بیشتر تھانے 80 سال پرانے ہو گئے

09 دسمبر 2014
بیشتر تھانے 80 سال پرانے ہو گئے

جاندار کی زندگی پر اس کے مسکن کا بڑا گہرا اثر ہوتا  ہے اور جاندار اپنے آپ کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیتے ہیں  ہم اپنے بچوں کو جو ماحول اور تربیت دیتے ہیں ان کی نشو و نما میں یہ چیزیں سرایت کر جاتی ہیں جو ساری زندگی ان کے ساتھ چلتی ہیں۔ ہم اپنی پولیس کو جو ماحول فراہم کر ہے ہیں اور پھر اس سے جدیدیت،مثبت رویہ Ethics خوش اخلاقی  اور خوش گفتار کی توقع رکھیں تو یہ صورت دیوانے کا  خواب  ہی کہا جا سکتا ہے۔ اکثر تھانوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ وہاں رہنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ پنجاب پولیس  کے پاس اپنے تھانوں کی عمارات ہی بہت کم ہیں اکثر عمارتیں کرائے پر لی گئی ہیں  پنجاب بھر میں اکثر تھانوں کی حالت ز ار دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ  ہم پولیس کو الزام تو بہت  دیتے ہیں مگر  ہم نے پولیس کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی سیاستدان ہمیشہ پولیس کو استعمال کرتے رہے ہیں وہ پولیس افسران سے اپنی مرضی کے نتائج تو حاصل کرتے رہے ہیں مگر پولیس ملازمین خاص طور پر چھوٹے پولیس اہلکاروں کی زندگی بدتر ہوتی گئی۔ تھانوں میں صفائی کا انتظام نہ ہونے کے برابر  ہوتا ہے۔ اکثر تھانوں میں صفائی کرنے والا عملہ ہی نہیں اکثر ملزمان سے ہی تھانوں کی صفائی کرائی جاتی ہے۔ کئی تھانے 80 سال سے بھی زیادہ پرانے  ہیں جو اب خستہ حال ہو چکے ہیں اور تو اور صوبائی دارالحکومت لاہور کے کئی تھانے اس قدر خستہ حال  ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی تھانوں کی چھتوں سے ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے جس سے تھانوں میں جل تھل ہو جاتا ہے۔ اکثر ریکارڈ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ مچھروں کی بہتات کوڑا کرکٹ، ٹوٹے پھوٹے فرش خستہ حال اور دراڑ شدہ دیواریں۔ بوسیدہ باتھ رومز، غرض تھانوں کی حالت  اس قدر خراب ہے کہ وہاں  کام کرنا کسی انسان کے لئے آسان کام نہیں  پولیس تھانوں کی حالت زار تو ایک طرف اکثر پولیس افسران کے پاس   بھی اپنے دفاتر نہیں اور وہ بھی اکثر تھانوں پر قبضہ   کر کے بیٹھے ہیں سی سی پی او لاہور کا  بھی اپنا دفتر نہیں ہے، تھانہ سول لائن کی عمارت میں سی سی پی او کا آفس بنا ہوا ہے۔ جبکہ تھانہ سول لائن تھانہ ریس کورس کی عمارت  میں منتقل ہوا ہے۔ جہاں پر ملازمین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ ایس پی صدر کی اپنی بلڈنگ نہیں اور وہ تھانہ گرین ٹائون میں اپنا دفتر بنا کر بٹھے ہوئے ہیں  اسی طرح تھانہ قلعہ گجر سنگھ انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر بن گیا۔
پورے پنجاب بلکہ پاکستان کا یہی حال ہے کہ تھانے جہاں  پولیس ملازمین کو رکھا جاتا ہے وہ جانوروں کے رہنے کے لئے بھی بدتر ہیں۔ایک لاہور کے ایس پی مطابق ہمارے ہاں جانوروں کو تو اچھا ماحول فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ بہتر فوائد دے سکیں۔  گاڑی کی بھی حفاظت صفائی ستھرائی کی جاتی ہے کہ وہ لمبا سفرطے کرے اور دیر تک چلتی رہے بچے بھی کیئرمانگتے  ہیں مگر صد افسوس ہے کہ قانون کا اہم ستون پولیس جن دفاتر اور تھانوں میں کام کرتی ہے وہاں غریب سے غریب انسان بھی کام نہ کرے۔ مگر ہمارے پولیس  اہلکار  کام کر رہے ہیں ایس پی کے مطابق انسانی حقوق والے جانوروں کے حقوق کیلئے تو آواز بلند کرتے ہیں مگر پولیس والوں کے لئے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ ہیومن رائٹس کمیشن بھی پولیس تھانوں کی حالت زار کے بارے میں آواز  نہیں اٹھاتا۔  پولیس افسران و اہلکار جان  دے کر ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔  ان کے حقوق کے لئے سب خاموش ہو جاتے ہیں پولیس کے خلاف سب احتجاج کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔  بارش سے تھانوں میں6 سے 8 فٹ پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح وحدت روڈ، گڑھی شاہو  اولڈ انار کلی ، مزنگ، لٹن روڈ،گارڈن ٹاون سمیت  اس  طرح کے دوسرے کئی تھانوں کی عمارات خستہ حال ہیں بارش کے پانی سے چھتیں ٹپکتی ہیں۔ کئی کئی فٹ پانی کھڑا بھی رہتا ہے۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ پولیس  ملازمین کو پروفیشنل ماحول دے رہائش کا انتظام کیا جائے۔ بہتر ماحول سے ہی پولیس بہتر نتائج دے سکتی ہے۔  کم ہی تھانوں میں رہائش کا انتظام ہوتا ہے۔ ایک بیرک میں درجنوں پولیس اہلکار ہوتے ہیں جب ایک پولیس اہلکار ڈیوٹی سے واپس آتا ہے  یا ڈیوٹی پر جاتا ہے تو سب کی نیند خراب ہوتی ہے۔  اس طرح پولیس  اہلکاروں میں نفسیاتی مسائل جنم لیتے  ہیں  ان میں چڑ چڑا پن آ جاتا ہے۔ تھانہ انچارج ایس ایچ کی بھی رہائش کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ تھانوں میں کھانے کا انتظام  نہیں ہوتا اور پولیس اہلکار ہوٹلوں سے ناقص کھانا کھانے  پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اکثر تھانے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ وہ کسی بھی وقت گر سکتے ہیں  اور قیمتی جانوں کا ضیاع  کا سبب بن سکتے ہیں۔ تھانوں میں موجود حوالات کی حالت بھی قابل ترس ہوتی ہے واش رومز کی حالت انتہائی خراب ہوتی ہے پولیس ملازمین کہتے ہیں کہ تھانوں میں پولیس  اہلکاروں کے واش رومز  اتنے خراب ہیں وہاں پر حوالات میںواش رومز یا ملزموں کے رہنے کی جگہ کیسے بہتر  ہو سکتی ہے۔ تھانوں  میں صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔پولیس ملازمین حفظان صحت کے اصولوں کے منافی پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پانی کی خرابی کی وجہ سے اکثر ملازمین مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایس ایچ او کا دفتر، تفتیشی افسران کے دفاتر بھی کھنڈر کا نمونہ پیش کرتے ہیں جن میں داخل ہونے پر ہی خوف آ جاتا ہے۔ تھانوں میں کرسیاں اور دوسرا فرنیچر محکمہ کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ اکثر سویپر  افسران کے گھروں کی صفائی پر مامور ہیں۔ ان مسائل کے باوجود بھی اگر ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس کو ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کے مقابل لانا ہے تو یہ دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔