مولانا شمس الرحمن معاویہ کا قتل بدترین دہشت گردی ہے: دینی رہنما

09 دسمبر 2013

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مولانا شمس الرحمن معاویہ کا قتل بدترین دہشت گردی ہے۔ پے درپے علماء کا قتل حکومتی ناکامی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف دینی رہنمائوں نے کیا جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما عبدالمجید لدھیانوی‘ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر‘ خواجہ عزیز احمد‘ عزیز الرحمن جالندھری‘ مولانا اللہ وسایا‘ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی‘ مولانا عزیزالرحمن‘ اتحاد اہلسنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد الیاس گھمن‘ تمام مسالک ’’اتحاد علماء کونسل‘‘ اور ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے رہنما علامہ محمد ممتاز اعوان‘ حافظ شعیب الرحمن نے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی۔ دریں اثنا جمعیت اہلحدیث کے رہنما حافظ خالد شہزاد فاروقی نے شمس الرحمن معاویہ کے گھر جا کر تعزیت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرحوم کے بچوں کی کفالت کیلئے 50 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے۔ علاوہ ازیں مجلس احرار اسلام کے رہنما سید عطاء المہیمن بخاری‘ عبداللطیف خالد چیمہ‘ میاں محمد اویس‘ مولانا تنویرالحسن اور محمد قاسم چیمہ پر مشتمل ایک وفد نے مولانا شمس الرحمن معاویہ مرحوم کے والد اور بیٹوں سے ان کے گھر جا کر تعزیت کا اظہار کیا۔ بعدازاں مجلس احرار اسلام کے مرکزی دفتر نیو مسلم ٹائون میں ایک تعزیتی اجلاس ہوا جس میں شمس الرحمن معاویہ کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی۔