ’’اردو‘‘ کو دیس نکالا دیا جا رہا ہے۔ سکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں سے اس زبان کو ختم کیا جا رہا ہے۔ دنیا کی 98 یونیورسٹیوں میں ماسٹرز‘ ایم فل‘ پی ایچ ڈی‘ ڈی او اردو زبان میں کرایا جا رہا ہے جن میں سرفہرست امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ چین‘ جاپان جیسی سپر پاور طاقتیں ہیں مگر آج پاکستان میں اردو کو کالج کی سطح پر بھی قتل کیا جا رہا ہے کیونکہ ’’اردو‘‘ اب درسگاہوں میں برائے نام رہ گئی ہے۔ جب زبانوں کی بات آتی ہے تو پنجابی‘ سندھی‘ سرائیکی‘ چینی‘ روسی‘ جاپانی‘ فرنچ اور انگریزی زبانوں کو ہمیشہ اوپر رکھا جاتا ہے۔ فارسی‘ عربی‘ ہندی کو بھی مقدم سمجھا جاتا ہے مگر ’’اردو‘‘ کو سب سے نیچے اور تحقیر آمیز انداز میں دیا جاتا ہے۔‘‘ پورے پاکستان میں ٹوٹی پھوٹی اور غلط تلفظ میں انگریزی کا بول بالا ہے اور کمپلیکس کے مارے انگریزی بولنے کو طرۂ امتیاز سمجھتے ہیں جبکہ اردو کو متروک اور لایعنی گردانتے ہیں۔ جب ہمارے تعلیمی اداروں میں اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل نہیں‘ ہمارے قومی لیڈر جس طرح دیسی سٹائل میں انگریزی بول کر خود کو ڈرائیڈن‘ شیکسپیئر دانتے اور شیلے سمجھتے ہیں اور اردو بولنا ان کی شان کے خلاف ہے تو پھر انہیں اردو کو سرعام طلاق دینی چاہئے۔ اردو کو ’’لونڈی‘‘ بنانے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ تمام کالجوں‘ یونیورسٹیوں میں ’’اردو‘‘ کو پلاننگ کے تحت غائب کیا جا رہا ہے۔ نہ اردو میں اعلیٰ تعلیم کا تصور زندہ رہنے دیا گیا ہے اور نہ اردو کی کوئی آسامی ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے 55 مرتبہ اشتہارات شائع ہوئے مگر 55 اشتہارات میں سے صرف دو میں اردو کی آسامیاں تھیں۔ حیرت ہے کہ ہسٹری‘ فلاسفی‘ اسلامیات‘ مطالعہ پاکستان‘ ایجوکیشن جیسے مضامین کی جابجا آسامیاں تھیں۔ عربی‘ فارسی‘ چائنیز‘ جاپانی‘ روسی‘ جرمن‘ اطالوی اور انگریزی کی ہر بار آسامیاں بھی تھیں اور داخلے بھی تھے۔ کیا پاکستانی حکومت نے ’’اردو‘‘ کو پس پشت ڈالتے ڈالتے اب دفنانے کا بھی انتظام کر لیا ہے۔ پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت کیلئے پنجاب انسٹیٹیوٹ بنا دیا گیا مگر اردو کیلئے قدافی سٹیڈیم میں کوئی انسٹیٹیوٹ قائم نہیں کیا گیا۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پنجابی زبان کی ترقی کیلئے کروڑوں روپے سے قائم اس ادارے کا نام انگریزی میں رکھ دیا گیا اور کبھی کسی ڈائریکٹر یا ادارے میں کام کرنے والوں نے مذکورہ ادارے کا نام پنجابی میں رکھنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔ ادارے کا نام انگریزی میں اور پنجابی زبان کی ترقی و بہبود کے نام پر بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ یہ ہے جہالت‘ لاعلمی‘ نقالی اور کند ذہنی… پھر بڑے بڑے اداروں پر سفارشی لوگ تعینات کر دیئے جاتے ہیں جن کے اپنے پاس علم نہیں ہوتا‘ وہ کیا علم پھیلائیں گے۔ یہ صورتحال ملک کے طول و عرض میں ہے کیونکہ تقرریاں میرٹ پر نہیں بلکہ سیاسی‘ سفارشی‘ اقربا پروری‘ رشوت اور سازشی طریقوں پر عمل میں آتی ہیں۔ ایسے بے شمار علمی‘ ادبی‘ تعلیمی ادارے ہیں جہاں جن لوگوں کو نہیں ہونا چاہئے مگر وہاں وہی بیٹھے ہوتے ہیں۔ (جاری)