خاتون سے زیادتی کے واقعہ کی حقیقت؟

09 دسمبر 2014

محمد اکرم چوہدری
ہمارے معاشرے میں روز بروز جرائم میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے جرم چھوٹا ہو یا بڑا اسکے اثرات معاشرے پر ضرور مرتب ہوتے ہیںدیگر جرائم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی آبروریزی اور اُن سے زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنسی جرائم کے ان واقعات میں 90فیصد واقعات ایسے ہیں جس میں رضا مندی کا عنصر نمایاں طور پر نظر آتا ہے رضامندی سے رونما ہوے والے زیادتی کے واقعات کو زبردستی کا رنگ دے کر اسکی نوعیت کو سنگین بنانا اب معمول بن چکا ہے حالانکہ جب ایسے وقعات کی تفتیش کے دوران حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے تو معاملہ بلیک ملینگ کے ذریعہ صلح کی صورت میں ختم ہو جاتا ہے میڈیا پر عورتوں سے زیادتی کے واقعات کو جس قدر کوریج ملنا شروع ہو گئی ہے اس سے ان واقعات میں متاثر ہ خواتین اور ان سے منسلک بلیک میل کرنے والے منظم گروہوں کو شریف شہریوں کی عزتیں پامال کرنے کا پورا موقع مل جاتا ہے کیونکہ حقیقت پر مبنی واقعات کو اس لئے منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا کیونکہ ایسے واقعات میں فریقین اپنی عزت کو معاشرے میں مذید نیلام ہونے سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم جھوٹے واقعات میں پیشہ ور خواتین جنہیں اپنی یا اپنے خاندان کی عزت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کے ان واقعات کو ازخود میڈیا پر لے آتی ہیں یا پھر ان کے پیچھے در پردہ بلیک میلنگ کرنے والے عناصر اس کو اس قدر ہوا دیتے ہیں کہ بے گناہ اور شریف شہری اپنا دامن بچانے کے لیے ان کی تمام شرائط کو ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیںتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بوریوالا میں بھی گزشتہ روز ایک مریضہ کے ساتھ ہسپتال کے تین ملازمین کی مبینہ اجتماعی زیادتی کا ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا جو ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے بھی ہائی لائٹ کر دیا اس واقعہ کی کہانی متاثرہ مریضہ کے خاوند نواحی آبادی صدام ٹائون کے رکشہ ڈرائیور عبدالرحمن نے کچھ یوں بیان کی کہ وہ 11نومبر کی صبح 10بجے کے قریب اپنی بیوی شازیہ تبسم جس نے12روز قبل اُسکے ایک بیٹے کو جنم دیا اُس نومولود کو حفاظتی انجکشن لگوانے کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بورے والا میں لے گیا جہاں وہ رش کی وجہ سے اپنی بیوی اور بچے کو ہسپتال کی لیبارٹری کے باہر ایک بینچ پر بٹھا کر خود پرچی لینے چلا گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ پرچی لے کر واپس پہنچا تو بینچ پر صرف اُسکا نومولود بیٹا پڑا تھا اور اُسکی بیوی وہاں سے غائب تھی جس پر اُس نے اپنی بیوی کی ہسپتال میں تلاش شروع کر دی جب وہ نہ ملی تو اسکی اطلاع پولیس کو کردی اور خود ہسپتال کے اردگرد اُسکی تلاش کرتے کرتے شام کے4بج گئے جب آئوٹ ڈور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملہ چھٹی کرکے چا چکا تھا اور وہ اپنے بھائی کے ہمراہ آپریشن تھیٹر کے نیچے ڈائیلاسسزسنٹر سے ملحقہ آئوٹ ڈور ڈاکٹر کے کمرہ کے باہر پہنچا تو اندر دیکھا جہاں سٹریچر پر اُسکی بیوی بیہوشی کے عالم میں پڑی تھی جسے وہ اُٹھا کر ہسپتال انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دیئے بغیر اپنے گھر لے گیا اور شام 4بجے سے اگلے روز شام6بجے شام تک اُسے ناہی کسی ڈاکٹر کے پاس لے کر گیااور نہ ہی کوئی طبی امداد دلوائی اس دوران رات کے وقت چند منٹ کے لیے معمولی ہوش آنے پر اُسکی بیوی نے اُسے بتایا کہ ہسپتال کے ملازمین محسن،مقبول اور رمضان نے اُسے نشہ آور انجکشن لگا کر اُسکے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ہے رکشہ ڈرائیور عبدالرحمن نے پولیس کو اطلاع دینے سے قبل میڈیا کے چند لوگوں کو گھر بلاکر انہیں یہ کہانی سنادی جب میڈیا کے نمائندوں نے پولیس کو اس واقعہ کے متعلق پوچھا تو پولیس لاعلم تھی اور پھر پولیس نے واقعہ کی سنگینی کو کو دیکھتے ہوئے رکشہ ڈرائیور سے خود رابطہ کیا جسکے بعد اس واقعہ کا مقدمہ اُسکی مدعیت میں تینوں ملازمین کے خلاف درج کرکے بعدازاں ہسپتال سے اُسکی بیوی کا میڈیکل بھی کروایا میڈیکل رپورٹ میں زیادتی تو سامنے آگئی لیکن یہ تعین نہیں ہو سکا کہ زیادتی کس شخص نے کی ہے جس کے لیے پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے انہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور روانہ کر دیا اس سے قبل رکشہ ڈرائیور نے دوسرے روز پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے موبائل فون پر اُسے دھمکیاں دی ہیں کہ اگر اُس نے صلح نہ کی اور مقدمہ کی پیروی سے باز نہ آیا تو وہ اُسے جان سے مار دینگے پولیس نے ڈی پی او وہاڑی کے حکم پر تینوں ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دھمکیوں سمیت تین دفعات کے تحت ایک دوسرا مقدمہ بھی درج کر لیاکیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس واقعہ کا نوٹس لیا جا چکا تھااور پولیس نے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے اور وزیر اعلیٰ کے خوف سے مقدمہ میں دہشت گردی ایکٹ بھی شامل کر دیا جو کسی طور پر بھی سمجھ سے بالاتر تھا تاہم پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ملزمان کے نمونے فرانزک لیبارٹری بجھوانے کے بعد وقوعہ کی اپنے طور پر چھان بین شروع کر دی اُدھر ملزمان کو دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تو خصوصی عدالت کے جج نے بھی ٹیلی فون کالز پر دھمکیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقدمہ سے حذف کر دیا متاثرہ خاتون شازیہ تبسم کو دو روز تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں طبی امداد کے دوران ہوش نہ آنے پر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیایہ تو تھا سارا واقعہ جس میں متعدد باتیں وقوعہ کی سچائی بارے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں سب سے پہلے تو کوئی بھی ماں اپنے 12دن کے پھول جیسے بچے کو اس طرح بے دردی سے چھوڑ کر کیسے غائب ہو گئی اگر اُسے کوئی زبردستی وہاں سے لیکر گیا تو اُس نے اتنے رش میں شور کیوں نہ مچایا اُسکے بعد اُسکا خاوند جو یہ کہہ رہا ہے کہ وہ پولیس کو اپنی بیوی کی گمشدگی کی اطلاع دیکر اُسے تلاش کرتے کرتے شام کے وقت ڈائیلاسسز سنٹر سے ملحقہ میڈیکل آفیسر کے کمرے کے باہر پہنچا جہاں ڈئیلاسسز سنٹر کے15کے قریب مریض ہمہ وقت داخل ہوتے ہیں اور اُن کے ساتھ اُنکی دیکھ بھال کرنے والے افراد بھی وہاں ہال کے اندر اور باہر بیٹھے رہتے ہیں اُن تمام افراد کی موجودگی میں وہ کمرے میں بیہوش پڑی اپنی بیوی کو ہسپتال سے واپس گھر لے گیا اور وہاں موجود کسی بھی شخص نے یہ سب کچھ نہیں دیکھا تیسری بات یہ کہ بیہوش مریضہ یا کسی بھی ایسے مریض کو گھر سے لوگ ہسپتال لاتے ہیں لیکن بیچارا رکشہ ڈرائیور اپنی بیوی کو اُسے حالت میں گھر لے گیا نہ ہی اُس نے ہسپتال کے ایم ایس کو اس زیادتی بارے اطلاع دی اور نہ ہی پولیس کو دوبارہ اطلاع کرکے بتایا کہ اُسکی بیوی جو گم ہو گئی تھی وہ ہسپتال کے کمرہ سے بیہوش ملی ہے اس سے اگلی بات اُس نے گھر لے جا کر بھی اردگرد کسی ڈاکٹر،ڈسپنسر یا کسی محلے دار کو اسکی حالت بارے نہ بتایا اور28گھنٹے بیہوشی کی حالت میں وہ بیچاری گھر میں ہی پڑی رہی صرف دو یا تین منٹ کے لئے رات کے تیسرے پہر اسکی بیوی نے ہوش آنے پر اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کے بارے میں اپنے خاوند کو بتایا اور پھر بیہوش ہو گئی دوسری جانب ہسپتال ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مبینہ زیادتی کے اس وقوعہ کے روز شازیہ تبسم آئوٹ ڈور ڈاکٹر کے کمرے میں دوپہر دو بجے تک بیٹھی دیکھی گئی جسے ڈاکٹر اور اسکے عملہ نے بار بار وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی مگر اس نے ان کو کچھ بھی بتانے سے گریز کیا بس یہی کہتی رہی کہ اسکا خاوند ابھی آرہا ہے اور اس دوران شازیہ کو وہاں موجود لوگوں نے موبائل فون پر کسی سے بات کرتے بھی دیکھاجس کا پتہ اسکے موبائل فون کے ڈیٹا سے لگایا جا سکے گا اہل محلہ کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ شازیہ کو جب اسکا خاوند عبد ا لرحمٰن گھر لے کر آیا تووہ بیہوش نہ تھی اور اسکے گھر آنے کے بعد رات کے وقت اسکے گھر میںکسی کے رونے اور چیخنے کی آوازیں بھی سنائی دیں جیسے کوئی کسی پر تشدد کر رہا ہو یہ وہ باتیں یا سوالیہ نشان ہیں جو وقوعہ کی حقیقت بارے شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں تاہم رکشہ ڈرائیور ان میں سے کوئی بھی بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ اُس نے میڈیکل رپورٹ پر بھی اعتراض کیا ہے اور وہ پولیس پر الزام عائد کر رہا ہے کہ وہ اُسے اپنی بیوی سے ملنے نہیں دیاجا رہا زیادتی کا یہ واقعہ اپنے پیچھے جو سوالات چھوڑ گیا ہے ان سوالات کے جوابات یا حقائق سے پردہ اُس وقت اُٹھے گا جب ڈی این اے کی رپورٹ سامنے آئے گی اور پولیس کی تفتیش مکمل ہو گی اس واقعہ پر تبصرہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔