وفاقی دارالحکومت میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات

09 دسمبر 2014

وفاقی دارالحکومت میں سرکاری و نجی عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات نے اس شہر کی انتظامی مشینری کیلئے کئی سوالیہ نشان چھوڑ دئے ہیں پارلیمنٹ ہائوس ، شہید ملت سیکرٹریٹ ایک ایک بار لقمہ آگ بن چکے ہیں پارلیمنٹ لاجز میں آتشزدگی بھی تفتیش طلب مسئلہ بن گئی ہے تھانہ سیکرٹریٹ پارلیمنٹ ہائوس اور پارلیمنٹ لاجز میں آتشزدگی کے مقدمات درج کر چکا ہے تھانہ کوہسار شہید ملت سیکرٹریٹ اور بلیو ایریا کے ایک نجی پلازے میں آتشزدگی کے مقدمات دج ہیں اسلام آباد بھر میں بنائے گئے پلازوں میں آئے روز بجلی کے شارٹ سرکٹ اور گیس لیکیج سے حادثات بھی بڑہتے جا رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ملک کے دارالخلافہ میں آتشزدگی کی صورت میں موثر طور پر آگ بجھانے کا کوئی نظام کیوں تشکیل نہیں پاسکا 9 نومبر1993 ء کو پارلیمنٹ ہائوس میں ہولنا آگ لگی تھی جس سے سب کچھ بھسم ہوگیا تھا لیکن س وقت بھی اسلام آباد میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہ تھا فائربریگیڈ کی آگ بجھانے کی صلاحیت صرف گھاس پھوس میں لگی آگ بجھانے تک محدود تھی لیکن پارلیمنٹ ہائوس میں آتشزدگی کے اس واقعہ کے بعد اس وقت کے چئرمین سی ڈی اے سعید مہدی نے جاپان سے فائربریگیڈ کا جدید نظام منگوایا تھا جس کی نمائش اور عملی مظاہرہ فائربریگیڈ ہیڈکوارٹرز میں کیا گیا تھا لیکن شومئی قسمت اس جدید فائر بریگیڈ کو جلد ہی ناکارہ بناد دیا گیا 2000 ء میں جب چائنا چوک بلیو ایریا میں واقع شہید ملت سیکرٹریٹ کے آخری فلور پر آگ لگی تو اس وقت یہ عذر پیش کیا گیا کہ سی ڈی اے کے پاس موجود فائربریگیڈ کے آگ بجھانے کی صلاحیت سات فلور تک ہے جبکہ شہید ملت سیکرٹریٹ کی آگ سولہویں فلور پر ہے اسے نیچے آنے دیا جائے پھر اسے کنٹرول کر لیں گے لیکن جب ساتویں فلور تک آگ پہنچی تو اس کی شدت اور حدت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ آن واحد میں پورے شہید ملت سیکرٹریٹ کو ہی اپنی لپیٹ میں لے گئی اور سی ڈی اے کا فائر فائٹنگ سسٹم اسے روکنے کیلئے تدبیریں ہی بناتا رہا بلیو ایریا میں ایک نجی پلازہ کے آخری فلوروں میں لگنے والی آگ بجھانے میں بھی فائربریگیڈ کو خوب مشکلات رہیں جبکہ بلیو ایریا میں بیورلے سینٹر میں لگنے والی آگ بجھانے بھی رو رو کر بجھائی گئی تھی پارلیمنٹ لاجز میں گزشتہ شب لگنے والی معمولی آگ جو بیسمنٹ میں تھی اسے بجھانے میں بھی وہ وہ مشکلات پیش آئیں جو پیشہ ورانہ صلاحیتیوں کے حامل افراد کی صلاحیت کیلئے سوالیہ نشان ہے جبکہ میریٹ ہوٹل پر خود کش حملے کے بعد جو آگ لگی تھی اسے بھی فائربریگیڈ نہ بجھا سکا جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بھی جل گئی تھیں اسلام آباد جو اب بہت پھیل چکا ہے لیکن فائربریگیڈ کا نظام اس لیول کا نہیں کہ وہ نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھنے اور خاص طور پر قیمتی جانوں کو بچانے میں ممدومعاون ہوسکے فائر فائٹرز کی ٹریننگ بھی ایک بڑا سوال ہے گرمیوں میں مارگلہ کے پہاڑوں پر بھی آگ لگنا معمول ہے جو پھیلتی ہی رہتی ہے لیکن جنگل کی اس آگ بجھانے میں کبھی کمال فن فائربریگیڈ نے نہیں دکھایاسرکاری اور نجی عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات کے پیچھے کئی کہانیاں بھی بنائی اور سنائی جاتی ہیں آتشزدگی کی جگہ کے ٹریفک پولیس راستے بند کرنے اور تھانے کی پولیس لوگوں کو جائے حادثہ کی جانب اس کے قریب جانے سے روکنے میں لگی رہتی ہے لیکن آتشزدگی کے کیسوں کی تفتیش کی بھی پولیس کی نہ کوئی ٹریننگ ہے نہ ہی وہ اس کے اسباب جان کر ذمے داران کا تعین کرسکتی ہے ہر آتشزدگی کے پیچھے ایک ہی وجہ بیان کر دی جاتی ہے کہ واقعہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ تھا اور اس طرح آتشزدگی کا ہر واقعہ ہی محض حادثہ قرار دے کر اسے داخل دفتر کردیا جاتا ہے داخل دفتر کا پولیس زبان میں مطلب ہے اس معاملے کا کیس نہیں بنتا اتفاقیہ واقعہ تھا لیکن آتشزدگی کے ان واقعات میں ہونے والا کروڑوں اربوں روپے کے نقصان کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتاپنجاب میں ریسکیو1122 کے بعد آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کی صلاحیت بہت بہتر ہوئی ہے لیکن آگ کی کئی کیٹگریز ہونے کی وجہ سے فائر فائٹنگ کی صلاحیت ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔